بین الاقوامی
Trending

امریکا ایران مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ بے نتیجہ ختم، جنگ کے خطرات بڑھ گئے

جنیوا: امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر ہونے والے اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، تاہم فریقین نے آئندہ ہفتے دوبارہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیش رفت ہوئی ہے اور جلد مزید تکنیکی سطح کی بات چیت ہوگی۔ عمانی ثالثوں نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگلا دور ویانا میں متوقع ہے۔دوسری جانب امریکا کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی قیادت صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حکام ایرانی تجاویز سے مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے۔اہم اختلاف ایران کے یورینیم افزودگی کے حق اور اس کے ذخائر کے مستقبل پر برقرار ہے۔ امریکا مستقل ضمانتیں اور سخت معائنہ نظام چاہتا ہے تاکہ ایران کبھی جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ ہو سکے، جبکہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتا ہے اور محدود سطح پر افزودگی کی اجازت کا خواہاں ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اس وقت افزودگی نہیں کر رہا، لیکن وہ اس صلاحیت کو بحال کرنے کی کوشش میں ہے۔ انہوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات نہ کرنے کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔ادھر خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری بیڑے اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق سفارتی عمل جاری رہنے کے باوجود فوجی کارروائی کے خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا کردار بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی تکنیکی تصدیق ان کے ادارے کو کرنا ہوگی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button