بین الاقوامی
Trending

ایران میں ہنگامہ آرائی، سرغنہ خاتون کا اسرائیلی وزیراعظم سے براہ راست رابطوں کا اعتراف

تہران:ایران میں حالیہ ہنگامہ آرائی میں ملوث ایک گروپ کی سرغنہ خاتون نے ایران میں بدنظمی پھیلانے میں تعاون کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے براہ راست رابطوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس غلام حسین محسن کی تہران میں گرفتار افراد سے تفتیش کے دوران 7 مختلف زبانیں جاننے والی ایک خاتون نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ملک میں ہنگامہ آرائی اور کشیدگی پھیلانے میں تعاون کے لیے رابطے کیے۔ایرانی حکام نے بتایا کہ گرفتار خاتون نے تسلیم کیا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران پہلوی کے حامی سوشل میڈیا نیٹ ورک کے سربراہ اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں شروع کی گئیں وحشیانہ کارروائیوں کے دوران براہ راست اسرائیل حامی حلقوں سے رابطے میں تھیں۔گرفتار خاتون نے تصدیق کی ہے کہ ان کی کوششوں میں نیتن یاہو کو براہ راست پیغام پہنچانا بھی شامل تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مزید دو گرفتار افراد نے بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے ملک میں کشیدگی اور حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے ایک پولیس اسٹیشن کونشانہ بنایا۔اسی طرح ایک اور ملزم نے جنوبی تہران میں اپنے اپارٹمنٹ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں پرشاٹ گن فائرنگ کا اعتراف کیا۔ایرانی چیف جسٹس نے گرفتار افراد کے بیانات ریکارڈ کیے اور اس دوران ایک ملزم نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کار پولیس اہلکاروں پر چڑھائی تھی، دیگر تین ملزمان نے بیان دیا کہ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں کے سروں پر کنکریٹ بلاکس گرائے تھے۔چیف جسٹس غلام حسین محسن نے کہا کہ تمام ملزمان بالواسطہ یا بلاواسطہ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں سے منسلک تھے اور حالیہ فسادات کے دوران جن لوگوں نے شہریوں کو اکسایا اور امن و امان خراب کیا انہیں تفتیش کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔واضح رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں تہران کے گرینڈ بازار میں چند تاجروں کی جانب سے مہنگائی، بدترین پابندیوں اور دیگر مشکلات کے خلاف پرامن احتجاج کیا گیا تاہم ایک ہفتے بعد 8 جنوری کو اچانک ملک بھر میں پرتشدد احتجاج پھیل گیا تھا۔ایران نے پرتشدد احتجاج اور فسادات کے پیچھے اسرائیل اور امریکا کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button