
نیو یارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی نے اپنے عہدے کا باضابطہ حلف اٹھانے کے بعد واضح کیا ہے کہ وہ شہر میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ ایجنڈے پر عمل درآمد کریں گے اور عام محنت کش طبقے کے لیے نیو یارک کو زیادہ قابلِ رہائش اور سستا بنانے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔سٹی ہال کے باہر منعقدہ عوامی تقریب میں حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما زہران ممدانی نے کہا کہ ان کی حکومت کسی ارب پتی یا بااثر طبقے کے مفادات کے تابع نہیں ہوگی بلکہ تمام نیو یارکرز کو جواب دہ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور ڈیموکریٹک سوشلسٹ منتخب ہوئے ہیں اور اسی نظریے کے تحت حکمرانی کریں گے۔زہران ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، کرایوں میں اضافے اور روزمرہ اخراجات کو مرکزی مسئلہ بنایا تھا۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ کرایوں کو منجمد کیا جائے گا، مفت بس سروس متعارف کرائی جائے گی اور بچوں کے لیے یونیورسل چائلڈ کیئر فراہم کی جائے گی۔تقریب میں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے بھی شرکت کی اور ممدانی کی پالیسیوں کی حمایت کی۔ برنی سینڈرز نے کہا کہ سستی رہائش اور بہتر سہولیات فراہم کرنا کوئی انتہاپسندانہ سوچ نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق ہے۔دوسری جانب امریکی ریپبلکن پارٹی نے زہران ممدانی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “ریڈیکل سوشلسٹ” قرار دیا ہے۔ ریپبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ممدانی کی پالیسیاں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے آئندہ انتخابات میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔زہران ممدانی نے اس سے قبل نجی طور پر قرآنِ پاک پر حلف اٹھا کر نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام مذاہب اور طبقات کے لوگوں کے لیے بلاامتیاز کام کریں گے۔



