ہفتہ وار کالمز

امریکہ ‘ ایک مذہبی ریاست!

امریکہ میں اگر مذہبی آزادیاں نہ ہوتیں تو بہت کم لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر اس میں سکونت اختیار کرتے۔ کسی بھی مذہب کے پیرو کار اپنی معاشی مجبوریوں کے باوجود کسی ایسے ملک میں رہنا پسند نہیں کرتے جہاں انہیں اپنے عقائد پر کاربند رہنے میں مشکلات کا سامنا ہو۔ مغربی ممالک تمام مذاہب کے احترام کا پرچار کرتے ہیں اور تارکین وطن کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں عبادت کرنے اور اپنی عبادت گاہوںکی تعمیر و ترقی میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑیگا۔ امریکی آئین نے ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی ہوئی ہے۔ ہر امریکی صدر کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ بھی تمام مذاہب کے احترام کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تمام مذاہب کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے Religious Liberty Commission بنا رکھا ہے جسے ملک بھر میں مذہبی عقائد کی ترویج و ترقی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان یونیورسٹیوں پر بھاری جرمانے عائد کئے ہیں جن میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے تھے۔ امریکہ کی اعلیٰ ترین جامعات سے یہ طویل سیاسی جنگ صدر ٹرمپ نے یہودی مذہب کی حفاظت کے نام پر لڑی۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میںوائٹ ہائوس میں مذہبی رہنمائوں کی ایک یقریب میں کہا ” I have done more for religion than any other president.” صدر امریکہ نے یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب انکی ریپبلیکن پارٹی کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کر رہی ہے۔ ایک صدارتی امیدوار کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تینوں انتخابی مہمات کے دوران اپنے ووٹروں سے مسلمان ممالک سے امریکہ آنیوالوں پر پابندی لگانے کے وعدے کئے تھے۔ وہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ "I think Islam hates us” مسلمانوں سے نفرت صدر ٹرمپ کا ایک ذاتی تعصب ہونے کے علاوہ انکی MAGA تحریک کی نظریاتی اساس کی ایک خصوصیت بھی ہے۔ اگر چہ کہ یہ تحریک اب اسرائیل کی حمایت کے مسئلے پر دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ امریکہ میں یہودیوں کے گڑھ نیویارک میں ظہران ممدانی کا میئر منتخب ہونا ظاہر کرتا ہے کہ انکے قلعے میں شگاف پڑھ چکا ہے۔واشنگٹن کی طاقتور یہودی لابی نے ظہران ممدانی کے خلاف ایک زہریلی مہم چلانے کے علاوہ کئی سو ملین ڈالر بھی صرف کئے مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے جسکے بعد اب یہودیوں کی نمائندہ تنظیمAIPAC کو انکے مخالفین کاغذی شیر کہنے لگے ہیں۔ لیکن اس لابی کی جڑیں امریکہ کے ریاستی نظام میں اتنی گہری ہیںکہ اسے کسی بھی صورت ایک کمزور حریف نہیں سمجھا جا سکتا۔
ٹرمپ انتظامیہ ان حقائق کے باوجود مسلمانوں سے اپنی نفرت اور دشمنی کا اظہار کرتی رہتی ہے۔ اسکا یہ تعصب اسوقت مضحکہ خیز ہو جاتا ہے جب وہ ایران کے خلاف خلیجی ممالک کے حکمرانوں کی حمایت میں رطب اللسان ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہرسال اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے والے گاہکوں کو ناراض نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مصلحت اگر مانع نہ ہوتی تو انکی مسلمانوں سے نفرت کی کوئی حدود و قیود نہ ہوتیں۔
ریپبلیکن پارٹی کے کئی رہنما اسلام دشمنی کے اظہار میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ ٹیکساس کے سینیٹر Brandon Gill نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’’ اسلام ہمارے کلچر اور ریاستی نظام سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ‘‘ فلوریڈا کے ریپبلیکن کانگرس مین Randy Fine کا کہنا ہے کہ ’’ امریکہ کے مسلمان شہریوں کو ڈی پورٹ کر دینا چاہیئے‘‘۔ صومالیہ جسکی آبادی ننانوے فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے اکثرصدر ٹرمپ کی تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔ اس کے بارے میں انکا کہنا ہے کہ یہ کم آئی کیو والے لوگ ہیں۔ انکا ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ ہمارے ملک میں رہیں۔ صدر ٹرمپ اپنی اسلام دشمنی کے خبط میں ان حقائق کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ امریکی مسلمان بھی اربوں ڈالر کا ٹیکس دیتے ہیں‘ وہ کئی نسلوں سے اس ملک میں آباد ہیںاور ریاستی اداروں کے علاوہ امریکی افواج میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور انکی ریپبلیکن پارٹی کو آج اسلامو فوبیا کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔آجکل ڈیموکرٹک پارٹی شدو مد کیساتھ ان سے ایران پر حملے کے جواز بتانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ گذشتہ جون میں ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کے بعد کہہ چکے تھے کہ انہیں ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔ اب ایران پر دوسرے حملے کی کوئی معقول وجہ بتانے کی بجائے صدر ٹرمپ اور انکے نائیبین عالم اسلام کے بارے میں زہر افشانی کرتے رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی نیشنل انٹیلی جینس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ جو انڈین نژاد ہیںمسلمانوں سے شدیدنفرت کرتی ہیں۔ امریکی اخبارات میں انکے BJP اور RSS کیساتھ گہرے روابط کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ نیشنل انٹیلی جینس کمیٹی کے 18 مارچ کے سیشن میں تلسی گیبارڈ نے کہا کہ پاکستان کے میزائل پروگرام امریکہ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ ڈیفنس سیکرٹری پیٹ ہیگسیتھ نے امریکی عوام سے کہا ہے کہ ’’ آپ ہر روز اللہ کے حضور جھک کر ‘ اپنے خاندان سمیت‘ اپنے سکولوں میں‘ اپنے گرجا گھروں میں یسوع مسیح کے نام پر دعا کریں کہ وہ ہماری سپاہ کو فتح سے ہمکنار کرے‘‘۔ صدر ٹرمپ کی MAGA تحریک کے بعض لیڈر اپنے حامیوں کو ایسے مقدس جنگجو قرار دیتے ہیں جو امریکہ کو اسکی مسیحی اقدار سے جوڑنے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ا مریکہ کے سیکولر آئین میں اگر چہ کہ مذہبی انتہا پسندی کی گنجائش نہیں مگر لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے ملک کو ایک مذہبی ریاست کے روپ میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ یہ حربہ انکے عزائم کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے اور انکی صدارت کے بقائے دوام کا نسخہ بھی ۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button