ہفتہ وار کالمز

میرے گلشن کے پھول

وطن ِ عزیز کے اس گلشن کو آباد ہوئے 78برس بیت چکے کئی تناور درخت جواپنے سینے پہ گلشن کے پرندوں کو اپنی پناہ میں رکھ کر اُن کے گھونسلوں کی نگہبانی کرتے تھے وہ درخت جو گلشن کی رعنائیوں میں اضافے کا سبب تھے وقت نے انھیں حالات کی آندھیوں میں ایسا دھکیلا کہ ضرورتوں کے تحت وہ جل کر راکھ ہو گئے بہ زبان ِ شاعر ایندھن کے لئے آج جو کٹ کے گرا ہے ،چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے ۔ یاد رہے کہ وہ تناور اشجار جو گلشن کے نگہبان بھی تھے اُن کی زندگی میں کوئی غیر اس صحن ِ گلشن میں داخل ہونے کی جسارت نہیں رکھتا تھا پھول کانٹے دار شاخوں پر بھی حیا کی چادر اوڑھے سارے چمن کو اپنی خوشبو سے معطر رکھتے تھے ان پھولوں کو توڑنے یا مسلنے کا خیال بھی گناہ ِ کبیرہ سمجھا جاتا تھا لیکن وقت کی کروٹوں کے ساتھ روشن خیالی کی تعلیمات نے ہمیں صراط المستقیم سے گمراہ کر کے ایسی اندھیری دلدل میں پھینک دیا جہاں انسانیت کا احترام نہیں نفسانی خواہشات کی تکمیل کو اولیت دی جاتی ہے اُنھیں مقدم سمجھا جاتا ہے جہاں سچ نہیں جھوٹ کو عزت بخشی جاتی ہے جہاں پر خلوص انسان کو نہیں اُس کے مال و زر کو اُس کے منصب کو گراں سمجھا جاتا ہے جہاں قانون کا احترام تعلق کی بنیاد پر روندا جاتا ہے انسانی قدروں سے نا آشنا ایسے ماحول میں سر اُٹھا کر جینا کمال کی بات ہے اور ہاں وہ طبقہ جو اپنے ان پڑھ بزرگوں کی تجرباتی باتوں کی روشنی میں اپنے خاندان سے جڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی اولاد کی پرورش پر بھر پور توجہ اُن کی منزل ِ مقصود ہوتی ہے جن کے اذہان کے خطے میں بے راہروی کی راہیں مسدود رہوتی ہیں تا کہ خواندگی کے ساتھ ساتھ مذہبی رواداری کی روایات کو بھی جلا ملے مگر نہ جانے کیوں دنیا میں تہذیب و تمدن کے ادارے ہونے کے باوجود ،انسانی حقوق کی تنظیموں کے پر چموں کے سائے میں انسان کے ساتھ ایسا ایسا غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ جسے سن کر دل ماتم کناں ہوجاتا ہے مقبوضہ کشمیر میں فلسطین میں بھارتی و اسرائیلی فوجیں معصوم بچوں کو شہید کرنے سے نہیں کتراتے اور نہ ہی عصمت دری جیسی قبیح حرکت ان کے نزدیک قابل شرم ہوتی ہے انسانی حقوق کی تنظمیں تو بس ایک مظاہرہ کر کے اپنے فرائض سے مبرا ہو جاتی ہیں جیسے پاک سر زمین کے حکمران کسی بھی زیادتی پر صرف مذمت کر کے خود کو سرخرو سمجھتے ہیں ظلم و جبر کی سنگین وارداتیں رہزنی سے لے کر عصمت دری کے واقعات تک روز کا معمول ہے مگر آج تک کسی نے ان جرائم کی بیخ کنی کے لئے کوئی بہتر اقدامات نہیں کئے اور نہ ہی قانون کو ایسی عملی شکل دی جس سے ابلیسی گروہ کے لوگ کیفر ِ کردار کو پہنچیں ۔قانون اپنی آنکھوں پہ مراعات و سہولیات کی پٹی باندھے گرمیوں کی چھٹیاں یخ بستہ علاقوں میں گزارنا حق سے تشبیہ دیتا ہے مگر اُسے وطن کی سڑکوں پر شہروں کی گلیوں میں لوٹ مار سے لے کر عصمت دری جیسے واقعات نظر نہیں آتے جس میں چھوٹے ننھے معصوم بچوں بچیوں کو نفسانی خواہش کی سولی پر لٹکا کر قتل کر دیا جاتا ہے کیا قائد نے اور اُن کے رفقائے کار نے پاکستان ایسے گروہی عناصر کیلئے برسوں محنت کر کے جانی مالی قربانیاں دے کردنیا کے نقشے پر اُبھارا تھاجہاں چھوٹے معصوم فرشتوں جیسے بچے ، بچیاں نفسانی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دی جائیں ،جہاں ایسے درندوں کے سامنے قانونی سزا معنی خیز ہی نہ ہو اور معاشرے میں ایسے انسانیت سوزواقعات ہوتے رہیں علامہ اقبال نے بھی وطن کے حوالے سے خواب میں ایسی توقعات کو جگہ نہیں دی تھی اُن کی نظر میں بھی قانون کی بالا دستی و فلاحی ریاست کی تعمیر کارفرما تھی مگر عصر ِ حاضر میں جن حالات و واقعات کا سامنا ریاست کو ہے وہ ہمارے تعارف کو داغدار کر رہا ہے اس کی وجہ پاکستان میں سب سے بڑی اقلیت انسانیت ہے جس کا ساتھ دینے والے بہت کم رہ گئے ہیں آپ دیکھ لیں ہمارے درس و تدریس کے اداروں سے لے کر گلی محلے کے ماحول تک کوئی جگہ ان معصوں کے حوالے سے محفوظ نہیں سمجھی جاتی ہمارے حکمران تو بچوں کو تحفظ دینے والی پالیسیاں تو لانےکے اہل نہیں اور نہ قانون میں کوئی سکت ہے تو بہتر ہو گا کہ والدین ہی اپنی تربیت پر توجہ دیں ہمیں بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے اُن سے دوستانہ ماحول میں بات کرنے کی عادت ڈالنی چائیے تا کہ وہ بغیر کسی کے خوف کے ماں باپ سے سچی اور حقیقی بات کرنے میں کوئی عار کوئی خوف محسوس نہ کریںاُسے بلاجھجک بتادیں تو یوں والدین کو ایک اعتماد ملے گا کہ جوانی کی جانب گامزن یہ نسل شعوری طور پر اچھے برے کی پیچان اپنی سوچ میں رکھتی ہے والدین کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو یہ باور کرانے میں کبھی دیر کریں کہ عورت کے ہمدرد دنیا میں صرف 4ہوتے ہیں باپ ،بھائی ،خاوند اور بیٹا باقی کسی سے ہمدردی کی اُمید عورت کے لئے خطرناک ہے درس و تدریس کے وہ مدارس جہاں خط ِ غربت سے نیچے رہنے والوں نے اپنے بچے ان مدارس میں دینی تعلیم کے لئے بھیجے ہوتے ہیں اُن کے اساتذہ پر اُن کے عملے پر حکومتی چیک نہ ہونے سے اور قانون میں جان نہ ہونے سے وہاں بچوں کا تحفظ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے تحفظ کی فراہمی حکومتی ذمہ داری ہے اور قانون کی عملی شکل کا بلاتفریق لاگو کر کے ایسے لوگوں کا بلاتفریق سر بازار سر قلم کرنا انتہائی ناگزیر ہے ایسا سبق آموز انجام زمانے کے ابلیسوں کو فرشتہ بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے معاشرے کے اس متوقع نکھار سے میرے گلشن کے پھول اپنی شاخوں پہ سجے باعزت انداز سے زمانے میں اپنی خوشبو کو بکھیرتے رہیں گے صرف توجہ و قانون کی بیداری کی ضرورت ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button