ہفتہ وار کالمز

پاکستان کی کشتی کو کون بچا سکتا ہے؟

پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں پھر بڑھا دی گئی ہیں، جسے کہتے ہیں کہ حکومت نے عوام پر پٹرول کا بم گرا دیا ہے۔اتنا مہنگا پٹرول تو شاید تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔شہباز شریف کی حکومت عوا م کو بتاتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے۔اور صحیح بات تو کبھی نہیں بتاتی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا کہ کہ وہ کرپشن کو ختم کرے۔ کیو نکہ کرپشن کی وجہ سے حکومت کو پورا مالیہ نہیں ملتا۔یہ بات اکثر ماہرین معاشیات بھی بتا چکے ہیں۔سب سی بڑی کرپشن کا منبہ تو محکمۂ مال خود ہے جس کے کمشنر ہر بڑے ٹیکس دہندہ سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور حکومت میں کم ٹیکس جمع کرواتے ہیں۔ ان کو روکنے کی کوئی سکیم زیر غور نہیں، ظاہر ہے کہ وہ کمشنر اس رشوت کی رقم کا بڑا حصہ اپنے اوپر والوں کو دیتے ہوں گے؟اور ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
اس قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ حکومت ہر سال اتنا مالیہ اکٹھا نہیں کرتی جتنا اس کا بنتا ہے۔رشوت کا یہ نظام پاکستان کی سول سروس کے سارے نظام میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ کوئی سرکاری کام ، کوئی منصوبہ، کوئی ٹھیکہ ، بڑے کمیشن کے بغیر منظور نہیں ہوتا۔ زرداری صاحب تو مسٹر ٹین پرسنٹ مشہور تھے اور اب خدا جانے کتنے پرسنٹ پر معاملہ پہنچ چکا ہے؟ لیکن جتنے پرسنٹ پر ہے وہ عوام کی جیبوں سے ہی تو نکلتا ہے۔کیونکہ سرکار کا سارا کام عوام ہی کی جیبوں سے نکال کر کیا جاتا ہے۔عوام بے چارے بے بس ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں اور سرکار سے کوئی بھی کام نکلوانے کی قیمت سمجھتے ہیں۔اسلئے کرپشن کے خلاف کوئی آوز نہیں سنائی دیتی۔ویسے بھی چالیس فیصد عوام لکھنا پڑھنا نہیں جانتے کہ انہیں اس مسئلہ کا ادراک ہو۔ مہنگائی کے خلاف تو جلوس نکال سکتے ہیں لیکن بد عنوانیت یعنی کرپشن کے خلاف نہیں۔ حالانکہ کرپشن ، مہنگائی سے بھی زیادہ خطرناک مسئلہ ہے۔
اب اس صورت حال کا نتیجہ جانئیے۔جب حکومت کو اتنا مالیہ نہیں ملتا جتنا کہ اس کی ضرورت ہے تو اسے اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے، قرضے لینے پڑتے ہیں۔ جو اندرون ملک (بینکوں سے) اور بیرون ملک زر مبادلہ کی صورت میں لئے جاتے ہیں۔اب یہ قرضے ایسی سطح پر پہنچ چکے ہیں، کہ ان کی قسطیں دینے کے لیے مزید قرضے لئے جاتے ہیں۔ اوراب پاکستان کے کل اخرا جات کا سب سے بڑا حصہ ان قرضوں کے سود اور اصل کی واپسی پر ہوتا ہے۔ حال یہ ہے کہ کچھ سالوں سے، قرضوں کی واپسی سالانہ اخراجات کا نصف فیصد سے بھی بڑھ گیا ہے۔ اگر آپ اس کا اندازہ لگانا چاہیں تو ایسے سوچیں کہ آپ کی کل ماہانہ آمدنی چالیس ہزار ہے، اور آپ کو بیس ہزار روپے اپنے قرضوں کی واپسی کے لیے دینے پڑیں۔ تو آپ کے پاس گھر کا کرایہ، بچوں کی سکول فیس، راشن، ایندھن اور بجلی کا بل دینے کے لیے کیا بچے گا؟ یہی نہ کہ آپ کو ان خراجات کو پوارا کرنے کے لیے اور قرضہ لینا پڑے گا؟ بس یہی حال پاکستان کا ہے۔ایک فرق ضرور ہے کہ جب آپ کی آمدنی کم ہے تو آپ اتنا قرضہ لیں گے جس سے انتہائی ضرورت پوری ہو سکے۔ لیکن پاکستان کے حاکم اپنی عیاشیوں کے لیے بھی قرضے لیتے ہیں۔ مہنگی گاڑیاں، بیرونی سفر اور مہنگے ہوٹلوں میں قیام، اور ایسے لوگوں کو ساتھ سفر کروانا جن کی قطعاً ضرورت نہ ہو۔اور جب سفر نہیں کرتے تو ان کے گھروں میں پُر تعیش دعوتیں، مرمتیں، نوکروں کی ایک فوج ظفر موج۔سب سرکار کے کھاتے۔ ہمارے وزیر اعظم تو کوئی بیرونی دعوت نامہ نہیں ٹھکراتے، جہاں ان کا جانا قطعاً ضروری نہ ہو اور مقامی سفیر ان کی جگہ جا سکتا ہو، تب بھی۔عموماً ان کی توضیح ہو گی کہ شاید اور قرضہ مل جائے؟ ہر جگہ، موقع ہو یا نہ ہو یہ کاسہ گدائی لے جانا نہیں بھولتے ۔ اور ان کا مشہور مکالمہ اب بچے بچے کو یاد ہو گیا ہو گاکہ’’ میں قرض نہیں مانگتا لیکن کیا کروں مجبوری ہے۔ـ‘‘ اب ساری دنیا میں ہمارا وزیر اعظم بھیک منگتا مشہور ہو گیا ہو گا؟
پاکستان کے قرض بڑھانے میں ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کے علاوہ اور بھی عناصر ہیں۔پاکستان میں، اس کے سالانہ بجٹ میں اگرچہ بڑا حصہ تو قرضوں کی واپسی کا ہوتا ہے، دوسرا بڑا حصہ ہمارے دفاعی اخراجات کا ہوتا ہے۔ اگر قرضوں کی واپسی کا خرچ آٹھ سے نو کھرب روپے ہوتا ہے تو دفاع پر ہمارا خرچ دو سے ڈھائی کھرب روپے ہوتا ہے، جتنا کسی اور مد میں نہیں ہوتا۔اس کے بعد سرکاری ملازموں کی پینشنز پر ایک کھرب سے اوپر کا خرچ ہوتا ہے۔ترقیاتی منصوبوں پر ایک کھرب کے لگ بھگ رکھے جاتے ہیں لیکن سنا گیا ہے کہ اتنے خرچ ہوتے نہیں۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ تعلیم پر کل بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم لگایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہو گی کہ پاکستان میں آج 75 سال کے بعد بھی ڈھائی کروڑ سکول جانے کی عمر کے بچے سکولوں میں داخل نہیں ہیں۔ یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
حکومت پر اکثرزور ڈالاجاتا ہے کہ اخراجات کو کم کرے، لیکن کیسے؟جب بھی فوج کے اخراجات کا ذکر ہوتا ہے، بھارت سے جنگ کی باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔ آج بھی میڈیا پر بھارت سے جنگ کی افواہیںاڑائی جا رہی ہیں۔بھارت پاکستان سے جنگ نہیں چاہتا۔ اسے پتہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور جو نہی وہ ہارنے لگے گا تو ان کے استعمال کا سوچے گا۔اور بھارت ہر گز ایسی لڑائی نہیں چاہتا۔کیا بھارت اسرائیل یا امریکہ کے کہنے پر پاکستان پر حملہ کرے گا؟ کیا اسرائیل نے بھارت کو وہ تمام ٹھکانے بتا دئیے ہیں جہاں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہیں؟ اگر ایسا ممکن ہے تو شاید ایسا حملہ ہو جائے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ اسرائیل کو پاکستان کے تمام ایٹمی ہتھیاروں کے ٹھکانوں کی خبر ہو۔اگر پاکستان کے کسی غدار نے ایسا پتہ بتابھی دیا ہو تو مشکل ہے کیونکہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ٹھکانے بدلتا رہتا ہے۔ویسے بھی، اسرائیل کے کہنے پر بھارت کیوں اتنا بڑا خطرہ مول لے گا کہ پاکستان اس پر ایٹم بم پھینکے؟
ٹرمپ بہادر نے پہلے ہی پاکستان کو افغانستان سے جنگ میں مشغول کر دیا ہوا ہے۔ اگر ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے بند نہ ہوئے ، اور پاکستان کی افغانستان کے ساتھ جنگ بندی ہو گئی، تو ممکن ہے بھارت کسی بہانے پاکستان کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کرے ۔ کشمیر اس کام کے لیے ہمیشہ حاضرہے۔ اور بھی محاذ ہیں۔ اگر ٹرمپ پاکستانی جرنیلوں کو کہیں بھی حملہ کرنے کا کہہ دے تو وہ ہو جائے گا اور بھارت جواباً جنگ شروع کر دیگا۔ لیکن یہ جنگ محدود اور روائتی ہو گی۔اس کا مقصد پاکستان کو اتنی دیر مشغول رکھنا ہو گا جب تک ایران پر جنگ بند نہیں ہوتی۔کیونکہ اسرائیل یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتا کہ پاکستان، کسی نہ کسی بہانے اسرائیل پر ایٹمی ہتھیار نہ داغ دے۔
اس سارے افسانے کے پس منظر میں،یہ زیادہ امکان ہے کہ ہماری پیاری فوج،اپنی اہمیت جتوانا چاہتی ہے اور یہ کہ اس کے بجٹ میں کٹوتی نہ کی جائے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سال ہا سال سے حکومت قرضے پر قرضہ لیکر اس فوج کی ہر خواہش پورا کرتی رہی ہے۔لیکن حکومت کو،خصوصاً موجودہ جعلی حکومت میں تو ایسی ہمت ہی نہیں کہ وہ فوج سے کوئی بھی مطالبہ کر سکے۔ آئی ایم ایف جو مرضی کہتی رہے۔ اب سوال یہ تو بنتا ہے کہ جب پاکستان کو کسی ہمسائے سے جنگ کا خطرہ نہیں ہے۔ اور صرف دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے سات لاکھ کی فوج تو نہیں چاہیے، تو کیوں نہیں خواجہ آصف دفاعی اخراجات کو تیزی سے کم کرتے؟ یا وہ صرف نام کے وزیر دفاع ہیں، کام کے نہیں۔ اب دیکھیں کہ امریکہ کے وزیر دفاع نے کیسے کھڑے کھڑے جنرلوں کو فارغ کر دیا اور کسی طرف سے چوں کی آواز نہیںآئی؟ خواجہ صاحب ایسے کر کے تو دیکھیں۔ ایک گھنٹے میں وہ خود فارغ کر دئیے جائیں گے۔مخول نئیں اے۔
لیکن مزاح بر طرف۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے دفاع پر اپنی اہلیت سے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہیئے۔ کیونکہ یہ اب ایک ایٹمی قوت ہے۔چھوٹے موٹے دہشت گردی کے واقعات اور بھارتی جھڑپوں کے لیے بھی اتنی بڑی فوج کی ضرورت سمجھ نہیں آتی۔ لیکن یہ تو سمجھ آتی ہے کہ فوج کے اخراجات پاکستان اپنی آمدنی سے پورے نہیں کر سکتا، اور اس کو قرضے لینے پڑتے ہیں۔ اور قرضے اتارنے کے لیے اس کے پاس رقم نہیں ہوتی تو یہ عوام کی کھال اتارتا ہے، یعنی پٹرول اور دیگر ضروری اشیاء پر ٹیکس بڑھا کر۔ یہ بھی زیادتی نہیں تو کیا ہے؟ اور اس سے بھی زیادہ یہ بچوں کو سکول مہیا نہیں کر کے پیسے بچاتا ہے جو بالکل غیر قانونی اور غیر انسانی حرکت ہے۔ ہمارا آئین بچوں کی مفت بنیادی تعلیم کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن یہ بے ضمیر، جعلی وزیر، کسی آئین کی پرواہ نہیں کرتے۔ اور نہ ہی عدالتی فیصلوں کی۔ یہ کسی کو جواب دہ نہیں ہیں سوائے فوجی جرنیلوں کے، جنہوں نے ا نکی جعلی حکومت کو سہارا دیا ہوا ہے۔ عوام گئے بھاڑ میں۔
ایسا کب تک چلے گا؟ کیا پاکستانی عوام خواب غفلت سے کبھی نہیںجاگیں گے؟اور بس پستے رہیں گے؟لگتا تو نہیں،پر شائد؟
ہم نے اوپر دئیے گئے مسائل پر کچھ سوال مصنوعی ذہانت سے کیے تو جو جواب ملے، وہ بھی سن لیجئیے۔پہلی بات تو یہ کہ پاکستان کے پاس 140-150 ایٹمی ہتھیار ہیں اور بھارت کے پاس 130-140 ۔ اس لحاظ سے معاملہ برابر ہے۔ البتہ اور اہم شعبوں میں، پاکستان بہت کمزور ہے اور بھارت سے پیچھے ہے، جیسے کہ معیشت، دفاعی بجٹ،جس سے پاکستان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔لیکن نیوکلیئر طاقت کے ہوتے ہوئے، پاکستان کو زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
تاریخی لحاظ سے فوج پاکستان میں شروع سے فعال رہی ہے اور لمبے عرصہ کے لیے حکمران بھی۔دفاع کا بجٹ سیاسی پشت پناہی میں رہا ہے۔ اسکے علاوہ عسکری صنعتی ایمپائر کا بھی بڑا کردار ہے۔جس کو فوج کنٹرول کرتی ہے۔ان کے اخراجات اور آمدن پر شفافیت نہیں ہے۔
اسکے علاوہ بھی ، زرعی شعبہ، خورد فروش، اور جائدادوں پر ٹیکس یا بہت کم ہیں یا ہیں ہی نہیں۔اس وجہ سے جب مالیہ کم ملے، اور دفاعی اخراجات زیادہ ہوں تو معاشرتی ضروریات جیسے تعلیم اور صحت کے لیے پیسہ بچتا ہی نہیں۔اشرافیہ اپنے فوری فوائد کے لیے طویل المدتی انسانی ترقی کو نظر انداز کر دیتی ہے ۔اور رہے سہے وسائل کرپشن، نا اہلی اور چوری کی وجہ سے کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جائزے کے مطابق، 43 فیصد سکولوں میں بجلی نہیں ہے۔36فیصد میں پانی نہیں ہے۔35فیصد میں بیت الخلاء نہیں ہیں۔ 32 فیصد میں دیواریں نہیں ہیں۔لڑکیوں کے سکولوں میں، 22 فیصد میں بیت الخلاء نہیں ہیں، اور 13 فیصد میں چار دیواری نہیں ہے۔ یہ سب حکومتی وسائیل کی کم کا شاخسانہ ہیں۔43 فیصد سکولوںمیں عمارتیں مخدوش حالت میں ہیں۔اور 18فیصد پرائمری سکولوں میں صرف ایک کمرہ ہے۔پرائمری سکولوںمیں اوسطاً 37بچوں پر ایک استاد ہے۔ اوسطاً ایک سکول میں3ا ستاد ہیں۔ تیس فیصد سکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک استاد ہے۔یہ تو سکولوں کی حالت ہے۔ 24کروڑ کی آبادی میں ڈھائی کروڑ سے اوپر بچے سکول گئے ہی نہیں۔ چھوٹی بچیوں میں پستہ قدی اور غذائیت کی کمی عام ہے۔غربت بھی عام ہے۔ (یہ اے آئی کا کہنا ہے) ۔ان مسائل کے حل کے لیے بے انداز وسائل کی ضرورت ہے جو دفاعی اخراجات کی وجہ سے نہیں مل سکتے۔اے آئی کا کہنا ہے کہ ایسے حالت دیر تک نہیں چل سکتے۔بالاآخر معیشت کا پہیہ بیٹھ جائے گا۔پھر نہ دفاع رہے گا اور نہ معاشرہ۔
اس لیے ضرورت ہے کہ ٹیکس گذاری میں اصلاحات کی جائیں، جیسے زراعت ، خوردہ فروشی اور جائداد کی خرید و فروخت پر۔دفاعی اخراجات پر غیر فوجی عوامی نمائندوں کی نگرانی، بھارت سے تعلقات میں بہتری، تعلیم اور غذائیت پر قومی ترجیحی بنیادوں پر کارراوائی، اور شہریوں کی حکومت میں بالا دستی ،بہ نسبت عسکریت کے۔
آخر میں پاکستان دفاع پر اتنا زیادہ خرچ اس لیئے نہیں کرتا کہ یاکر سکتا ہے، بلکہ اس لیے ریاستی نظام، بیرونی جارحیت کا اندیشہ، اور سیاسی اقتصادیات دفاعی اخراجات کو کم کرنے نہیں دیتیں۔ با وجودیکہ معاشرتی اہداف خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
ایسے حالات میں کیا پاکستان کی فوج کچھ اپنے اخراجات پر نظر ثانی کرے گی؟ یا پرنالہ وہیں گرے گا؟ اگر نہیں کرے گی تو معیشت اتنی خراب ہو جائے گی کہ کسی کو بھی کوئی پیسہ نہیں ملے گا؟۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button