بین الاقوامی
Trending

مشرق وسطیٰ جنگ،برطانیہ بھی میدان میں کود پڑا،آبنائے ہرمزکھلوانے کی کوششیں

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں دنیا بھر کو توانائی بحران کا سامناہے اور مہنگائی بھی بڑھنےلگی ہے۔اسی تناظر میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس ہفتے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ تیار کرنے کے لیے 35 ممالک کے نمائندوں کو ایک سمٹ میں اکٹھا کرنے کافیصلہ کیا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر اس سمٹ کی میزبانی کریں گی۔ جس کا مقصد ان سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لینا ہے جو دنیا کی سب سے اہم توانائی ترسیل کے بحری راستے کو کھلوانے میں مدد کر سکتے ہیں۔کیئر اسٹارمر نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ اس میٹنگ کے بعد، ہم اپنے فوجی منصوبہ سازوں کو بھی بلائیں گے تاکہ یہ دیکھیں کہ ہم کس طرح اپنی صلاحیتوں کو مارشل کر سکتے ہیں اور جنگ بند ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو قابل رسائی اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاز رانی، مالیات اور توانائی کے شعبوں میں برطانوی کاروباری رہنماؤں سے بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت کے بارے میں بات کی گئی ہے۔کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ کاروباری رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں بنیادی چیلنج کا سامنا ہے جو انشورنس کا نہیں بلکہ تیل بردار جہازوں کی حفاظت کا ہے۔ لہذا ہمیں فوجی طاقت اور سفارتی سرگرمی کی ایک ساتھ ضرورت ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button