گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کی تجویز، کسان اتحاد کا حکومتی عمل درآمد پر زور

لاہور ( آصف اقبال ) حکومت کی جانب سے فوڈ سکیورٹی یقینی بنانے اور کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ گزشتہ دو سے تین سال کاشتکاروں کے لیے انتہائی مشکل رہے اور انہیں اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل سکی۔لاہور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ گندم تمام فصلوں کا انجن ہے اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے گندم کے کاشتکاروں کو پیداواری اخراجات کے مطابق مناسب معاوضہ ملنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کسانوں کو گندم 3 ہزار سے ساڑھے 3 ہزار روپے فی من کے حساب سے فروخت کرنا پڑی، جس سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایگریکلچرل کونسل کی جانب سے گندم کی قیمت 4500 روپے فی من تجویز کیے جانے سے کسانوں کو بہتر معاوضے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اگر تمام صوبے مجوزہ قیمت پر عمل درآمد کریں تو اس سے زرعی شعبے کی بہتری اور کسانوں کے معاشی مسائل میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔خالد محمود کھوکھر نے زرعی پالیسیوں کی تشکیل میں کاشتکاروں کی براہ راست شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایگریکلچرل کونسل میں کسانوں کی نمائندگی یقینی بنائی جائے تاکہ پالیسی سازی کے دوران زمینی حقائق، پیداواری اخراجات اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھا جا سکے۔کسان اتحاد کے مطابق گندم کی مجوزہ قیمت پر مؤثر عمل درآمد، سرکاری سطح پر ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام، اور زرعی پالیسیوں میں کاشتکاروں کی شمولیت ملکی فوڈ سکیورٹی اور زرعی معیشت کے استحکام کے لیے اہم اقدامات ہیں۔



