
سڈنی: آسٹریلیا کے علاقے بونڈی بیچ میں مبینہ فائرنگ واقعے کے مرکزی ملزم نوید اکرم پیر کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ یہ ان کی پہلی عوامی پیشی تھی جو دسمبر میں پیش آنے والے مہلک حملے کے بعد عمل میں آئی۔استغاثہ کے مطابق نوید اکرم اور ان کے والد ساجد اکرم پر حنوکہ کی ایک تقریب پر حملے کا الزام ہے۔ پولیس کارروائی کے دوران ساجد اکرم ہلاک ہو گئے تھے۔نوید اکرم پر دہشت گردی، 15 افراد کے قتل، متعدد افراد کو قتل کی نیت سے زخمی کرنے اور دھماکہ خیز مواد نصب کرنے سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔وہ سڈنی کی عدالت میں تقریباً پانچ منٹ تک ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران زیادہ تر قانونی اور تکنیکی امور زیر بحث آئے، جن میں بعض متاثرین کی شناخت کو خفیہ رکھنے سے متعلق احکامات شامل تھے۔عدالت کے مطابق ملزم نے جج کے سوال پر صرف ایک لفظ “ہاں” کہا۔ ان کی اگلی پیشی 9 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ملزم کے وکیل بین آرچبولڈ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کو سخت حالات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا ملزم جرم قبول کرے گا یا نہیں۔حکام کے مطابق حملے سے قبل دونوں ملزمان نے نیو ساؤتھ ویلز کے دیہی علاقے میں مبینہ طور پر اسلحہ کی تربیت حاصل کی اور کئی ماہ تک منصوبہ بندی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے سے کچھ عرصہ قبل وہ فلپائن کے جنوبی علاقے کا دورہ بھی کر کے واپس آئے تھے۔یہ واقعہ آسٹریلیا میں تقریباً تین دہائیوں کے دوران پیش آنے والے بدترین اجتماعی حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ملک میں اسلحہ قوانین اور یہودی برادری کے تحفظ سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔



