ہفتہ وار کالمز

امریکہ کے نئے اہداف

اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف اعلان جنگ کرتے وقت صدرٹرمپ نے تہران میں حکومت کی تبدیلی کو ایک اہم ہدف قرار دیا تھا۔ اسوقت انکا خیال تھا کہ امریکی حملے کے فوراً بعد لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور یوں دو چار روز میں خامنہ ای حکومت کا خاتمہ ہو جائیگا۔ یہ خواب جب شرمندہ تعبیر نہ ہو ا تو پوچھا جانے لگا کہ یہ یقین دہانی کس نے کرائی تھی کہ یہ جنگ چند دنوں میں اختتام پذیر ہو جائے گی۔امریکہ میں اسرائیل مخالف لابی جو صدر ٹرمپ کی MAGA تحریک کے اندر موجود ہے نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے کہا تھا کہ ایران کے لوگ سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں اس لیے امریکہ کو اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ نتن یاہو نے موساد کے انٹیلی جینس چیف David Barnea کا حوالہ دیا تھا کہ انکی اطلاعات کے مطابق تہران حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔ صدر ٹرمپ جب ایران جنگ کی دلدل میں پھنس گئے تو انہوں نے نتن یاہو سے پوچھا کہ انہیں یہ غلط اطلاع کیوں دی گئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق نتن یاہو نے یہی سوال ڈیوڈ بارنیا سے پوچھا تو دونوں کے مابین تکرار شروع ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق اب موساد کے چیف دو ہفتوں سے نتن یاہو کی کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کر رہے۔ اس غلط اطلاع کے نتیجے میں جب جنگ کا پہلا ہدف حاصل نہ ہو سکا تو صدر ٹرمپ کے پاس دو راستے رہ گئے تھے۔ایک یہ کہ وہ فتح کا اعلان کر کے جنگ ختم کر دیتے یا پھر جنگ جاری رکھنے کے لیے کسی نئے ہدف کا اعلان کرتے۔ گذشتہ چند روز میں جن نئے اہداف کا اعلان کیا گیا ہے ان میں افزودہ یورینیم ‘ خارگ جزیرے اور آبنائے ہرمز پر قبضہ شامل ہے۔ اس بلند بانگ اعلان کے بعد ایک نئی بساط بچھ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ ایک طرف تہران حکومت سے مذاکرات کی خوشخبری سنا رہے ہیں اور دوسری طرف وہ دنیا کے ہر کونے سے بحری بیڑے اکٹھے کر کے خلیج فارس پہنچا رہے ہیں۔ صدر امریکہ مذاکرات کرتے ہیں یا جنگ یہ انکی صوابدید کا معاملہ تو ہے مگر ایک دنیا اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ وہ کیا کریں گے۔ ایران کے پاور پلانٹس پر حملے کی ڈیڈ لائن میں صدر ٹرمپ دو مرتبہ اضافہ کر چکے ہیں۔ اب دنیا بھر کی نگاہیں چھ اپریل پر لگی ہوئی ہیں جب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوے صدر ٹرمپ یا توایران کے بجلی گھروں پر حملے کریں گے اور یا پھر ایک نئی تاریخ کا اعلان کر دیں گے۔
متذکرہ بالا تین نئے اہداف کے اعلان کے فور اًبعد امریکہ کے عسکری ماہرین نے بنظر غائر یہ جائزہ لینا شروع کیا کہ یہ مقاصد حاصل ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ چھبیس مارچ کے نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز ایک ایسا تنگ اور اتھلا بحری راستہ ہے جو پہاڑوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ یہ غیر متناسب اور بے آہنگ لینڈ سکیپ ایک گوریلا جنگ کے لیے نہایت موضوع ہے ۔ اس علاقے میں Agnes Chang کی رپورٹ کے مطابق ایران چھوٹے اسلحے کا استعمال کر کے ایک طویل جنگ لڑ سکتا ہے۔ یہ چھوٹا اسلحہ ان پہاڑوں میں ایسے پوشیدہ مقامات میں رکھا ہوا ہے جہاں تک رسائی نہایت مشکل ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ ایران کی فائر پاور ختم کر دی جائے۔ اب تک ایران کے طول و عرض میں ہزاروں حملے کرنے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کی حکومت میدان جنگ میں نہ صرف موجود ہے بلکہ وہ لگا تار خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے بھی کر رہی ہے۔ اسرائیل پر ہونے والے حملوں نے جو ہیجان خیز صورتحال پیدا کی ہوئی ہے اسکی با تصویر خبریں امریکی میڈیا میں تواتر سے شائع ہو رہی ہیں۔ اس مخدوش صورتحال کو دیکھتے ہوے صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو گذارنے کے لیے حفاظتی دستے مہیا کرنے کا اعلان کیا۔ اس تجویز پر اس لیے عمل نہ ہو سکا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اتنی بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں جنہیں ختم کئے بغیر اس راستے کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس بحری راستے سے صرف ایران کی نگرانی ہی میں کمرشل ٹینکرز گذر سکتے ہیں۔
ایران کے چار سو کلو گرام افزودہ یورینیم پر قبضے کے بارے میں نیوکلیئر ‘ کیمیکل اور بائیو لاجیکل امور کے ماہر Andrew Weberنے لکھا ہے کہ وہ دو دہایوں تک مختلف ممالک میںکیمیکل اور نیوکلیئر میٹیریل کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام کرتے رہے ہیں۔ سب سے پہلے 1991 میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد انہوں نے یہ کام وسطی ایشیا کے ملک قازکستان میں کیا تھا۔ اس کے لیے امریکہ نے قازکستان کے صدر سے نیوکلئیر میٹیریل کے معائنے کی منظوری لی تھی۔ اسکے بعد امریکی ماہرین کی ٹیم نے چھ ہفتے تک مسلسل کام کر کے اس Fissile Material کو احتیاط سے پیک کر کے C-5-Galaxy Cargo Plane کے ذریعے ملک سے باہر منتقل کر دیا تھا۔ Andrew Weber کی رائے میں ایران سے حالت جنگ میںاس میٹیریل کو منتقل کرنا Next to impossible ہے۔خارگ جزیرہ جہاں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں پر قبضے کے بارے میں معروف کالم نگار David Frenchنے جب ریٹائرڈ جنرل سٹینلے میکرسٹل سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ تیس ہزار فٹ کی بلندی سے بم گرانے اور چھ فٹ کی بلندی سے دشمن کا مقابلہ کرنے میں بہت فرق ہے۔ جنرل میکرسٹل کے مطابق عراق میں امریکہ کی ڈھائی لاکھ فوج دس برس تک جنگ لڑتی رہی۔ اس نے ہر لڑائی جیتی مگر یہ جنگ ہار گئی۔ افغانستان میں بھی یہی کچھ ہوا۔ میکرسٹل کی رائے میں جب پوری قوم جنگ لڑنے پر آمادہ ہو تو اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔صدر ٹرمپ کے یہ تینوں نئے اہداف رجیم چینج کے ہدف کی طرح نا قابل حصول نظر آتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ چھ اپریل کو اپنے جاہ و جلال کو بچانے کے لیے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button