
ماسکو: کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے، جس میں دو طرفہ تعلقات، انسانی بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال خصوصاً غزہ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، فلسطینی صدر دو روزہ دورے پر روس پہنچے ہیں۔صدر پیوٹن نے ملاقات کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ روسی تعلقات کو گہرے اور تاریخی قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1988 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور ماسکو آج بھی اسی پوزیشن پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کا مکمل قیام ہے۔روسی صدر نے بتایا کہ روس نے غزہ میں بحران کے دوران فلسطینی امداد کے سلسلے میں 800 ٹن سے زائد انسانی سامان بھیجا اور 32 امدادی آپریشن انجام دیے، جن میں گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔مذاکرات کے دوران امریکی صدر کی تجویز کردہ Board of Peace کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی، پیوٹن نے کہا کہ روس اس نئی ساخت میں ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جسے غزہ کی بحالی اور فلسطینی عوام کی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ رقم امریکہ میں منجمد روسی اثاثوں میں سے لی جائے گی، جو سابق امریکی انتظامیہ کے دور میں روکے گئے تھے۔ پیوٹن کے مطابق یہ معاملہ امریکی نمائندوں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ اسی شام ہونے والی ملاقات میں اٹھایا جائے گا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے روس کو "پچاس سالہ دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی اور مالی مدد کی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ غزہ میں 260 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ 85 فیصد بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے اور کسی بھی بیرونی کوشش کے تحت جبری نقل مکانی قبول نہیں کریں گے، انہوں نے روس کی ثالثی کوششوں اور دو ریاستی حل کی حمایت کو سراہا۔



