ٹرمپ کی آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کے بجلی گھروں اور تیل کے کنوؤں پر حملوں کی دھمکی

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملوں کی دھمکی دے دی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ اگر ایران اس لمحے سے اگلے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بغیر کسی خطرے کے مکمل طور پر نہیں کھولتا تو امریکا ایران کے مختلف بجلی گھروں پر حملہ کرے گا اور انہیں تباہ کر دے گا جس کا آغاز سب سے بڑے بجلی گھر سے کیا جائے گا۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس بجلی گھر کو سب سے بڑا قرار دے رہے ہیں تاہم اشارہ دیا کہ جو بھی سب سے بڑا بجلی گھر ہے وہ تباہ کیا جائے گا۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے کہا کہ اگر ایران کے ایندھن اور توانائی کے ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں امریکا کے تمام توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گی۔ٹرمپ کے یہ سخت بیانات اس کے صرف ایک دن بعد سامنے آئے ہیں جب انہوں نے اس جنگ کو ’’ختم کرنے‘‘ کی بات کی تھی، جو انہوں نے 28 فروری کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر شروع کی تھی، اس وقت جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔جمعہ کے روز ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ کہا تھا کہ ’’امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی بڑی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔”تاہم حالیہ بیان ان کے پچھلے بیان کی مکمل طور پر نفی کررہا ہے کہ امریکا اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکا جس پر برہم ہوکر امریکا نے ایران کے بجلی گھروں اور تیل کے کنوؤں پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔



