کھیل

بھارت غیر ملکی لیگز میں پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت روکنے لگا

بھارت غیر ملکی لیگز میں پاکستانی کرکٹرز کی شمولیت روکنے لگا، دی ہنڈریڈ لیگ کے نئے بھارتی مالکان نے غیر اعلانیہ پابندی لگادی۔برطانوی میڈیا کے مطابق دی ہنڈریڈ کی آٹھ میں سے چار ٹیمیں مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز اب جزوی یا مکمل طور پر ان کمپنیز کی ملکیت میں ہیں جو آئی پی ایل ٹیموں کو کنٹرول کرتی ہیں۔آئندہ ماہ ہونے والے آکشن میں بھارتی ملکیت رکھنے والی ٹیمیں پاکستانی پلیئرز کو منتخب نہیں کریں گی۔پاکستانی کھلاڑی 2009 سے آئی پی ایل میں بھی شریک نہیں ہوئے، اس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی ہے۔انگلش بورڈ کے ایک سینئر آفیشل نے پلیئر ایجنٹ کو اشارہ دیا کہ آئی پی ایل سے تعلق نہ رکھنے والی ٹیموں کو ہی پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی ہوگی۔ایک اور ایجنٹ نے اس صورتحال کو بھارتی سرمایہ کاری والی مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز کا غیر تحریری اصول قرار دیا۔انگلش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ مجھے توقع ہے کہ تمام ممالک کے کھلاڑی تمام ٹیموں کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا تھا کہ لیگ میں ’انسدادِ امتیاز پالیسی‘ نافذ ہے۔ تاہم مذکورہ چار ٹیموں یا مالکان نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔البتہ ای سی بی کے ترجمان نے کہا کہ دی ہنڈریڈ دنیا بھر سے مرد و خواتین کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتی ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ تمام آٹھ ٹیمیں اسی تنوع کی عکاسی کریں گی۔تقریباً 18 ممالک کے ایک ہزار کرکٹرز نے نیلامی کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، ان میں آسٹریلیا، جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے بالترتیب 50 سے زائد کھلاڑی شامل ہیں۔پاکستان کے دو سابق انٹرنیشنل کھلاڑی محمد عامر اور عماد وسیم گزشتہ سال کے ٹورنامنٹ میں شریک ہوئے تھے، وہ نئے سرمایہ کاروں کے آنے سے قبل آخری ایڈیشن تھا۔اس سے پہلے شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف بھی مقابلوں میں شامل ہو چکے ہیں تاہم اب تک کسی پاکستانی خاتون کھلاڑی نے ویمنز ہنڈریڈ میں حصہ نہیں لیا۔پاکستانی ٹیم لیگ کے دوران ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے والی ہے، مگر وائٹ بال اسپیشلسٹ کھلاڑی دستیاب ہوں گے۔اب تک کوئی پاکستانی کھلاڑی ایس اے ٹوئنٹی میں بھی شامل نہیں ہوا جو 2023 میں شروع ہوئی تھی۔ اس کی تمام چھ ٹیمیں آئی پی ایل مالکان کی ہی ہیں، ان میں سے چار گروپس اب دی ہنڈریڈ میں بھی موجود ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button