ڈونلڈ ٹرمپ کا قوم سے خطاب۔ کھودا پہاڑ، نکلا چوہا!

اس ہفتے مڈویک سے ہی تمام تر میڈیا میں اس بات کا شور ہورہا تھا کہ جمعرات کی رات نو بجے پریذنڈنٹ ٹرمپ جنگ کی صورت حال کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے۔ تجزیہ کار اپنے اپنے تبصرے دے رہے تھے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ چونکہ صدر ٹرمپ اس جنگ میں بُری طرح پھنس گئے ہیں اور شاید وہ اپنی اس جنگ میں فتح کا اعلان کر کے جنگ بندی کا اعلان کر دیں گے۔ دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز پر بھرپور حملے کا اعلان کریں گے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ خلیج ایران میں ایرانی جزیرے گرک میں فوج کشی کر کے قبضے کا اعلان کیا جائے گا جبکہ اس خیال کو تقویت دے رہے تھے اور شرطیں لگارہے تھے کہ صدر ٹرمپ اپنی اس تقریر میں ایران میں زمینی فوج کشی کااعلان کردیں گے اور اب امریکی اور ایرانی فوجوں کے درمیان دوبدو مقابلہ ہو گا۔ مگر وہ ٹرمپ ہی کیا جو بھڑکیں نہ مارے۔ پتہ چلا کہ
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا!
پچھلے ہفتوں سے صدر ٹرمپ جو دھمکیاں اور بھڑکیاں مار رہے تھے، تقریر میں ان ہی بھڑکوں کو دہرایا گیا تھا۔ ہاں البتہ ایک نئی دھمکی کا ٹرمپ نے اضافہ کیا کہ اگر ایران نے ٹرمپ کی خواہشات کے مطابق یک طرفہ جنگ بندی نہیں کی تو اس کو برباد کر کے پتھر کے زمانوں میں دھکیل دیا جائے گا۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ نائن الیون کے بعد ایک دفعہ پہلے بھی اسی طرح کی دھمکی پاکستان کے اس وقت کے صدر اور چیف مارشلاء ایڈمنسٹریٹر پرویز مشرف کوپاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دینے کی دی تھی اور جنرل صاحب اس امریکی دھمکی کے بعد مکمل طورپر لیٹ گئے تھے، پاکستانی جنرلوں کی روایات پر عمل کرتے ہوئے خود کو اور پاکستان کو سرینڈر کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی اس تقریر میں دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کرنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرلز بھی ٹرمپ کی تقریر کو براہ راست سن اور دیکھ رہے تھے کیونکہ اس دعوے کے فوراً بعد ہی اسرائیل کے تل ابیب سمیت کئی شہروں پر ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے تباہی مچادی اور صدر صاحب کا دعویٰ دھرا کا دھرا رہ گیا، ایرانیوں کا دوسرا ریسپانس اس طرح سے سامنے آیا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے انکشاف کیا ہے اب تک 70لاکھ سے زائد ایرانیوں نے جنگ میں حصہ لینے کیلئے رجسٹرڈ کرلیا جبکہ بے شمار لوگوں کو انڈرایج اور زیادہ عمر کے باعث زبردستی منع کر دیا گیا ہے۔ تو یہ ہوتا ہے جذبۂ ایمانی اور جذبۂ حسینی۔
دوسری طرف ہماری حکومت اور جنرلوں کو دیکھیئے کہ اسرائیل نے پاکستانی بلوچستان کے ایرانی بارڈر کے نزدیک اٹھارہ انچ قطر کی گیس لائن کو بمباری کر کے تباہ کر دیا، مگر ہماری سپاہ اتنی ڈرپوک ہے کہ وہ اس خبر کو ہی چھپارہی ہے کہ اب اگلی باری ہماری آچکی ہے اور پاکستانی قوم جنرل عاصم منیر کی اسرائیل کے ساتھ دوستیاں بڑھانے کے الزام میں سڑکوں پر آ کر تختہ نہ الٹ دے۔ افسوس کہ مدرسے سے فارغ التحصیل ایک حافظ نے نہ صرف پوری قوم کو بلکہ پوری پاکستانی فوج کو یرغمال بنایا ہوا ہے،صرف اپنی جاہلانہ حرکتوں کی وجہ سے۔



