
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انہوں نے خود کو “Acting President of Venezuela” یعنی وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیا ہے۔بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں ان کی سرکاری تصویر کے ساتھ تحریر تھا کہ وہ جنوری 2026 سے وینزویلا کے عبوری صدر ہیں، جبکہ انہیں امریکا کے 45ویں اور 47ویں صدر کے طور پر بھی ظاہر کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا صدر قرار دینے کے بعد اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کیوبا کا صدر بنانے کا اشارہ دیدیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حیران کن انکشاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں کیا۔اس پوسٹ میں ایک غیر معروف صارف نے مذاقاً لکھا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا کے اگلے صدر بنیں گے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے حیران کن جواب دیا کہ ’’مجھے یہ آئیڈیا پسند آیا‘‘۔ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایسا مذاقاً کہا ہے کہ یا وہ واقعی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے بھی ہیں۔ بہر حال صورت حال چند روز میں واقع ہوجائے گی۔تاہم صدر ٹرمپ کی اس پوسٹ کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ کیوبا کو اب وینزویلا سے تیل نہیں ملے گا۔صدر ٹرمپ نے کیوبا کو دھمکی دی کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرلے ورنہ سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔امریکی صدر نے کیوبا کے ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ جلد از جلد کرلیں۔ اس سے قبل کہ کافی دیر ہوجائے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے تیل اور رقم کی وجہ سے کیوبا کا معاشی نظام چل رہا تھا مگر اب وہ سپورٹ ختم ہوگئی ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے حال ہی میں وینزویلا میں فوجی کارروائی کی، جس کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں ان پر منشیات سے متعلق سنگین الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔امریکی حکام کے مطابق امریکا وینزویلا میں عبوری دور کے دوران سیاسی منتقلی کی نگرانی کرے گا۔ اسی دوران وینزویلا کی نائب صدر اور وزیرِ تیل ڈیلسے روڈریگز نے بطور عبوری صدر حلف بھی اٹھا لیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اس عبوری مدت میں وینزویلا کے تیل کی آمدنی کی نگرانی کرے گا تاکہ اس رقم کو وینزویلا اور امریکا کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکا کو فراہم کرے گا، جسے مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔ٹرمپ کے اس بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جب کہ وینزویلا میں امریکی کردار پر پہلے ہی شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔



