ہفتہ وار کالمز

پاکستان میں بڑھاپا!

حضرت عمر ابن الخطاب سے منسوب یہ قصہ ہے کہ انہوں نے ایک بوڑھے یہودی کو مدینہ کی گلیوں میں مانگتے دیکھا۔وہ شخص نہ صرف غریب اور عمر کی وجہ سے ضعیف بھی تھا، اور خیرات اس لیے مانگتا تھا کہ اس کے پاس جزیہ ٹیکس دینے کے پیسے نہیں تھے جو غیر مسلموں کو دینا پڑتا تھا۔حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ تم اس حال پر کیسے پہنچے؟ اس نے کہا کہ میری ضعیفی اور غربت نے بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا ہے۔عمر نے فوراً کہا ’’ہم نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے۔ہم نے تم سے اس وقت جزیہ لیا جب تم جوان تھے۔ اور اب تمہارے بڑھاپے میںتمہیں چھوڑ دیا۔انہوں نے پھر احکامات جاری کیے۔اس کے لیے اور اس جیسے لوگوں کے لیے جزیہ ٹیکس منسوخ کر دیا جائے۔ اسے بیت المال سے باقائدہ وظیفہ دیا جائے ۔کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے احکامات جاری کیے کہ کسی بھی ایسے بوڑھے اور ضعیف ، مسلمان یا غیر مسلم، کو بیت المال سے مالی معاونت دی جائے۔یہ واقعہ ریاستی سماجی بہبود کی بنیاد بن گیا۔ایک اور واقعہ قابل ذکر ہے:
حضرت عمرا بن ال خطاب، خلیفہ دوم، ہر صبح،چوری چھپے، مدینہ میں ایک نا بینا خاتون کو اس کا حال پوچھنے جاتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ اس کا گھر بھی صاف کرتے، کھانا بناتے، اور دیگر ضروتوں میں مدد دیتے۔یہ سارا ماجرہ ایک اور صحابی نے دیکھا کہ حضرت عمر ایک عرصہ دراز سے یہ سب کچھ کر رہے تھے۔اور کسی کو بتاتے بھی نہیں تھے۔یہ قصہ اکثر بزرگوں کی سیوا کے ضمن میں بتایا جاتا ہے۔
اویس قرنی یمن میں رہتے تھے، لیکن حضو رکی زندگی میں کبھی ان کو ملنے نہیں آئے۔ اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ اپنی بوڑھی ماں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اس سعادت مندی پر کہا گیا کہ رسول اکرم نے ان کی تعریف کی اور صحابہ کو بتایا اویس انتہائی پرہیزگاروں میںسے ایک ہیں۔اس قصہ سے سبق ملتا ہے کہ ماں باپ کی خدمت کو اپنی ذاتی ضروریات پر ترجیح دینا افضل ہے۔
سورۃ ال اسرا ((17:23-24 میں اس بارے میں حکم ہے: ’’ تمہار ے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سواکسی کی عبادت نہ کرو۔اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیںتو ان سے اُف تک نہیں کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کرنا۔‘‘ دوسری آیت میں حکم ہے، اور انکے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔‘‘سورہ لقمان کی آیت 14میں حکم ہے کہ ’’اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے کہ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا، اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑوانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے، میری ہی طرف لوٹ آنا ہے‘‘
کچھ احادیث بھی ان آیات کی تائید میں بیان کی جاتی ہیں۔ جیسے سنن ترمذی میں بیان کیا گیا، ’’وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر مہربان نہ ہو اور بزرگوںکی عزت نہ کرے۔‘‘
تاریخ بتاتی ہے کہ مسلما ن معاشروں میں، وقف جیسے ادارے بزرگوں اور کمزوروں کی دیکھ بھال کے لیے ہوتے تھے۔
اسلام ضعیفی میں جسمانی مجبوریوں کی شناخت کرتا ہے، اور شرعی بندشوں میں نرمی کا حکم دیتا ہے۔بڑا اصول ہے کہ ’’اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘(2:286) جیسے۔ اگر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھ بھی نہیں سکتے تو لیٹے لیٹے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں۔جو لوگ صحت کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے انکو اجازت ہے کہ نہ رکھیں۔وہ اتنے دن اپنی جگہ کسی مسکین کو کھانا کھلا دیں۔حج بھی ان پر فرض ہے جو جسمانی اور مالی لحاظ سے ان فرائض کو بجا لا سکتے ہیں۔وہ اپنی جگہ کسی کو حج کروا کر اپنا فرض پورا کرسکتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق 2023 میںپاکستان کی کل آبادی کے8 فیصد لوگ 55 سال اور اس سے اوپر کی عمر کے تھے۔ یہ تناسب 2001 میں بھی وہی تھا۔ٖفرق اتنا ہے کہ بائیس سال پہلے تعداد ایک کروڑ سے ذرا زیادہ تھی، اور 2023 میں یہ تعداد تقریباً دو کروڑ ہو چکی تھی کیونکہ پاکستان کی کل آبادی چوبیس کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی۔ بہر حال یہ تعداد بھی بہت کم ہے کیونکہ پاکستان کی آبادی زیادہ تر نوجوانوں کی ہے۔ جس کا مطلب ہے ابھی پاکستان کی آبادی بڑھتی رہے گی کیونکہ یہ نو جوان شادیاں کریں گے اور ان کے بچے پیدا ہو نگے، اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
اب ہم دیکھیں کہ پاکستان میں نوکری پیشہ کی ریٹائرمنٹ کی عمر کیا ہے؟مرد سرکاری ملازموں کو ساٹھ سال اور عورتوں کو 55 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ ملتی ہے۔ بھارت میں بھی ساٹھ سال ہے، اور بنگلہ دیش میں ۵۹ سال۔ اگر پاکستان میں بزرگوں کی تعداد کا اندازہ لگانا ہو تو ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد دیکھنا ہو گی۔جو بنتی ہے ایک کروڑ پینتیس لاکھ یعنی کل آبادی کا6فیصد۔یہ اس لیے اتنی کم ہے ، کہ پاکستان میں توقع حیات ہی مردوں کی 65سال ہے۔اور یہ بھی گذشتہ سالوں میں بتدریج بڑھ کر اس حد تک پہنچی ہے۔امریکہ میں،بزرگوں کا ایک بہت بڑا رفاہی ادارہ ہے ، جوان کے لیے مختلف سہولتیں اور رعائیتں دلواتا ہے۔ یہ پچپن سال کی عمر کے لوگوںکے لیے تھا لیکن اب 18سال اور اس سے اوپر کی عمر کے لوگ بھی رکن بن سکتے ہیں۔افغانستان اور مالدیپ میں سرکاری ملازمت میں ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہے۔
پاکستان میںبزرگوں کو (ساٹھ سال اور اس سے اوپر) کے لیے قوانین بنائے گئے جو وفاق اور صوبوں میں علیحدہ علیحدہ تھے۔ یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے نادرا سے سینئر سٹیزن کارڈ بنوانا پڑتا ہے۔ان فوائد میں شامل ہیں: بینکوں میں بزرگوں کے لیے علیحدہ کائونٹر اور لائینیں؛ بینکوں میں بچت کی خاص سکیم جیسے بہبود بچے سرٹیفیکیٹ؛ انکم ٹیکس میں کم آمدنی، پینشن اور سرمایہ کاری کے منافع پر چھوٹ؛ دوائوں پر مخصوص دوا خانوں میں 20۔25 فیصد رعایت؛ صحت کا بیمہ جیسے سندھ میں سینئر کارڈ والوں کو مفت ہیلتھ انشورینس، ایک حد تک؛ اندرون ملک سفر میں 25۔50فیصد رعایت ٹرین یا ہوائی سفر کے لیے۔اور بزرگوں کے لیے علیحدہ کائونٹرز؛ والدین کو اولاد گھر سے باہر نہیں نکال سکتی، خواہ وہ گھر اولاد کا ہی ہو، اکثر پبلک پارکس، عجائب گھر اور لائبریریوں میںمفت داخلہ،پاکستان بیت المال سے یا صوبائی فنڈ سے مستحق افراد کو مالی معاونت۔کے پی میں، بزرگوں کے لیے جمنازیم، سیلون اور عارضی رہائش گاہیں۔
مندرجہ بالا سہولتیں اور رعائتیں، نمائشی لگتی ہیں۔ مثلاً صرف 2.3فیصد آبادی کو پینشن ملتی ہے جنہوں نے سرکاری نوکری کی ہو۔جب کہ ستر فیصد کام کرنے والے غیر رسمی شعبہ میں کام کرتے ہیں ان کے لیے کوئی سہولت اور فائدہ نہیں۔اور بڑھتی ہوئی مہنگائی میں بزرگوں کو دوا دارو، کھانا،رہائش جیسی ضروریات بھی پوری نہیں ملتیں ۔بڑھاپے کی بیماریوں کے خصوصی معالج تقریباًنا پید ہیں۔ 47فیصد بوڑھے لوگوں کے لیے ہیلتھ کئیر ان کی استطاعت سے باہر ہے۔اور 73فیصد اخراجات اپنی جیب سے دینے پڑتے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں بے حد رش ہوتا ہے۔اور بوڑھوں کے لیے علیحدہ وارڈ تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔دیہاتی علاقوں میں تو بنیادی سہولتیں بھی شاذ و نادر ہوتی ہیں۔
والدین کا گھر جسمیں سب بچے اکٹھے رہتے تھے اب وہ بھی ختم ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بوڑھے والدین بے یار و مدد گار رہ جاتے ہیں۔اکثر بزرگ تنہائی کی شکایت کرتے ہیں، انہیں زندگی بے مقصدنظر آتی ہے۔اگرچہ اولڈ ہوم کی ضرورت ہے لیکن لوگ والدین کو ان میں رکھنا نہیں چاہتے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ صوبوںنے اگر چہ سینئر کارڈ تو جاری کر دئیے ہیں لیکن وہ ان سہولتوں کے لیے فنڈز نہیں جاری کئیے۔ویسے بھی اکثر بزرگوں اور ان کے قرابت داروںکوکو معلوم ہی نہیں کہ ان کو کیا سہوتیں ملنی چاہئیں؟ اس پر طرہ یہ کہ بزرگوں کی جمع پونجی لوٹنے کے لیے سب تیار ہوتے ہیں۔اورانکی حفاظت کے لیے کوئی بند و بست نہیں۔
پاکستان میں کچھ رفاہی ادارے عمر رسیدہ کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں جیسے، Foundation for Ageing and Inclusive Development (FAID) اس کے مقاصد میں بوڑھوں کی وکالت کرنا، صحت مندانہ بڑھاپا، اور پسماندہ گروہوں کی حمایت، لاہور میں مستحق بوڑھوں کی مالی معاونت، اور مشورہ جیسے مفلس بوڑھوں کو ضروریات زندگی مہیا کرنا،گھر میں نرسنگ کی خدمات اور مفت طبی سہولت،دینا۔
سینیرز سٹیزن فائونڈیشن آف پاکستان ،اسلام آباد ، ریٹائرڈ ملازموں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے، خصوصاً ان کی پینشن اور سماجی بہبود کے لیے۔
ایدھی فائونڈیشن پاکستان بھر میں18ایدھی ہومز (اپنا گھر) چلاتی ہے۔ان میںبوڑھوں، بے سہارااور ذہنی مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔ان کو طبی سہولتیں اور معاشرتی ضروریات دی جاتی ہیں۔
چھیپا ویلفئر ایسوسی ایشن، بے سہارا بوڑھوں کے لیے مفت رہائش فراہم کرتی ہے۔
JDC Foundation۔ بے سہارا اور لا وارث بزرگوں کو رہائش دیتی ہے۔
دار السکون، یہ معذور بچوں کو رکھتا ہے اور بوڑھی بے سہارا عورتوں کو بھی پناہ دیتاہے۔ ان کے علاوہ الخدمت فائونڈیشن ، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ، کراچی میں پاکستان سینئرز ایسوسی ایشن کے نام قابل ذکر ہیں۔
قارئین، آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ حکومت کی بزرگوں کے لیے تھوڑی بہت سہولتیں ہیں، اور رفاہی ادارے بھی محدود سطح پر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، لیکن یہ سب کچھ ان مصائب اور مشکلا ت کا مداوہ نہیں جو پاکستان کے دو کروڑ عوام کو در پیش ہیں۔ابھی عوامی رفاہی اداروں کو زیادہ فعال ہونا پڑے گا کہ وہ خصوصاً دیہی علاقوں میں سہولتیں دیں جہاں نہ حکومت پہنچتی ہے اور نہ ہی فلاحی ادارے۔
پاکستان میں یہ تصور موجود ہے کہ بزرگوں کا کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کی اولاد اور اقربا ان کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ بات عمومی حد تک صحیح ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود بوڑھے لوگوں کی بہت ضروریات ہوتی ہیں جو پوری نہیں ہوتیں۔ وہ اکثر اپنی قسمت پر راضی رہتے ہیں۔لیکن اگر ان کی اولاد ہے تو اس کو چاہیئے کہ ان کو ماہانہ کچھ نقد دیا کرے تا کہ وہ اپنی چھوٹی موٹی ضروریات پوری کر سکیں، انہیں تفریح کے لیے اپنے ساتھ لے جایا کریں اور اور ان کے علاج معالجے میںمالی مدد اور سہارے کو نہ بھولیں۔جن کی اولاد اس قابل نہیں یا بے اولاد ہیں تو انکے قریبی عزیزوں کو اولاد کی جگہ یہ کام کرنے چاہئیں۔ پاکستان کی حکومت کے پاس نہ کبھی اتنا پیسہ ہو گا کہ اس کی ترجیحات میں بوڑھوں کے لیے جگہ بن سکے۔آج کل پاکستان مہنگائی کے طوفان میں گھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے توقع حیات میں اضافہ کے بجائے کمی کے امکان زیادہ نظر آتے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، دنیا میں بھوک اور افلاس بڑھنے والے ہیںجس کی وجہ ایران پر جنگ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں مزید ساڑھے چار کروڑ لوگ سخت قحط اور بھوک سے دو چار ہونگے۔ چونکہ ذرائع آمد و رفت، میں کمی کی وجہ سے تیل، خوراک اور شپنگ کے اخراجات بہت بڑھ جائیں گے۔اس سے دنیا میں بھوک اور افلاس تاریخی سطح پر پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
اب آخر میں کچھ بڑھاپے کے بارے میں کہاوتیں:
جارج برنارڈ شا نے کہا، ’’جب آپ بوڑھے ہو رہے ہوتے ہیں تو اپنی ہنسی نہیں روک سکتے۔ جب آپ ہنسنا بند کر دیں تو سمجھیں کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں۔‘‘
’’جو کوئی اس قابل ہے کہ وہ خوبصورتی کو دیکھ سکے، کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔‘‘فرانز کافکا
’’ بوڑھے ہونا ایسے ہی ہے جیسے کہ پہاڑ پر چڑھنا۔ آپ کو سانس تو چڑھتی ہے لیکن نظارہ خوبصورت ہوتا جاتا ہے۔‘‘انگرڈ برگمین
کیتھ رچرڈ کا قول ہے۔’’بوڑھے ہونا ایک دلچسپ منزل ہے۔ جتنے زیادہ بوڑھے ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ اور بوڑھا ہونا چاہتے ہیں۔‘‘
اور آخر میں، ابراہیم لنکن نے کہا ’’آخر کار،یہ گنا جاتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کتنے سال تھے، یہ نہیں کہ کتنے سالوں میں زندگی تھی۔‘‘

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button