بین الاقوامی
Trending

مغربی کنارے پر قبضے کا اسرائیلی اقدام، دنیا کے 100 ممالک نے مذمت کردی

یروشلم: مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو نام نہاد ’ریاستی اراضی‘ قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک اور تین بڑے عالمی و علاقائی بلاکس نے سخت ردعمل دیا ہے۔عرب لیگ، یورپی یونین اور او آئی سی نے اسرائیل سے اس فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔فلسطینی مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اقدام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے اور دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔آٹھ رکنی مسلم بلاک کے وزرائے خارجہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن اور آبادکاری کے نئے طریقہ کار کی منظوری کی مذمت کی ہے۔ادھر اسرائیلی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ایسے اقدامات کی منظوری دی جن کے تحت ویسٹ بینک کے ایریاز اے اور بی میں اسرائیلی سول اختیار کو بڑھایا جائے گا، جو مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد علاقے پر مشتمل ہیں۔اسرائیلی این جی او ’پیس ناؤ‘ نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی نئی منصوبہ بندی 1967 کے بعد پہلی بار یروشلم کی حدود کو مغربی کنارے تک وسعت دینے کے مترادف ہو سکتی ہے۔تنظیم کے مطابق یہ توسیع جیووا بنیامین (ایڈم) نامی بستی کے مغرب کی جانب ہوگی، تاہم اس کا براہِ راست جغرافیائی تعلق موجودہ بستی سے نہیں ہوگا بلکہ اسے یروشلم سے جوڑا جائے گا۔دوسری جانب مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے سینئر امام شیخ محمد العباسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں مسجد کے احاطے میں داخلے سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا ہے، اور اس پابندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔یہ اقدام ماہِ رمضان سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے یروشلم داخلے کے 10 ہزار اجازت ناموں کی سفارش کر رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور امن عمل کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button