آسٹریلیا کے بعد ویسٹ انڈیز بھی ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا

ر وٹھے شائقین کو کرکٹ کی جانب لانے کے لیے بورڈ کا اہم اقدام سامنے آگیا جس کے تحت ویسٹ انڈیز میں بھی رات کو ٹیسٹ میچ ہوگا۔پنک بال مقابلے کے لیے میزبان کو سبائنا پارک میں فلڈ لائٹس اَپ گریڈ ہونے کا انتظار ہے، رواں ماہ آسٹریلوی ٹیم جمیکا میں انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے آئے گی۔تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا باقاعدگی سے ہوم سیزن میں ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کھیل رہا ہے، متعدد ممالک میں اب تک پنک بال سے طویل فارمیٹ کا کوئی میچ نہیں کھیلا گیا، ان میں ویسٹ انڈیز بھی شامل ہے، وہاں کرکٹ میں شائقین کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے اور بورڈ انھیں دوبارہ راغب کرنے کے لیے اس سیزن میں آسٹریلیا کے خلاف ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کا خواہاں ہے۔جولائی میں شیڈول سیریز کیلیے ٹکٹوں کی فروخت شروع کر دی گئی، تیسرے میچ کو ڈے نائٹ ٹیسٹ قرار دیا گیا ہے، یہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے شروع ہوگا۔ اس سے قبل سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچز بالترتیب باربا ڈوس اور گرینیڈا میں کھیلے جائیں گے۔ویسٹ انڈیز کو نائٹ ٹیسٹ کی میزبانی کا خواب پورا کرنے کے لیے سبائنا پارک میں فلڈ لائٹس اَپ گریڈ کرنے کے کام کی تکمیل کا انتظار ہے تاکہ اسے انٹرنیشنل معیار تک لایا جائے۔ اس وینیو نے لائٹس کے خراب معیار کی وجہ سے ابھی تک ایک بھی ڈے نائٹ انٹرنیشنل میچ کی میزبانی نہیں کی۔آسٹریلیا نے اب تک کسی دوسرے ملک میں ڈے نائٹ ٹیسٹ نہیں کھیلا، رواں ماہ آفیشلز سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے جمیکا کا دورہ کریں گے۔کرکٹ ویسٹ انڈیز کے چیف ایگزیکٹیو کرس ڈہرنگ نے کہا کہ آسٹریلوی بورڈ تیسرا ٹیسٹ ڈے نائٹ فارمیٹ میں کھیلنے کے لیے تیار ہے، البتہ اس کا انحصار سبائنا پارک میں نئے لائٹنگ سسٹم کی تنصیب پر ہوگا، ہم اس حوالے سے جمیکا کرکٹ ایسوسی ایشن اور حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں، اس میں تاخیر ہو رہی ہے مگر ہم فلڈ لائٹس کی جلد تنصیب اور یہاں پر پہلے نائٹ ٹیسٹ میچ کی میزبانی کے حوالے سے کافی پْرامید ہیں۔جمیکا کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ڈونووان بینیٹ نے فروری میں کہا تھا کہ ہمیں جنوری کے آخر تک لائٹس کی تنصیب مکمل ہونے کی توقع تھی تاہم کچھ تکنیکی بنیادوں پر تبدیلی کرنا پڑی، ہمیں چین سے سستی فلڈ لائٹس مل سکتی تھیں مگر ان کا وزن بہت زیادہ تھا۔صدر جمیکا کرکٹ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ سبائنا پارک کے موجودہ اسٹینڈز میں تیز ہواؤں کی وجہ سے مسئلہ ہوسکتا تھا، ہمارے مقامی سپلائر یہ لائٹس اب انگلینڈ سے منگوا رہے ہیں، اسی وجہ سے تاخیر ہوئی۔