اپنی مدد آپ کے تحت ملک بھر میں روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری پر کام جاری ہے، عبدالعلیم خان

لاہور ( آصف اقبال ) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی مدد آپ کے تحت ملک بھر میں سڑکوں اور موٹرویز کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی سالانہ آمدن 66 ارب روپے سے بڑھا کر رواں سال کے لیے 160 ارب روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد 50 ارب روپے رکھی گئی ہے تاکہ ٹول ٹیکس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن نئی سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا سکے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری سے نہ صرف عوام کو سفری سہولتیں میسر آئیں گی بلکہ تجارت، صنعت اور مال برداری کے شعبوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں میں بلوچستان کی قومی شاہراہوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ لاہور اور اسلام آباد کے درمیان مجوزہ رابطہ منصوبے کے ذریعے سفری فاصلہ تقریباً 380 کلومیٹر سے کم کرکے 280 کلومیٹر تک لانے پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے سے گوجرانوالہ، گجرات، لالہ موسیٰ، کھاریاں اور جہلم سمیت مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا اور مسافروں کو سہولت ملے گی انہوں نے بتایا کہ ٹول ٹیکس سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن نے فیصل آباد موٹروے کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ سیالکوٹ موٹروے کو چار سے چھ لین تک وسعت دینے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔ ان کے مطابق لاہور سے خیبر تک موٹروے منصوبے کی تکمیل کا ہدف 2027 مقرر کیا گیا ہے وفاقی وزیر نے بلوچستان ایکسپریس وے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد دور دراز علاقوں میں رابطے بہتر بنانا اور خطرناک سڑکوں پر حادثات کے خدشات کم کرنا ہے، جبکہ پشاور ناردرن بائی پاس کی تکمیل سے شہر میں جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے اور موٹروے تک رسائی بہتر بنانے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین سے آنے والے سامان کو گوادر اور کراچی کے راستے ایران اور دیگر علاقائی منڈیوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہتر سڑکوں اور تجارتی راہداریوں کی بدولت پاکستان کی علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں اہمیت بڑھائی جا سکتی ہے۔عبدالعلیم خان نے صنعتوں کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیداواری لاگت میں کمی اور کاروباری مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم کو تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کو زیادہ شرح سود کے باعث مشکلات کا شکار صنعت کاروں کے قرضوں کی ری شیڈولنگ پر غور کرنا چاہیے تاکہ بند صنعتی یونٹس دوبارہ فعال ہوں اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے انہوں نے ایکسل لوڈ کی مقررہ حدود پر سختی سے عمل درآمد پر بھی زور دیا اور کہا کہ مقررہ وزن سے زیادہ سامان لادنے سے سڑکوں کو نقصان پہنچتا ہے اس پالیسی پر عمل درآمد سے سڑکوں کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں گاڑیوں کی طلب اور کاروباری مواقع بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو سہل بنانے کے لیے پنجاب میں متعلقہ قوانین میں ترامیم ضروری ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کاروباری خلاف ورزیوں کی صورت میں جہاں مناسب ہو، فوری ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے پہلے نوٹس، جرمانے اور اصلاح کے لیے مناسب مہلت دی جائے۔انہوں نے پنجاب ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری ایکٹ کو متعلقہ کاروباری حلقوں کی مشاورت سے بہتر بنانے اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں کمیشن کے معاملات کو شفاف بنانے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔ علی حسام اصغر نے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس میں اضافے سے پہلے بڑے چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کی جائے کیونکہ اس سے مال برداری کی لاگت اور کاروباری اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔لاہور چیمبر کے صدر نے وفاقی وزیر سے ٹرانسپورٹرز اور برآمد کنندگان کے مسائل کے حل کے لیے چیئرمین این ایچ اے اور موٹروے پولیس کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کی درخواست بھی کی۔چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے صنعتی اسٹیٹس اور کاروباری مراکز تک معیاری سڑکوں کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹول ٹیکس میں اضافے سمیت کاروباری برادری کو متاثر کرنے والے اقدامات مشاورت سے کیے جانے چاہییں۔اجلاس میں رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی، لاہور چیمبر کے سابق صدر میاں ابوذر شاد، سابق نائب صدر میاں زاہد جاوید، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی اور تجارت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔








