
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا کا چین کے ساتھ کسی بھی قسم کا فری ٹریڈ معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا۔مارک کارنی نے کہا کہ چین کے ساتھ حالیہ سمجھوتا فری ٹریڈ ڈیل نہیں بلکہ صرف چند مخصوص شعبوں میں ٹیرف میں کمی سے متعلق ہے، جن پر حالیہ برسوں میں اضافی محصولات عائد کیے گئے تھے۔ان کے مطابق امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان موجود تجارتی معاہدے کے تحت غیر مارکیٹ معیشتوں کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے سے پہلے اطلاع دینا لازم ہے، اور کینیڈا چین کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کر رہا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ چین کینیڈا پر اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور خبردار کیا کہ کینیڈا کو امریکا کے لیے چینی مصنوعات کا راستہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ چین سستی اشیا کینیڈا کے ذریعے امریکی منڈی میں داخل کرے۔واضح رہے کہ 2024 میں کینیڈا نے امریکا کی پیروی کرتے ہوئے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد اور اسٹیل و ایلومینیم پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیے تھے، جس کے جواب میں چین نے کینیڈا کی کینولا آئل، سور اور سی فوڈ مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگا دیے تھے۔حالیہ دنوں میں کینیڈا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیرف میں جزوی نرمی کی ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام محدود اور مشروط ہے اور اسے فری ٹریڈ معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔



