پاکستانی شہری ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کا مجرم قرار

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ ایک پاکستانی شہری کو 2 سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم امریکی سیاستدانوں کو ایران کے کہنے پر قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے پر مجرم قرار دے دیا گیا۔آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2020 میں واشنگٹن کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ اور دیگر کو نشانہ بنانے کے منصوبے میں امریکا میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جب کہ ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت میں تھے۔وفاقی استغاثہ نے بتایا کہ 2024 کی سازش کے اہداف میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور نکی ہیلی بھی شامل تھے، جو اس سال ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف لڑے تھے۔ڈی او جے نے بیان میں کہا کہ آصف مرچنٹ کو ایرانی حکام کی ہدایت پر "پیسوں کے عوض قتل اور قومی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائی کا ارتکاب کرنے” کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا۔نیو یارک سٹی بورو آف بروکلین میں مقدمے کی سماعت پچھلے ہفتے شروع ہوئی تھی، جب کہ اس کے چند دن بعد ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کا حکم دیا، یہ حملہ برسوں میں خطے کی سب سے بڑی جنگ میں بدل گیا ہے۔



