Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

خوراک کا عالمی بحران: پاکستان کو غربت،مہنگائی اوربقا کا چیلنج درپیش!

جب ایک خاندان کی آمدنی کم ہو، خوراک مہنگی اور ضروریاتِ زندگی ناقابلِ برداشت ہو جائیں تو غریب خاندان کے لیے زندگی گزارنا بھی ایک مسلسل جدوجہد بن جاتا ہے۔پاکستان میں غریب عوام کے سامنے آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ وہ کیا کھائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی محدود آمدنی میں اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھریں گے، ان کی صحت کیسے بچائیں گے اور گھر کے دوسرے اخراجات کیسے پورے کریں گے؟ جب آٹا، دال، گھی، دودھ، سبزیاں، بجلی اور گیس کے بھاری بل اور مکان کے کرائےسب مہنگے ہو جائیں تو ایک کم آمدنی والے خاندان کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟یہ صورتِ حال محض مہنگائی کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی بقا، معاشی انصاف اور ریاست کی سماجی ذمہ داری کا سوال ہے۔ غریب خاندان اپنی بھوک کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ایک مزدور کی روزانہ اُجرت، ایک گھریلو ملازمہ کی آمدنی یا ایک چھوٹے دکاندار کی محدود کمائی جب بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو جائے تو خاندان اپنی روزمرہ کے اخراجات میں کٹوتیاں شروع کردیتاہے۔ پہلے گوشت اور پھل خریدنا کم ہوتا ہے، پھر دودھ اور دوسری غذائیت بخش اشیاء محدود ہو جاتی ہیں۔ بعض خاندان علاج مؤخر کردیتے ہیں، بچوں کی تعلیمی ضروریات پر سمجھوتہ کرلیتے ہیں یا قرض لے کر گھر چلاتے ہیں۔اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں، بزرگوں، بیمار افراد اور خواتین پر پڑ تاہے۔ بچوں کو مناسب غذا نہ ملے تو ان کی جسمانی نشوونما اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں بھوک کا مسئلہ ایک دن کے کھانے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کرتا ہے۔سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ خوراک کی قلت اور غذائیت کی کمی خاموشی سے انسانی صلاحیتوں کو کمزور کرتی ہیں۔ ایک بچہ جو مناسب غذا حاصل نہیں کر پاتا، وہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق تعلیم اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع سے محروم ہو سکتا ہے، کیا صرف محنت کرنے سے غربت ختم ہو سکتی ہے؟پاکستان میں لاکھوں افراد محنت مزدوری کرتے ہیں، لیکن محنت کے باوجود ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر روزگار غیر مستقل ہو، اُجرت محدود ہو اور اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو محنت کرنے والا شخص بھی غربت کے دائرےسے باہر نہیں نکل سکتا ۔اس لیے بھوک کا حل صرف غریبوں کو زیادہ محنت کرنے کا مشورہ دینا نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھیں، اُجرتیں زندگی کے حقیقی اخراجات سے ہم آہنگ ہوں، چھوٹے کاروباروں کو سہولت ملے اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کئےجائیں۔پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خوراک مہنگی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ معاشرے کے ایک بڑے حصے کے لیے مناسب مقدار اور معیار کی خوراک خریدنا مشکل ہو رہا ہے۔ ملک زرعی پیداوار رکھتا ہے، لیکن زرعی صلاحیت اور عوام کی غذائی ضروریات کے درمیان مؤثر تعلق قائم کرنے میں متعدد رکاوٹیں موجود ہیں۔
عالمی بینک کی 29 جون 2026 کی جاری کردہ علاقائی رپورٹ Building Food Security, Creating Jobs نے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں غذائی تحفظ، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت کے باہمی تعلق کو نمایاں کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وسیع خطے میں تقریباً ہر چھٹا فرد خوراک تک قابلِ اعتماد رسائی سے محروم ہے، جب کہ 42 فیصد آبادی صحت مند غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ پاکستان کے لیے اس رپورٹ میںبنیادی پیغام یہ ہے کہ غذائی تحفظ کو صرف زرعی پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ملک کو پیداوار، پانی، ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل، منڈیوں، روزگار اور غذائیت کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنا ہوگا۔عالمی بینک کے اعداد و شمار میں شامل اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کے اشاریئے کے مطابق، پاکستان میں 2024 کے دوران تقریباً 22 فیصد آبادی کو معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا تھا۔ غذائی عدم تحفظ سے مراد صرف بھوکا رہنا نہیں۔ اس میں وہ صورتِ حال بھی شامل ہے جب کوئی خاندان خوراک کی کمی، مہنگائی یا مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی خوراک کی مقدار کم کرنے، غذائیت سے بھرپور اشیاء چھوڑنے یا غیر متوازن غذا پر گزارا کرنے پر مجبور ہو جائے۔عالمی بینک نے جون 2026 میں اپنی اس رپورٹ میں یہ بھی خبر دی کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، توانائی اور کھاد کی بڑھتی ہوئی لاگت، موسمیاتی خطرات اور ممکنہ تجارتی پابندیاں خوراک کی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے عالمی بینک کی 2022 کی موسمیاتی و ترقیاتی رپورٹ نے زمین کی زرخیزی میں کمی، پانی اور زرعی وسائل کے غیر مؤثر استعمال اور تحقیق کی کمی کو زرعی پیداوار کے لیے اہم چیلنج قرار دیا تھا۔ اس رپورٹ نے موسمیاتی موافقت، ماحول دوست زرعی طریقوں اور قدرتی وسائل کی بحالی میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
خوراک کا بحران محض گندم، چاول، آٹے یا سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیںبلکہ یہ انسانی زندگی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف سے جڑا ہوا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ جب کسی ملک میں خوراک موجود ہو، لیکن اس کی قیمت عام شہری کی پہنچ سے باہر نکل جائے، تو یہ بحران پیداوار کی کمی سے آگے بڑھ کر غربت، عدم مساوات اور حکومتی پالیسیوں کی آزمائش بن جاتا ہے۔ پاکستان آج اسی پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار ہے۔ غذائی عدم تحفظ سے مراد صرف بھوکا رہنا نہیں۔ اس میں وہ صورتِ حال بھی شامل ہے جب کوئی خاندان خوراک کی کمی، مہنگائی یا مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی خوراک کی مقدار کم کرنے، غذائیت سے بھرپور اشیا چھوڑنے یا غیر متوازن غذا پر گزارا کرنے پر مجبور ہو جائے۔عالمی بینک کے خدشات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی غذائی بحران اور پاکستان کے داخلی مسائل کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان کے باہمی تعلق کا جائزہ لینا چاہیئے،اس صورتِ حال میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہر ملک پر یکساں نہیں پڑتا۔ ترقی یافتہ ممالک کے پاس مالی وسائل، ذخائر اور درآمدی اخراجات برداشت کرنے کی زیادہ گنجائش ہوتی ہے، جب کہ پاکستان جیسے ممالک میں مہنگائی اور محدود گھریلو آمدنی کے باعث عالمی منڈی کا معمولی جھٹکا بھی کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ جب خاندان کی آمدنی غیر مستحکم ہو تو غذائی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر زرعی نظام کے ساتھ معیاری روزگار پیدا کرنا بھی غذائی تحفظ کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔عالمی بینک نے پاکستان کے لیے اپنے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں بچوں کی غذائیت بہتر بنانے اور پانی و زراعت سے متعلق موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں غذائی تحفظ مضبوط کرنے کو اہم اہداف میں شامل کیا ہے۔
بھوک کے خلاف جنگ صرف غریب کی نہیں، پورے معاشرے کی ہےپاکستان میں بڑھتی ہوئی بھوک کا مقابلہ غریب عوام تنہا نہیں کر سکتے۔ وہ پہلے ہی محدود وسائل میں اپنے بچوں کو پالنے، گھر چلانے اور روزگار برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان سے مزید قربانیوں کا مطالبہ کرنے کے بجائے ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جن میں محنت کرنے والے کو مناسب آمدنی، مستحق کو بروقت امداد اور ہر بچے کو متوازن غذا میسر ہو۔حکومت کو فوری امداد اور طویل مدتی معاشی اصلاحات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا، جب کہ معاشرے کو بھی اپنے محروم افراد کے لیے عملی تعاون کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔کیونکہ بھوک صرف ایک انسان کے خالی پیٹ کا نام نہیں، یہ اس امید کا کمزور پڑ جانا بھی ہے کہ کل آج سے بہتر ہوگا۔اور کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے شہریوں کو یہ یقین ہو کہ غربت ان کے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرے گی اور دو وقت کی روٹی ان کے لیے ایک ناقابلِ حصول خواب نہیں بنے گی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button