ہفتہ وار کالمز

‘شور اور شعور میں شیطان سے مذاکرات !

‘شور اور شعور پروفیسر ڈاکٹر سید زوار حسین شاہ کے انشائیوں کا تازہ مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں سولہ انشائیے شامل ہیں۔کتاب کھول کر جیسے ہی فہرست پر نظر ڈالی تو یوں محسوس ہوا کہ گویا سولہ کے سولہ انشائیے مجھے اپنے ان گنت ہاتھوں سے پکڑنے اور اپنی ہمہ جہت معنی آفرینی کے طلسم میں جکڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔سچ پوچھیں تو اس وقت میری پوری توجہ پاکستان کی طرف سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری اور ممکنہ یا مجوزہ مذاکرات پر مرکوز ہے ۔ایران والے بیسویں صدی کی ستر اور اسی کی دہائی سے امریکہ کو شیطان بزرگ کہتے چلے آ رہے ہیں ۔اور سچ پوچھیئے تو امریکہ نے بھی تبھی سے ایرانیوں کے اس خیال کو سچ ثابت کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں وقف کر رکھی ہیں۔اب جب سے ایران پر اسرائیل کے اُکساوے میں آکر امریکہ نے آتش و آہن کی بارش شروع کر رکھی ہے ،تب سے تاریخ میں پہلی بار دنیا کی دو ایٹمی طاقتوں (جن میں سے ایک کو دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا دعویٰ بھی ہے) کو ایک ایسے ملک سے شکست اور ہزیمت کا سامنا ہے ،جس نے گزشتہ تین دہائیوں سے مکمل پابندیوں کا سامنا کرنے کے باوجود خود کو بے بس اور کمزور نہیں ہونے دیا تھا۔ ایران نے شیطان بزرگ امریکہ اور شیطانچے اسرائیل کو اپنے انواع و اقسام کے ڈورنز اور ہمہ قسم میزائلوں کی پیہم یلغار سے اتنا بے بس کر دیا ہے کہ اب خود متکبر امریکہ پانچ روز کی جنگ بندی کی بھیک مانگ کر مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔یہ تو سنجیدہ باتیں تھیں ،ان میں مزاحیہ منظر یہ بن رہا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات کے امکان ،مکان اور سازو سامان کا سہولت کار بن کر سامنے آیا ہے۔بات تو بہت اچھی ہے ،اگر ایسے ہی ہو اور مقصد مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کا سچا عزم ہو۔لیکن جہاں اہل ایران شیطان بزرگ کی نیت پر شک کر رہے ہیں ،وہیں پاکستان ،کہ جو اس وقت خود ایک ملک کے ساتھ حالت جنگ میں ہے ،کی سفارت کاری کے حال اور مآل نے متوجہ اور متوحش کر رکھا ہے۔اچھا اس قسم کی ذہنی مصروفیات کے پس منظر میں آج انشائیوں کے مجموعے شور اور شعور کی ورق گردانی شروع کی تو نظر سیدھی ایک انشائیے پر جا رکی ، بلکہ جا ٹکی ۔انشائیے کا عنوان ہے شیطان سے مذاکرات آنکھیں حیرت سے کھل گئیں اور کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ایک ایشیائی مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں سادات کے روحانی تصرفات سے واقف و آگاہ تو ہوں ،پر ایک پروفیسر اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ،جو حاضر سروس دانشور اور باکمال ادیب بھی ہوں ،یعنی سید زوار حسین شاہ کے روحانی درجات اس قدر بلند ہو جائیں گے کہ وہ مستقبل کے حالات و واقعات کو اپنے انشائیے کا عنوان بنا کر ، شیطان سے مذاکرات کے انجام تک کی طرف بھی اشارہ کر گزریں گے ، ایسا گمان ہر گز نہیں تھا۔پر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہر طرح کے عمرانی اصول و ضوابط سید کے سامنے غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ویسے بھی ڈاکٹر سید زوار حسین شاہ کی میانہ روی ، حب الوطنی ، رحمدلی ، انسان دوستی اور سادگی ہی تو ہے کہ جس کی وجہ سے وہ اپنے روحانی تصرفات کو پردۂ اخفا میں رکھتے ہیں۔اور بھری بزم میں راز کی بات کہنے کی بجائے انشائیے کا پیرایہ بیان اختیار کرتے ہوئے اپنے پُرلطف اور پُر مزاح اسلوب میں معرفت کی باتیں کر جاتے ہیں ۔ پڑھنے والے اپنی صلاحیت ، رسائی اور فہم و فراست کے مطابق سمجھ بوجھ لیتے ہیں۔اب مجھے ہی دیکھ لیں ، میں ایک عام سا پاکستانی ، جو ایران امریکہ مذاکرات میں سے مذاق اوررات کو الگ کرنے اور سمجھنے میں مصروف تھا کہ اسے اچانک انشائیوں کی ایک چہچہاتی ہوئی کتاب میں شیطان سے مذاکرات کے عنوان کا انشائیہ متوجہ کرتا ہے ، اور اپنی طرف کھیچ لیتا ہے۔اس انشائیے میں مصنف لکھتا ہے کہ…مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ شیطان سے ہماری ملاقات کو ہرگز کارنامہ قرار نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اس ملاقات کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ بلکہ شیطان سے ملاقات کو منفی ، غیر حقیقی اور غیر اخلاقی رنگ دینے کی کوشش کی جائے گی اور طرح طرح کی گفتنی اور نا گفتنی باتیں ہمارے اور شیطان کے بارے میں کہی جائیں گی۔ خیر کوئی بات نہیں ہمیشہ خلوص نیت سے کام کرنے والوں کے ساتھ ہی ایسا سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے۔اب ڈونلڈ ٹرمپ والے امریکہ اور نیتن یاہو والے اسرائیل کی نفسیات کو ذہن میں رکھا جائے تو پاکستان جیسے سادہ دل اور سچے پیار کے متلاشی ملک کی نیک نیتی سے کی گئی کوششوں کے نتائج کے رخ پر سو طرح کے سوالات اور خدشات قطار بنائے کھڑے نظر آتے ہیں۔اس انشائیے میں مصنف موجودہ پیچیدہ صورت حال کی مزید عقدہ کشائی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ…آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ شیطان بظاہر روشن خیال اور سیکولر نظر آتا ہے مگر در حقیقت سر سے لے کر پاؤں کے تلوؤں تک تعصب میں ڈوبا ہوا ماورائی وجود ہے۔ جو نہ کل ہمارا خیر خواہ تھا، نہ آج ہے اور نہ کل خیر خواہ ہو جائے گا۔ کون ہے جو شیطان کے شرسے انکار کرے گا اور آپ میں سے تو اکثر کو شیطان سے واسطہ رہا ہوگا ، بس اتنے فرق کے ساتھ کہ کسی کا شیطان سے کبھی کبھار واسطہ پڑتا ہے اور کسی کسی کا تعلق گہرا اور ذاتی نوعیت کا ہوتا ہے یا پھر یوں بھی ہو سکتا ہے کہ کسی فرد کا شیطان سے زیادہ واسطہ نہ رہا ہو اور شیطان بلا واسطہ ہی اس فرد پر خصوصی نگاہ ستم رکھے ہوئے ہو۔ یقین سے کچھ کہنا تو فی الحال قبل از وقت اور قابل گرفت ہوگا۔ کیوں کہ ہو سکتا ہے وہ فرد بھی شیطان پر نگاہ رکھے ہوئے ہو۔ شیطان سے مذاکرات کے حوالے ڈاکٹر سید زوار حسین شاہ کی تجویز اور رہنمائی تو یہی ہے کہ شیطان کو بھی کبھی کبھار اعتبار کا عنوان بنا لینا چاہیئے۔ اس سے لڑنے اور ٹکرانے کی بجائے مذاکرات کیا درمیانی راستہ اختیار کرنابھی کبھی کبھا نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ… عقلمندی کا تقاضا ہے کہ شیطان سے براہ راست ٹکر لینے کی بجائے مذاکرات اور ملاقات کی راہ اپنائی جائے ۔ ورنہ خوشگوار اور لذت آگیں زندگی کا تصور خواب و خیال ہو کر رہ جائے گا۔ شیطان سے ملاقات کی راہ میں رکاوٹ اور روڑے اٹکانے والوں کو کوئی کیا سمجھائے کہ شیطان سے خدا واسطے کا بیر کوئی ٹھیک بات نہیں۔ ابلیس ہمیشہ ہمارا بے دام غلام بن کر رہتا ہے۔ آپ شیطان کو لاکھ برا کہیں، لاکھ لعنت ملامت کریں، لاکھ الزامات کی بوچھاڑ کریں، شیطان ہے کہ ہماری خواہش و خیال ہی کو بھانپ کر ہماری مدد کو فوری آن موجود ہوتا ہے۔ کبھی بیماری، آزاری کا بہانہ نہیں بناتا کبھی تھکاوٹ ، رکاوٹ کا ملال نہیں کبھی مصروفیت کا خیال نہیں، بلکہ آپ کے ہر فعل پر فعل شیطان کی مہر لگا کر برستی لعنتوں کو خوش دلی سے آگے بڑھ کر وصول کرتا ہے کسی مجنوں کی طرح۔ مگر ہم ہیں کہ شیطان سے کسی طرح راضی ہی نہیں ہوتے اب چونکہ ابھی تک ایران امریکہ مذاکرات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ۔اس لیے ڈاکٹر سید زوار حسین شاہ کی انشائیوں کی دلچسپ اور پرشور کتاب شور اور شعور کے بقیہ انشائیوں کا مطالعہ مؤخر کرتے ہوئے اور شیطان سے مذاکرات کی روشنی میں ان مذاکرات کی خبروں کو ٹٹولنا شروع کرتا ہوں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button