ظاہر و باطن !

ظاہری نمود و نمائش میں مبتلا یہ معاشرہ ہر اُس چھوٹے سے کام کو بہت بڑا بنا کر دکھانے کے ہنر میں
ید طولی رکھتا ہے اور باطنی سچائی پر چادر اوڑھے رہتا ہے اس میں ہمارا سفید پوش طبقہ بھی ہوتا ہے جو صرف اپنے آبائو اجدادکی عزت و ناموس کی خاطر اپنی ضرورتوں کو ظاہر نہیں کرتا اور اپنی خوشحالی کا تاثر زمانے کو دیتا رہتا ہے تا کہ کوئی اُسے اور اُس کے بال بچوں کو تحقیر کی نظروں سے دیکھتے ہوئے حقیرانہ طرز ِ عمل کا مظاہرہ نہ کرے ۔ہماری ظاہری زندگی ہماری باطنی سے مختلف ہوتی ہے جو ہم معاشرے میں اپنی ظاہری تصوریر لئے پھرتے ہیں وہ دکھاوا بھی اور حقیقت کے برعکس ہوتا ہے سچائی کا سامنا کرتے ہمیں شرمندگی ہوتی ہے ہم جھوٹی سچائی کی چادر میں لپٹے اپنے جھوٹ کی بدبو کو چھپانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں مگر سچائی اپناتے نہیں ہیں زمینی حقائق کو جھٹلا کر خلق ِ خدا کو وہ خواب دکھاتے ہیں جن کی تعبیر کبھی پوری نہیں ہوتی ۔ظاہری طور پر ہم خاندان کے،یا اپنے گھرانے کے بڑے ہوتے ہیں مذہبی ہونے کا ڈھنگ بھی بڑی مہارت سے کرتے ہیں مگر ماوئں ،کے بہنوں کے ،ازواج کے شرعی حصے اُنہیں نہیں دیتے تو قول و فعل میں تضادہماری شخصیت کی پہچان بن جاتی ہے دکھی انسانیت کو صحت مندی سے سرفراز کرنے کے لئے جن ضروری اجزائے ترکیبی کا دوائی کی ڈبیہ پر ذکر نایاں ہوتا ہے وہ اہم اجزاء دوائی میں شامل ہی نہیں ہوتے ۔آپ عوامی استعمال میں ہونے والی روزمرہ کی ضروری اشیاء کو ہی سامنے رکھ لیں جتنی خوبیاں ان اشیاء کی الیکٹرانک میڈیا و پرنٹ میڈیا پر بیان کی جاتی ہیں عملی طور پر دیکھنے کو نہیں ملتی گویا ہمارا ظاہر جھوٹ اور باطن ذاتی مفاد کا تابع ہوتا ہے ۔ظاہر و باطن کے اس عملی نمائش میں صرف مخصوص اشرافیہ ہی نہیں حکومت اور اُس کے اہلکار بھی شریک ِ کار ہوتے ہیں جن کی سرپرستی میں ملک کے سادہ لوح لوگ دکھاوے کو سچ جان کر فریب در فریب کھائے جارہے ہیں جو شعور نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مرغوب غذا بن چکا ہے ،غذا سے یاد آیا کہ یوروپی ممالک میں کہیں بھی یہ لکھا نہیں ملتا کہ یہاں خالص دودھ،خالص شہد یا خالص گھی دستیاب ہے یا انار کا جوس وغیرہ خالص دستیاب ہے ان غیر اسلامی ممالک میں یہ لفظ خالص نظر نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں چیزوں میں ملاوٹ کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں مگر ہمارے یہاں اسے بہترین منافع کے لئے گاہے بگاہے استعمال کیا جاتا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ جن اشرافیہ کو حکومتی اہلکار یہ ملاوٹ کا بازار گرم رکھنے کی سرپرستی کرتے ہیں وہی لوگ حکومت کو ٹیکسوں کی ادائیگی میں بڑی ماڑ دھاڑ کرتے ہیں سوائے سرکاری ملازمین کے ،کیونکہ انھیں حکومت تنخواہ دینے سے پہلے ہی ٹیکس منہا کر لیتی ہے دوسرے مذاہب کے پیروکار ملکوں میں یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ انھوں نے کبھی اپنے برانڈز کے نام مذہبی نام پر رکھ کر مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کئے ہو ں وہ یروشلم کی کسی عبادت گاہ کا نام یا روم کے کسی چرچ کے نام پر اپنی پراڈکٹ نہیں بیچتے اور نہ ہی مذہبی جذبات کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے زیادہ سے زیادہ منافع کماتے ہیں مگر ہمارے وطن ِ عزیز میں آپ کو ملاوٹ سے بھری ، قیمت میں زیادہ اشیاء فروخت ہوتی مل سکتی ہیں جیسے اسلامی شہد،مدنی گھی ،مکی آٹا وغیرہ ۔جہاں یہ نام ہوں وہاں سو فیصد خالص والا جملہ ضرور پڑھنے کو ملتا ہے یہ خالص کا لفظ بطور خاص لکھنے کی وجہ خلقِ خدا کے اعتماد کا حصول کر کے من مانی قیمت وصول کرنا اور انھیں ملاوٹ سے بھری اشیاء فراہم کرنا ہے حکومت بھی اس مکاری کو ،اس جھوٹ کو اس فریب کو روکنے میں اس کا سدباب کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی عوام کے نام پر حکومت کرنے والے جب بیشعور ،جذباتی قوم سے ووٹ لے لیتے ہیں تو پھر اپنے عوامی ایجنڈے سے ہٹ جاتے ہیں ایسا انتخابی سانحہ پہلی دفعہ نہیں ہوا یہ کئی دھائیوں سے جاری ہے مگر قائد کے اس ملک میں شعور کی شدید کمی ہے جبکہ حرص و لالچ ،مکاری ، جھوٹ کے ذخائر وافر مقدار میں ہیں آپ دیکھ لیں کہ حکومت کے پاس پٹرولیم مصنوعات کی وافر مقدار ہونے کے باوجود اُس نے پٹرول کی قیمت55روپے فی لیٹر بڑھانے میں ذرا سا بھی انتظار نہیں کیا چاہتی تو ایک آدھ ہفتہ بغیر قیمت بڑھائے پرانی قیمت پر پٹرول کو رکھتی مگر عوام کی ہمدردی کے دعوے کرنے والوں نے سستے داموں لئے گئے پٹرول کو فورا نئی قیمت پر بیچ کر مخصوص اشرافیہ کی جیبیں بھر دیں اب بھی اگر عوام ان سارے سیاسی قائدین کے ظاہر و باطن کی حرکات کو نہ سمجھے تو پھر اسے اللہ ہی سمجھائے ۔



