
طالبان رجیم کا ایک نیا منظور شدہ فوجداری ضابطہ سامنے آیا ہے جس میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔لندن میں قائم افغان انسانی حقوق کی تنظیم رواداری نے افغان عدالت کے فوجداری ضابطے کی کاپی کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔نیا فوجداری ضابطہ بنیادی آزادیوں کو محدود کرتا ہے اور من مانی حراست اور سزاؤں کی اجازت دیتا ہے۔راوداری نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے طالبان عدالتوں کے ضابطہ فوجداری کی ایک کاپی حاصل کی ہے جسے حال ہی میں طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے منظور کیا ہے اور عمل درآمد کے لیے ملک بھر کے عدالتی اداروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔راوداری نے کہا کہ مسودہ تین حصوں، 10 ابواب اور 119 آرٹیکلز پر مشتمل ہے جو براہ راست بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں سے متصادم ہے۔ گروپ نے مزید کہا کہ یہ دفاعی وکیل تک رسائی، خاموش رہنے کے حق یا معاوضے کے حق کی ضمانت نہیں دیتا اور نہ ہی یہ منصفانہ ٹرائل کے لیے دیگر بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔



