
سوئیڈن نے بھی دیگر ممالک کی طرح افغان تارکین وطن کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے انھیں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوئیڈن حکومت کی جانب سے افغان تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے کی وجہ ان کے جرائم میں ملوث ہونا ہے۔سوئیڈن نے خاص طور پر ان افغان شہریوں پر سخت مؤقف اپنایا ہے جو جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں یا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں۔سوئیڈن کے امیگریشن وزیر یوان فورسّل نے بتایا کہ افغان شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے باعث اسائلم کے درجنوں کیسز مسترد ہوچکے ہیں۔سوئیڈن کی سرکاری اداروں کے بقول 2024 میں جرائم اور نظام کے غلط استعمال کے باعث 2 ہزار 800 افغانیوں کے رہائش کے اجازت نامے منسوخ یا ملک بدر کیے گئے۔یاد رہے کہ سوئیڈن میں جرم کرنے والے افراد کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار مخصوص قومیت کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ محفوظ نہیں کیے جاتے۔تاہم بعض انفرادی کیسز میڈیا یا عدالتی رپورٹوں میں سامنے آئے ہیں جنھوں نے افغان شہریوں کے سوئیڈن میں جرائم کا پردہ چاک کیا ہے۔



