ہفتہ وار کالمز

بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، عرب ممالک کو اب چھریاں نظر آنا شروع ہو جانی چاہئیں!

اسرائیل، امریکہ، ایران جنگ کو تیسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے اور پتہ نہیں چل رہا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ امریکہ میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آخر صدر ٹرمپ کا اس جنگ کو شروع کرنے کا مقصد کیا تھا اور ٹارگٹ کیا تھے۔ ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ اسرائیل، امریکہ کی طفیلی ریاست ہے مگر اس وقت جاری جنگ نے اب یہ محاورہ الٹ کر رکھ دیا ہے، دنیا اب یہ کہہ رہی ہے کہ امریکہ، اسرائیل کی طفیلی ریاست ہے، یہ بات اب ایک کھلی حقیقت بن چکی ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ جنگ اسرائیل اور نیتن یاہو کے کہنے پر شروع کی تھی، امریکہ کے ٹاپ کائونٹر ٹیرررازم کے عہدیدار اور ڈائریکٹر جوکینٹ (joe keut)نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کو ناجائز قراردیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کینٹ نے اپنے خط میں قرار دیا ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ اسرائیل اور نیتن یاہو کے دبائو میں آکر شروع کی اور اسے اب ختم کر دینا چاہیے۔ جوکینٹ نے کہا کہ ایران کی حکومت امریکہ کیلئے کسی قسم کا خطرہ نہیں تھی۔ یاد رہے کہ جوکینٹ امریکی حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں جنہیں خود ٹرمپ نے اس اعلیٰ عہدے پر فائز کیا تھا اور اس استعفے سے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کو بہت بڑا دھچکا پہنچا ہے، اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے ۔ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیاسے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کینٹ ایک اچھا آدمی تھا مگر کمزور ایڈمنسٹریٹر تھا۔ دنیا صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف اسرائیل کیساتھ جنگ میں جانے کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے۔ سارا یورپ اس جنگ میں ٹرمپ کیساتھ ملوث ہونے سے انکاری ہے اور مسٹر ٹرمپ ایک طرح سے اس وقت اکیلے پن کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کو اس حوالے سے تقریباً ہر روز وائٹ ہائوس میں پریس بریفنگ دی جارہی ہے اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور نئی نئی تاویلات پیش کرنے پر ان کی ذہنی حالت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ امریکی صحافی جو صدر ٹرمپ کی ان قلابازیوں کا پردہ چاک کررہے ہیں اب ان پر الزامات لگا کر گرفتار کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ میں ان کے پسندیدہ فیلڈ مارشل کی روح سما گئی ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ کے تناظر میں صدر ٹرمپ کا IMPEACHMENTیا مواخذہ کر کے فائر بھی کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کی پارس ریفائنری پر حملے کے بعد ایران نے جو ابی کارروائی کرتے ہوئے قطر کی سب سے دوسری بڑی دنیا کی ایل این جی ریفائنری پر زبردست حملہ کر دیا اور پھر اسرائیل کی سب سے بڑی حیفہ آئل ریفائنری پر میزائلوں سے حملہ کر کے زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ اچھا پولسیا اور برا پولسیاکھیلتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خود کو اس اسرائیلی حملہ سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کہا ان کو اس اسرائیلی حملے کا علم نہیں تھا اور نیتن یاہو نے امریکہ کو پہلے سے باخبر نہیں کیا تھا وگرنہ وہ منع کر دیتے۔ اب جب ایران نے اسرائیل، قطر اور سعودی عرب کی ریفائنریز پر حملہ کیا تو صدر ٹرمپ معصوم بن رہے ہیں۔ واہ کیا خوب حکمت عملی ہے۔ اگر تہران کی سڑک پر گاڑیوں کے ہجوم میں چلتے ہوئے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کا علم اور محل وقوع نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کو ہو سکتا ہے تو بھلا یہ ممکن ہے کہ ایران کی رقبوں میں پھیلی سب سے بڑی پارس (PARS)آئل ریفائنری کے بارے میں ٹرمپ کو علم نہ ہو؟ اب جب ہمارے جوان میرنیز کی لاشیں تابوتوں میں آرہی ہیں تو ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہمیں علم میں نہیں تھا کہ ایرانی اتنے طاقتور اور اسلحہ بارود سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ دیکھا جائے تو یہ سب سے بڑی ٹرمپ اور امریکی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے کہ دشمن پر حملہ کرنے سے پہلے انہوں نے معلومات ہی نہیں حاصل کیں کہ ان کادشمن کتنا چالاک ہے۔ صرف اس ایک ناکامی پر ہی صدر ٹرمپ کا استعفیٰ دینا بنتا ہے مگر جیسا کہ ہم نے کہا کہ چور کا بھائی گرہ کٹ، جنرل عاصم منیر کا بڈی ڈونلڈ ٹرمپ، دونوں ہی کی ڈھیٹ چمڑی ہے اور دونوں ہی بے حس ہیں۔ اس سے پہلے میناب کے سکولوں کی 165بچیوں کے قتل پر بھی جنرل ٹرمپ اس قسم کی لاعلمی کا اظہار کر چکے ہیں، قربانی جائیے اس بھولپن پر!!!!!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button