لڑائی چھوڑو ،ترقی کرو۔۔۔سابق وزیر خارجہ جواد ظریف کا ایران کو جنگ ختم کرنے کا مشورہ

ایران کے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موجودہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے فتح کا اعلان کرے اور ایک ایسا معاہدہ کرے جو نہ صرف موجودہ تنازع ختم کرے بلکہ مستقبل میں کسی نئی جنگ کو بھی روکے۔امریکی جریدے فارن افیئرز میں شائع اپنے تفصیلی مضمون میں جواد ظریف نے ایران کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کی۔انہوں نے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کچھ حدود قبول کرے اور اس کے بدلے تمام پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرے۔انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی جا سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ظریف کے مطابق ایران کو امریکا کے ساتھ باہمی عدم جارحیت کا معاہدہ کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے، جس کے تحت دونوں ممالک مستقبل میں ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاشی تعاون کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔جواد ظریف کے مطابق اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو ایران اپنی توجہ بیرونی خطرات سے ہٹا کر اندرونی ترقی، معیشت اور عوامی فلاح پر مرکوز کر سکتا ہے، جس سے ملک کے لیے ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ظریف کی یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور سفارتی حل کی تلاش جاری ہے۔



