ہفتہ وار کالمز

ایران شناسی

یہ نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ ایران کو سمجھ نہیں سکا۔ باراک اوباما نے جولائی 2015 میں ایران کے ساتھ جو نیوکلیئر معاہدہ کیا تھا وہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا تھا کہ امریکہ طاقت کے برہنہ استعمال کے بغیر بھی اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ جسے Joint Comprehensive Plan of Action کہا جاتا ہے کی رو سے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو امریکہ کے مطالبات کے مطابق خاصی حد تک محدود کر دیا تھا۔ اسکے جواب میں امریکہ نے ایران پر لگائی ہوئی اقتصادی پابندیوں میں کمی کرنے کے علاوہ تہران کے ضبط شدہ 50 بلین ڈالرزبھی واپس کر دیئے تھے۔ اس معاہدے کو صدر ٹرمپ نے 2018 میں منسوخ کرکے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ گذشتہ نصف صدی میں ہر امریکی صدر نے ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کئے بغیر اسکے جوہری عزائم کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی تھی۔ انکے اس محتاط رویے کی وجہ مشرق وسطیٰ کی کسی نئی جنگ میں ملوث ہونے سے گریز کرنا تھا۔ اسکی دوسری وجہ یہ تھی کہ امریکہ اس سے پہلے کئی مرتبہ ایران کو سمجھنے میں غلطی کر چکا تھا۔ صدر جمی کارٹر نے 1978 میں نئے سال کی آمد کے موقع پر رضا شاہ پہلوی کی تعریف و توصیف کرتے ہوے کہا تھا کہ ’’ ایران استحکام کا جزیرہ‘‘ ہے اور ’’ اسکے لوگوں کی اپنے بادشاہ سے محبت حیران کن ہے۔‘‘ اس بیان کے صرف ایک ہفتے بعد ایران میں حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے جن کے نتیجے میں رضا پہلوی کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ اسی طرح 1979 میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر Andrew Young نے کہا تھا آیت اللہ روح اللہ خمینی ” Would be somewhat of a saint” اسکے بعد جب ایران میں انقلاب آیا اور امریکہ کو بڑے شیطان کے لقب سے نوازا گیا تو امریکی دانشوروں کو اپنے اندازوں کے غلط ہونے کا پتہ چلا۔ اب اس نئی ایران جنگ کے موقعے پر یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سی آئی اے کے ہزاروں جاسوسوں کی موجودگی کے باوجود امریکہ نے ایران کو سمجھنے میں ایک مرتبہ پھر غلطی کیوں کی۔ سامنے کی بات تو یہی ہے کہ یہ غلطی ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے‘ امریکہ تو یہ غلطی کرنے سے حتی الامکان گریز کر رہا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ غلطی اس لیے کی تھی کہ اسے یقین تھا کہ وینزویلا کی طرح ایران میں بھی چند گھنٹوں میں حکومت تبدیل ہو جائے گی۔ اب یہ جنگ چھٹے ہفتے اور مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور صدر امریکہ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کمبل سے جان کیسے چھڑائی جائے۔
اسی تذبذب کے عالم میں وہ تسلسل کیساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ چند روز پہلے انہوں نے کہا کہ جنہیں اسکی ضرورت ہے وہی اسے کھلوا لیں۔ پھر بدھ کی رات قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ آبی راستہ اگر پیر کی شام آٹھ بجے تک نہ کھلا تو ایران کے تمام پاور پلانٹس تباہ کرکے اسے پتھر کے دور میں بھیج دیا جائے گا۔ اب انہوں نے اس حملے کو منگل تک مؤخر کرتے ہوے دھمکی دی ہے کہ ایران کو ان خوفناک حملوں سے پہلے معاہدہ کر لینا چاہیئے۔ ایران اپنے اس مطالبے پر قائم ہے کہ جب تک اسے تاوان جنگ ادا نہیں کیا جاتا وہ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ عالمی معیشت اور خلیجی ممالک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے باوجود اس حقیقت کا ادراک نہیں کر سکے کہ ایران اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ایرانی عوام کے صبرو استقامت کے بارے میں ممتاز امریکی صحافی David Sanger نے تین اپریل کے نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر میں لکھا ہے” Iran’s tolerance for pain appears far higher than Mr. Trump anticipated. پہلے صفحے کی اس خبر کی سرخی سے اسکے متن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ـ Trump has boxed himself in on a war with no clear end. اس صورتحال میں صدرٹرمپ کے پاس اپنی دھمکیوں کی شدت میں اضافے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا۔ امریکہ اور اسرائیل ملکر ایران کے کوچہ و بازار میں جو تباہی مچا سکتے تھے وہ انہوں نے مچا دی۔ اب رہی سہی کسر وہ پاور پلانٹس کو تباہ کر کے پوری کر دیں گے۔ اس دھمکی کا اعادہ صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز مغلظات سے بھرپور ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا۔ اس پوسٹ کے مطابق یہ حملے منگل کی شام آٹھ بجے تک مؤخر کر دئے گئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ خارگ جزیرے پر قبضے کے ارادے کا اظہار بھی کر چکے تھے۔
اتوار کا دن اس لیے بھی اہم تھا کہ اس روز امریکہ بھر میں ایسٹر کی خوشی منائی جا رہی تھی اور اسی روز امریکہ کی سپیشل فورسز نے اپنے ایک پائلٹ کو ایران کی سرحدوں کے اندر ایک پہاڑی علاقے میں تلاش کر لیا تھا۔ ہفتے کے روز امریکہ اور ایران دونوں بڑی مستعدی سے اس پائلٹ کو تلاش کر رہے تھے۔ ایران نے اسکی گرفتاری کے لیے 60 ہزار ڈالرز کے انعام کااعلان کیا تھا۔ یہ ایک گیم چینجنگ لمحہ تھا۔ یہ پائلٹ اگر ایران کے ہاتھ لگ جاتا تو 4 نومبر 1979 کے Hostage Crisis کی باز گشت سے مغربی میڈیا گونج اٹھتا۔ اس روز ایرانی طلبا نے تہران کے امریکی سفارتخانے میں سفارتی عملے کے 66 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے باون افراد 20 جنوری 1981 تک محصور رہے تھے۔ صدر ٹرمپ قسمت کے دھنی ہیں کہ انہیں ایک بڑی ہزیمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لیکن وہ اگر اپنی دھمکیوں پر عمل کرنے کی روش پر قائم رہے تو انہیں اس میدان جنگ سے واپسی کا راستہ نہ مل سکے گا۔ اس خدشے کا اظہار امریکی میڈیا تسلسل سے کر رہا ہے ۔امریکی صدر ایران کے بارے میں اپنے میڈیا کے بیش قیمت مشوروں کو ٹھکرا کر عالمی امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ وہ اگر اپنے میڈیا کی ایران شناسی سے استفادہ کر لیں تو دنیا ایک خوفناک تباہی سے بچ جائے گی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button