200 ملین ڈالر بجٹ جیسی فلم اے آئی کی مدد سے صرف چوبیس گھنٹے میں تیار، ویڈیو وائرل

سوشل میڈیا پر ایک اے آئی جنریٹڈ فلم کلپ تیزی سے وائرل ہورہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ صرف ایک دن میں 200 ملین ڈالر (تقریباً 60 ارب پاکستانی روپے) کے برابر ’’ہائی-بجٹ‘‘ فلم جیسا مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔اس بیان نے نہ صرف انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بلکہ ہالی ووڈ کے فلم سازوں اور ڈیجیٹل تخلیق کاروں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جرمن کریئیٹو اسٹوڈیو ’دی ڈور برادرز‘ نے تقریباً تین منٹ کی سائنس فکشن مختصر فلم جاری کی، جس میں بڑے شہروں کے تباہ کن مناظر، دھماکے، اور سینماٹک شاٹس دکھائے گئے ہیں جو روایتی بڑے فلم ساز اداروں کے معیار کی یاد دلاتے ہیں۔اسٹوڈیو کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو 24 گھنٹے میں مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جس میں فلمی عمل جیسے کیمرا، اداکار، حقیقی سیٹ یا روایتی VFX پروسیسنگ شامل نہیں تھی۔اگرچہ 200 ملین ڈالر کا ذکر فلم کے اصل بجٹ کے طور پر نہیں بلکہ ’’بڑے فلمی پروڈکشن‘‘ کی پروڈکشن ویلیو کے تناظر میں کیا گیا، اس کے باوجود یہ تجربہ اے آئی کی تیز رفتار قابلیت کو اجاگر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اے آئی جنریٹو سسٹمز آج کل بڑے سینماٹک مناظر کس حد تک تخلیق کرسکتے ہیں۔ویڈیو کو اسٹوڈیو نے اپنی DorLabs پلیٹ فارم کے ٹولز استعمال کرتے ہوئے بنایا، جہاں بشمول تصور، بصری مناظر، اور تدوین سن کچھ اے آئی کی مدد سے کیا گیا۔ اس پروجیکٹ میں سینماٹک کیمرہ موشن اور بڑے شہر کے مناظر جیسے عناصر شامل کیے گئے، جس کے لیے عموماً مہینوں کی محنت اور سیکڑوں ویژوئل ایفیکٹس آرٹسٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔اس ویڈیو کے آن لائن وائرل ہونے کے بعد صارفین کے ملے جلے جذبات سامنے آئے ہیں۔ بہت سے ناظرین نے فوٹو ریئلسٹک مناظر اور اناٹ موشن کی تعریف کی ہے، جبکہ کچھ نے فزکس کی منطقی غلطیاں، کردار کی کمی، اور کہانی کی کم گہرائی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکمل فلم سے زیادہ ایک اے آئی ٹیکنیکل ڈیمو ہے۔یہ تجربہ نہ صرف اے آئی کی صلاحیتوں کو سامنے لاتا ہے بلکہ فلم اور ویژوئل ایفیکٹس انڈسٹری میں روایتی طریقوں اور انسانی محنت کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک مثال ہے کہ فلم کے بڑے مناظر اور بصریاتی معیار کو ایک معمولی وقت میں حاصل کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اے آئی اب بھی کرداروں اور کہانی کی گہرائی جیسے انسانی عوامل میں مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہوا۔اس وائرل ویڈیو کلپ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی صرف مختصر ویڈیوز یا VFX میں نہیں بلکہ مستقبل میں لمبی فیچر فلموں میں بھی حصہ لے سکتا ہے، جو فلمی صنعت کے ڈھانچے کو بدل سکتا ہے چاہے وہ تخلیق، تخیل، یا روایت ہو۔



