وینزویلا پہلا ملک نہیں؛ کئی ممالک امریکی حملوں کی زد میں آچکے ہیں، مختصر تاریخ

ٹرمپ دور میں وینزویلا میں ہونے والی تازہ امریکی فوجی کارروائی کو لاطینی امریکا میں مداخلت کی طویل اور خونخوار تاریخ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔لاطینی امریکا کے متعدد ممالک اس سے قبل بھی بالخصوص سرد جنگ کے دور میں زیادہ شکار رہے رہیں جب واشنگٹن نے کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے نام ہر عسکری کارروائیاں کی تھیں۔ان ملٹری آپریشن اور حملوں کا مقصد امریکا کا اپنے سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ جس کے لیے وہ درج زیل ممالک کو خطرہ سمجھتا تھا۔ 1954 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے گوئٹے مالا میں منتخب صدر جیکوبو آربنز گزمین کے خلاف بغاوت کی حمایت کی تھی۔صدر آربنز کی جانب سے زرعی اصلاحات متعارف کرائی گئیں تھیں جن سے امریکی کمپنیوں کے مفادات متاثر ہو رہے تھے۔امریکی آشیرباد سے ہونے والی اس بغاوت کے بعدگوئٹے مالا کئی دہائیوں تک عدم استحکام اور فوجی حکمرانی کا شکار رہا تھا۔1959 میں فیدل کاسترو نے آمر فولخینسیو باتیستا کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد امریکا نے کاسترو حکومت کو ہٹانے کی کوششیں شروع کیں۔اس امریکی مداخلت کا نقطہ عروج 1961 میں سی آئی اے کی حمایت یافتہ کیوبا کی عسکری جماعت نے ناکام یلغار کی تھی اور یوں امریکا کو شکست فاش ہوئی تھی۔برازیل میں امریکا نے کمیونسٹ مخالف قوتوں اور امریکا نواز سیاست دانوں کی حمایت کی جس کے نتیجے میں 1964 میں صدر جواو گولارٹ کو ہٹا کر فوجی حکومت قائم کی گئی۔امریکا کی آشیرباد سے یہ آمرانہ نظام 1985 تک قائم رہا جس میں جمہوری قوتوں کو طاقت سے کچلا گیا تاکہ امریکی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔1965 میں امریکا نے فوجی مداخلت کرتے ہوئے بائیں بازو کے صدر خوان بوش کی واپسی کو روکنے کی کوشش کی۔امریکا نے اپنے اس اقدام کو دوسری کیوبا کے خطرے سے تعبیر کیا اور ایک امریکا نواز حکومت کے قیام میں مدد کی۔اس عرصے کے دوران امریکی حمایت یافتہ اور کمیونسٹ مخالف سرگرمیاں ایکواڈور میں سیاسی بحران کا سبب بنیں جس نے فوجی بغاوت کی راہ ہموار کی۔امریکی حمایت یافتہ فوجی حکومت نے کیوبا سے تعلقات ختم کر کے واشنگٹن کے قریب ہونے کی پالیسی اپنائی۔امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے بولیویا میں منتخب رہنماؤں کے خلاف بغاوتوں کی حمایت کی، جن میں وکٹر پاز ایسٹینسورو بھی شامل تھے۔



