ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، یورپی ممالک کا آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے صاف انکار

برسلز: یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے جاری تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہتے۔یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ یوان واڈیفل نے کہا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع میں کسی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو اپنے اہداف اور حکمت عملی کے بارے میں اتحادیوں کو واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی کہا کہ ان کا ملک فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے گا۔برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی واضح کیا کہ ان کا ملک اس تنازع کو نیٹو مشن نہیں سمجھتا اور وہ وسیع جنگ میں شامل نہیں ہوگا، البتہ اتحادیوں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے۔



