ہفتہ وار کالمز

سیر کے برتن میں سوا سیر !

نسیم شاہ پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک دو لاکھ نہیں بلکہ پورے دو کڑوڑ کا جرمانہ عائد کیا ہے!نسیم شاہ، ابھرتا ہوا پٹھان، خوش شکل اور ہنرمند، فاسٹ باؤلر، صرف 23 برس کا ہے لیکن اس کے اندر وہ ہنر ہے جسے گدڑی میں لعل سے تشبیہ دی جاسکتی ہے اور دینی بھی چاہئے! اس نے اس کم عمری میں آج تک پاکستان کیلئے 20 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، 34 ون ڈے انٹرنیشنل اور 37 ٹی ٹؤنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور اس جوش و جذبہ کے ساتھ کی ہے جس پر اسے فخر ہونا چاہئے اور جس ملک کی سرزمین نے اس جیسا ہنرمند سپوت پیدا کیا ہے اسے اس نوجوان کھلاڑی پر ناز کرنا چاہئے!
لیکن پاکستان ظلمت کا مارا وہ عجوبہء روزگار ملک ہے جس میں ناز یا تو یزیدی جرنیلوں کے اٹھائے جاتے ہیں ، جیسے آج یزیدِ دوراں عاصم منیر اور اس کے بزدل و قاہر ٹولہ کے اٹھائے جارہے ہیں یا پھر ان دو سیاسی خاندانوں کے چھٹ بھئیوں کے اٹھائے جاتے ہیں جو انہیں ملت فروش اور قوم دشمن جرنیلوں کے پیدا کردہ ہیں، یعنی سندھ کا وڈیرہ بھٹو خانوادہ اور پنجاب کا لوہار نام کے شریفوں کا ٹبر! نسیم شاہ سے یہ جرم سرزد ہوا کہ اس نے لوہار خاندان کی بیٹی، جسے جرنیلوں کی نظرِ عنایت نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیرِ اعلیٰ بنادیا ہے اور جو بزعمِ خود اسی طرح اپنے آپ کو اگر پاکستان کی نہیں تو پنجاب کی ملکہء عالیہ ضرور گردانتی ہے جیسے اس کے مربی جرنیلوں کا سرپرستِ اعلیٰ، سامراجی اور استعماری گرو گھنٹال، اپنے آپ کو زمین پر خدا سمجھ بیٹھا ہے اور اسی خود فریبی میں اس نے دنیا کو تہہ و بالا کیا ہوا ہے، کی شانِ اقدس میں گستاخی کی جسارت کی تھی!ہوا یوں کہ 26 مارچ کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ کا افتتاحی مقابلہ تھا جس میں ایک ٹیم میں نوجوان نسیم شاہ بھی شریک تھا کہ ملکہء عالیہ مریم نواز اپنے خوشامدیوں اور پورے ٹبر کے ساتھ میچ دیکھنے کیلئے اسٹیڈیم میں اپنی تمام تر رعونت اور تمکنت کے ساتھ تشریف لے آئیں!ملکہء عالیہ کا ورود نسیم شاہ کو بھی ایسے ہی کھٹکا جیسے ہر اس پاکستانی کو بُرا لگا جس کے دل میں قانون کے احترام کی جگہ ہے !اس پی ایس ایل ٹورنامنٹ کیلئے کٹھ پتلی شہباز حکومت نے یہ قانون وضع کیا ہےکہ تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے، قطعا” نہیں ہے اور اس کیلئے جواز یہ تراشا گیا ہے کہ ایران پر صیہونی اور استعماری یلغار سے جو عالمی صورتِ حال پیداہوئی ہےاس کی نزاکت کے تحت یہ قانون وضع کیا جارہا ہے!
لیکن یہ صرف ابنِ الوقتی ہے اور کچھ نہیں !
شہبازکٹھ پتلی ٹولہ کا جو ڈوریاں ہلانے والا مداری اور چھل باز ہے، یعنی یزید عاصم منیر، اسے یہ خطرہ ہے کہ پی ایس ایل کے ہر میچ میں عمران خان کے حق میں نعرے لگائے جائینگے اور قیدی نمبر 804 کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا جو اس کیلئے ناقابلِ برداشت ہوگا۔ اس بزدل اور کائر خود ساختہ فیلڈمارشل کا تو یہ عالم ہے کہ عمران کا نام سنتے ہی اس کی ٹانگیں کانپنےلگتی ہیں اورکانوں سے دھواں نکلنا شروع ہوجاتاہے۔ یہ ملت فروش تو عمران کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے تا عمر رکھنا چاہتا ہے!تواس بزدل نے اپنے مربی ٹرمپ کی ایران کے خلاف جارحیت سے پیدا ہونے والی صورتِ حالات کا فائدہ اٹھا تے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ عوام کو اسٹیڈیم میں آنے ہی نہ دو اسلئے کہ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچ سکے گی!
لیکن ملکہء عالیہ مریم نواز اول تو اس یزید کے ایماء سے ہی پنجاب پر مسلط کی گئی ہے ، دوسرے یہ کم ظرف عورت خود کو واقعی ملکہ سمجھنے لگی ہے۔ اس لئے یہ سوچ کر کہ ملکہ کسی قانون کی پابند نہیں ہوسکتی، حالانکہ کہ برطانیہ کی ملکہ یا بادشاہ درجنوں اقسام کے قوانین کےپابند ہوتے ہیں لیکن پاکستان کی دنیا ہی نرالی ہے۔ نام نہاد اسلامی جمہوریہ میں سب برابر نہیں ہیں بلکہ جرنیلوں کی پیداوار دو سیاسی کنبے تو ہر قانون سے بالاتر ہیں اوراپنے آپ کو یہ سمجھتے بھی ہیں لہٰذا ملکہء عالیہ اپنے حواریوں کے جلو میں قذافی اسٹیڈیم میں اس شان سے تشریف لائیں کہ جیسے وہاں ہر کھلاڑی اپنے مقدر پر ناز کر رہا ہو کہ ملکہء عالیہ میچ دیکھنے کیلئے وہاں تشریف فرما ہیں !نسیم شاہ بیچارہ سیدھاسادا سا جوان ہے اور چونکہ پاکستان کے واحد بیدار بخت صوبہ، خیبر پختونخواہ کی دھرتی سے اس نے جنم لیا ہے لہٰذا اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ کیوں اس شان سے آئی ہے جیسے برطانیہ کی ملکہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر آرہی ہو!بس یہ سننا تھا کہ خود فریبی کی شکار ملکہ مریم نواز کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی!سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور پھر ایسا سچ جس میں شبہ یا گمان کا کوئی شائبہ ہی نہ ہو کم ظرفوں کے گلے سے نہیں نگلتا!
سچ تو یہ ہے کہ خود کو ملکہء عالیہ کا روپ بہروپ دینے والی فریب کار عورت کا دادا ٹین کے برتن بناتا تھا اور لاہور کے گلی گوچوں میں آواز لگا کے بیچا کرتا تھا!لیکن خود فریبی کو کیا کہیے کہ کم ظرفوں کے پیر زمین پر نہیں ٹکتے۔ جرنیلوں نے جن دو کم ظرف خاندانوں کو پاکستان پر مسلط کیا ہوا ہے ان پر تو وہی مثال صادق آتی ہے جو اماں اللہ بخشے ہرچھٹ بھئیے کی حرکتیں دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ بیٹا سیر کے برتن میں سوا سیر پڑجائے تو برتن چھلک اٹھتا ہے اسلئے کہ اس میں ظرف ہی نہیں ہوتا وزن اٹھانے کا!تو نسیم شاہ کی گستاخی پر کرکٹ بورڈ نے بیچارے بچہ پر دو کڑوڑ کا کوڑا مارا ہے کہ اس میں یا کسی اور کی کیا مجال کہ ملک کے شاہی خاندانوں کی جناب میں اور شان میں گستاخی کرسکے!نسیم شاہ کو عبرت کا نمونہ بنانا چاہا ہے انہوں نے جو پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔کرکٹ بورڈ کی کیا مجال کہ وہ از خود کوئی فیصلہ کرسکے!
کرکٹ کے تنِ خاکی پر عاصم منیر نے اپنے برادرِ نسبتی محسن نقوی کوسوار کردیا ہے اور اب یہ چھٹ بھئیا کرکٹ کا جنازہ نکال رہا ہے۔ وہی ملکہ مریم نواز کے شانہ بشانہ پوری بتیسی نکالے ہوئے اسٹیڈیم میں اس شان سے چل رہا تھا جیسے اپنی باپ کی جاگیر کا معائنہ کر رہا ہو!کم ظرفوں اور چھٹ بھئیوں کا گروہ ہی تو پاکستان کا مالک و مختار بنا ہوا ہے اور قوم و ملک کی تقدیر کے بقراطی یا فرعونی فیصلے کر رہا ہے !اب ارضی خدا ٹرمپ کا پسندیدہ فیلڈ مارشل یزید عاصم منیر اپنے مربی کو ایران کے خلاف جارحیت کی دلدل سے نکالنے کیلئے کوشاں ہے!پاکستان کا مقبوضہ نیوز میڈیا رطب اللسان ہے ان دنوں کہ پاکستان کی سفارتی کامیابی کے دنیا بھر میں ڈنکے بج رہے ہیں اور یوں بج رہے ہیں کہ بقول مودی سرکار کے وزیرِ خارجہ، کھسیانی بلی جیا شنکر، پاکستان دلالی کر رہا ہے ایران امریکہ اسرائیل جنگ رکوانے کیلئے!دلالی کا لفظ مودی اور جیا شنکر کے چھوٹے ذہنوں کی ایجاد ہے لیکن یہ اگر دلالی بھی ہے تو عالمی امن اور سکون و چین کیلئے پاکستان کو اس دلالی پر ناز ہے۔ہمارا گلہ یہ ہے کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے جس تدبر، ذہانت و فراست اور بصیرت درکار ہے وہ منشی اسحاق ڈار یا بوٹ پالشئیے شہباز یا بزدل و کائر یزید عاصم منیر میں دور دور نہیں پائی جاتی۔سفارت کاری، اور وہ بھی اس پائے کی کہ ایک ایسی جنگ رکواسکے جس میں دو بین الاقوامی غنڈے ممالک نے ایک مظلوم ملک پر جارحیت مسلط کی ہے جو ہر بین الاقوامی قانون اور ضابطہ کی کھلی خلاف ورزی ہے، چھٹ بھئیوں کے بس کی بات نہیں ہے بالکل ایسے ہی جیسے جنگ، بقول ایک مقبولِ عام گیت کے، زنانیوں کا کھیل نہیں ہوا کرتی لیکن پاکستان کی بدنصیبی کہ یہ کوشش وہ کر رہے ہیں جو کھلے منافق اور ملت فروش ہیں۔ایسے میں جس رہنما کی کسر بری طرح محسوس ہورہی ہے وہ تو یزیدیوں کی قید میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہے۔ وہ بند ہے جس کا سیاسی قد اور کاٹھ ایسا ہے کہ وہ عالمی سطح پر سفارت کاری کرسکے۔ لیکن کیا کیا جائے ، بقولِ فیض مرحوم ، کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد! اب یہ سگِ آوارہ کیا کارنامہ کرتے ہیں، کیا پاکستانی قوم اور عالمی برادری کو دکھاتے ہیں یہ وہ پہیلی ہے جس کا جواب فی الحال پاکستان کی اکثریت کے پاس نہیں ہے۔ لیکن پاکستانی قوم کی بے حسی نے ہی یہ دن دکھایا ہے اور اسی لئے ہم یہ کہنے پہ مجبور ہیں:
قومِ بے حس کس طرح حقدار ہو عمران کی
جس میں نہ غیرت ہے نہ کوئی رمق وجدان کی
یہ تو بس ملت فروشوں اور یزیدوں کی ہے قوم
اس کو حاجت ہی نہیں ہے رہبری کے مان کی !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button