یہ بزدل یہ ملت فروش سامراجی غلام جرنیل!

یزیدِ وقت عاصم منیرنے، جو اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگا ہے، اسلام آباد، کراچی، پاراچنار اور گلگت بلتستان کے شیعہ علماء کو اپنے حضور طلب کرکے انہیں گھنٹے بھر سے زیادہ اپنے بھاشن کا محصور رکھا! یہ اس ہفتہ کی سب سے اہم خبر ہے جس پر جتنا بھی غور کیا جائے کم ہے۔ ایک نیم خواندہ، تقریبا” جاہلِ مطلق، کی یہ جسارت کہ ان علماء کو بھاشن دے جومنبر پر اس وقت تک بیٹھ نہیں سکتے جب تک وہ قم یا نجف جیسے آستانہء علمیہ سے فارغ التحصیل نہ ہوں۔ لیکن یزید کو اپنی طاقت کا وہی زعم ہے جو اس کے سرپرست، بدمست صدرِ امریکہ، ڈونالڈ ٹرمپ کا ہے اور جس سے مغلوب ہوکر اس نے ایران کو اپنے صیہونی حلیف کی مدد سے یلغار کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔یزید کا علماء کو بھاشن بھی ایران پر طاغوت کے حملہ کے پسِ منظر میں تھا لیکن یزید نے اپنے سامراجی اور صیہونی مربیوں کی مذمت نہیں کی بلکہ مذمت کی تو ان جیالے، حریت پسندوں کی جنہوں نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت کے بعد احتجاج کیا تھا اور جس کے جواب میں یزیدی فوج نے درجن بھر سے زیادہ احتجاج کرنے والے جوانوں کو اپنی گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔یزید نے سامراجی اور صیہونی جارحیت کا ذکر کرنے کے بجائے علماء کو تنبیہ کرتے ہوئے یہ دھمکی دی کہ وہ ملک میں کسی بھی ہنگامہ یا احتجاج کو برداشت نہیں کرے گا اور پھر اپنے زعم میں یہ فرعونی جملہ کہا کہ جسے ایران سے ہمدردی ہے وہ پاکستان سے ایران چلا جائے!یزید اپنی رعونت میں یہ بھول گیا کہ وہ پاکستان کا مالک نہیں ہے اگرچہ اس کی طاغوتی طاقت نے پاکستان کو اپنا یرغمال بنایا ہوا ہے پھر بھی پاکستان ہر اس شہری کا وطن ہے جو اس کی مٹی سے محبت کرتا ہے اوروطن کی عزت و ناموس جسے عزیز ہے!ہم اس فرعونِ بے ساماں یزید عاصم منیر سے یہ پوچھتے ہیں کہ تم ہوتے کون ہوپاکستان سے محبت کرنے والوں کو یہ مشورہ دینے والے کہ وہ پاکستان چھوڑدیں اگر انہیں ایران سے، جس پر طاغوت اور صیہونیت نے بلاجواز جنگ مسلط کی ہے اور اسےایک ایسی آگ میں جھونکا ہے جو اس نے نہیں لگائی، ہمدردی رکھتے ہیں یا محبت کرتے ہیں؟۔
یہ خرافات اس کے منہ سے نکل رہی تھی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ حافظِ قرآن ہے لیکن جس کا فرعونی عمل اس دعویٰ کی نفی کرتا ہے۔ طوطے کی طرح قرآنی آیات توشاید اس فرعون نے رٹ لی ہوں لیکن ان کے مفہوم سے یہ جاہل قطعا” نابلد ہے۔ نابلد نہ ہوتاتواسے معلوم ہوتا کہ کائنات کا پیدا کرنے والا اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ مظلوم کی حمایت کرے اور ظالم کی مذمت!لیکن یہ بے ضمیر، بے غیرت تو ملت فروش ہے اور انہیں ظالم شیاطین کے ہاتھ پر بیعت کرچکا ہے جنہوں نے ایران کو اپنی جارحیت اور شقاوت کا نشانہ بنایا ہے۔ اس یزیدِ وقت کے زعم اور تکبر کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ وہ جو خود کو خدا سمجھ بیٹھا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ فیلڈ (فراڈ) مارشل عاصم منیر اس کا پسندیدہ جرنیل ہے۔کم ظرف کی پہچان یہی ہے کہ اس کے سیر کے برتن میں جب سواسیر ڈالا جائے تو وہ فورا” چھلک اٹھتا ہے، تو عاصم منیر جیسے چھٹ بھئیے کیلئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے کہ فرعونِ وقت اس کی تعریف اور توصیف کر رہا ہے حالانکہ عقل والے جانتے ہیں کہ اسکی یہ تعریف صرف اور صرف اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ہے اور کم ظرف اس کا بھرپور ثبوت دے رہا ہے علمائے دین کو یہ دھونس دےکے کہ انہیں اگر ایران سے ہمدردی ہے تو وہ پاکستان چھوڑ دیں!ان با ضمیر علماء نے جن کے منہ پر عاصم منیر کی غلامی کے تالے نہیں پڑے یزید کا بھاشن سننے کے بعد یہ بتایا کہ ایک تو گھنٹہ بھر سے زیادہ ایک جاہلِ مطلق ان کے کان کھاتا رہا پھر بھاشن کے دوران یزید کا لہجہ درشت اور زبان تلخ تھی اور یہ کیوں نہ ہوتا کہ چھٹ بھئیا اپنے مالک کا غلام وہی کر رہا تھاجس کا اسے حکم دیا گیا تھا!اسی لعین نے تو اسلامی شعائر کی وہ بے حرمتی کی ہے جو یزید نے بھی نہیں کی تھی۔ یزید کے دور میں کم از کم نماز کی تو اجازت تھی اگرچہ وہ خود نشہ میں دھت رہتا تھا لیکن اس یزید کے تکبر کا تو یہ عالم ہے کہ اس نے عمران خان پر جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرنے کی پابندی لگائی ہوئی ہے۔انتہا اس کی نماز کی تذلیل کی یہ ہوئی کہ اس رذیل نے عمران کو عید کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی!اللہ نہ جانے کب تک اس شیطان کی رسی دراز رکھے گا اور اس کو کھلی چھٹی ملی رہے گی کہ یہ پاکستان کے چوبیس پچیس کڑوڑ عوام کے سینوں پر مونگ دلتا رہے!مجھے کبھی کبھی، میرے منہ میں خاک، یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اللہ نے ہمارے اس دور کو، اس زمانہ کو، شیطان کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ رمضان کے متبرک مہینہ میں، جسے اللہ کا مہینہ کہا جاتا ہے، شیطان تو، عام روایت کے مطابق بند ہوجاتا ہے لیکن شیطان کے ارضی چیلے اسی مقدس مہینے میں کھل کھیلتے رہے۔ اسی مہینے میں شیاطین ٹرمپ اور نیتن یاہو( شیطن یاہو) نے ایران کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا اور پاکستانی شیطان، عاصم منیر عمران خان پر مظالم توڑتا رہا اور عمران کو چاہنے والے پاکستانیوں کو اپنے غرور کی چکی میں پیستا رہا!
فیض نے کہا تھا کہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
لیکن آج ہم اپنی دنیا کو جس ظلم کے پھندے میں جکڑا دیکھتے ہیں اس کے مٹنے کے تو کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے!
رمضان ختم ہوئے اور عید اس عالم میں آئی کہ ہم یہ کہنے پہ مجبور ہوئے کہ
خوشی کی جس میں میسر نہیں ہے کوئی وعید
یہ کیسی عید ہے، مالک، یہ عید کیسی ہے !
ایران کے خلاف استعماراتی اور صیہونی جارحیت اپنے عروج پہ ہے جس کےجواب میں حریت پرست ایران نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے بلکہ شر کی قوتوں کو منہ توڑ اور بھرپور جواب بھی دے رہا ہے !
ان دو متحارب قوتوں کے درمیان خلیج کے وہ عرب ممالک ہیں جن کی سرزمین، ایران کا الزام یہ ہے، کہ اس کے خلاف جارحیت کیلئے استعمال ہورہی ہے اگرچہ ان ممالک کے حکمراں اس سے انکار کرتے ہیں لیکن اس حقیقت کو جھٹلایا بھی نہیں جاسکتا کہ ہر خلیجی عرب ملک میں امریکہ کے فوجی اور ہوائی اڈے ہیں۔لیکن عرب حکمرانوں پر اب یہ تلخ حقیقت بھی آشکار ہورہی ہے کہ ان کی سرزمین استعمال تو ہورہی ہے لیکن ان کی حفاظت کیلئے نہیں بلکہ صرف اور صرف صیہونی اسرائیل کی حفاظت کیلئے طاغوت کا ہرکارہ ان کی زمین کو بیدریغ استعمال کر رہا ہے کیونکہ اس کی دانست میں وہ اس دنیا کا خدا ہے اور ہر بندہء خدا پر اس کی اطاعت لازم و ملزوم ہے !بزعمِ خود دنیا کا مالک و مختار سمجھنے والے ٹرمپ کے ہاتھوں دنیا جس عذاب کا شکار ہے ویسے ہی عذاب کو پاکستانی قوم جھیل رہی ہے یزیدِ عصر کے عتاب میں۔ یہ لعین بھی تو اسی غلط فہمی کا شکار ہے کہ اللہ نے اسے پاکستان اور اس کی قوم کے جملہ حقوق ودیعت کردئیے ہیں کہ وہ جو چاہے اس کا حشر کرے اور حشر ہورہا ہے۔یزید کا سب سے چہیتا چھٹ بھئیا محسن نقوی ہے جو ملک کا وزیرِ داخلہ بھی ہے، اور بہت سوں کے خیال میں وہی اصل وزیرِ اعظم بھی ہے جبکہ بوٹ پالشیہ شہباز تو صرف دکھاوے کا وزیرِ اعظم ہے۔ لیکن لعین محسن نقوی پاکستانی کرکٹ کا بھی باوا آدم بنا ہوا ہے اور اس کی بقراطیت کا تازہ ترین کارنامہ یہ ہے کہ ملک میں ایران-امریکہ جنگ سے پیدا ہونے والے بحران کو جواز بنا کر اس بقراطِ لعین نے یہ فرعونی حکم جاری کیا ہے کہ پی ایس ایل کرکٹ کے تمام میچزتماشائیوں کے بغیرکھیلے جائینگے اور صرف دو شہروں، کراچی اور لاہور میں ہونگے!اس سے بڑھ کراور کوئی حماقت ہوسکتی ہے، کوئی ظلم ہوسکتا ہے، کہ کرکٹ، جو پاکستانیوں کا دوسرا مذہب ہے، اس کے میچ ہوں لیکن شائقین کو اسٹیڈیم میں داخل نہ ہونے دیا جائے؟!لیکن فرعون اور یزید ہر ظلم کر رہے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ مردہ اور بے ضمیر پاکستانی قوم اس حد تک بے حس ہے کہ یہ کڑوی گولی بھی بلا چون و چراں نگل لیگی !ایسی بے حس قوم کا یہی حال ہونا چاہئے جو یزید عاصم منیر اور اس کے ملت فروش جرنیلی ٹولہ کے ہاتھوں ہورہا ہے!ایسے میں بہار کا موسم بھی آغاز ہوگیا لیکن یہ فصلِ بہار خزاں سے ایسی آلودہ ہے کہ اسے بہار کہنے کو دل نہیں چاہ رہا۔تو چلئیے، یہ چار مصرعے اسی تناظر میں پڑھئیے اور اجازت دیجئے اس دعا کے ساتھ کہ اللہ کوئی معجزہ دکھائے اور ہماری دنیا کو اس کے موجودہ فراعین اور یزیدیوں سے نجات دلوائے:
خون کے داغ لئے آئی ہے یہ فصلِ بہار
پھول کیسے کھلیں ہر سمت ہے جب گرد و غبار
کھاگئی کس کی نظر میرے چمن کو، گلچیں
اضطراب ایسا کہ ہر گوشہ ترستا ہے قرار !



