ہفتہ وار کالمز

جنگجو وزیر دفاع

نصف صدی پہلے کی مشہور زمانہ فلم لارنس آف اریبیاکے ایک سین میں Peter O’ Toole میدان جنگ سے واپسی پر اپنے افسر General Edmund Allenbyسے کہتا ہے کہ اس نے ایک عرب اتحادی کو اپنے پستول کی گولی سے ہلاک کر دیا ہے مگر اس کام میں ایک ایسی بات تھی جو اسے پسند نہ آئی۔ جنرل ایلن بی جواب دیتا ہے کہ ان لوگوں سے اس کی ناپسندیدگی قابل فہم ہے۔ لارنس اپنی بات کی وضاحت کرتا ہے” No, something else, I enjoyed it.” یہ مکالمہ اس اعتبار سے گنجینۂ معانی ہے کہ لارنس نے اپنے ایک اتحادی کو ہلاک کیا ہے اور یہ سفاکی اس کے لیے ایک ایسی بات ہے جس کی وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں۔ دوسری بات یہ کہ لارنس اس وجہ سے پریشان ہے کہ اسے اپنی یہ بات پسند نہیں کہ وہ ایک عرب کی ہلاکت سے محظوظ ہوا۔ یعنی ایک عرب باشندے کو ہلاک کرنا قابل اعتراض نہیں مگر اسے انجوائے کرنا بری بات ہے۔ اس مکالمے کے ہر لفظ سے عربوں کے لیے جو نفرت ٹپکتی ہے وہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جو آج بھی پھن پھیلائے کھڑی ہے۔
گیارہ ستمبر 2001 کے بعدیہ بغض و عناد اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب اسکا برملا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عراق‘ شام‘ لیبیا‘ افغانستان اور اب غزہ اور ایران کو ملیا میٹ کر دینے کے بعد بھی نفرت اور انتقام کا یہ ابلتا ہوا لاوا ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ان تباہ شدہ ممالک میں لاکھوں مسلمانوں کی ہلاکت مغربی اقوام کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ہم اپنی تسلی و تشفی کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان جنگجو اقوام نے گذشتہ صدی کی دو بڑی جنگوں میں کروڑوں کی تعداد میں اپنے ہم مذہب ہلاک کئے ہیں۔اس لیے انکی وحشت کا نشانہ صرف مسلمان نہیں بنے بلکہ یہ اپنے بھائی بندوں کا خون بھی فراوانی سے بہاتے رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پچاس برسوں تک یہ سوویت یونین کے خلاف بر سر پیکار رہے۔ اسکے حصے بخرے کرنے کے بعد اب انہوں نے مسلمان ممالک کا رخ کیا ہے۔ اب سننے میں یہ آ رہا ہے کہ ایران کے بعد انکا اگلا ہدف ترکیہ ہو گا۔ ایسا اگر نہ بھی ہو تب بھی انکی مسلمانوں سے نفرت میںکمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اسکا اندازہ صدر ٹرمپ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیتھ کے ان بیانات سے لگا یاجا سکتا ہے جو انہوں نے ایران کے خلاف دئے ہیں۔ ان انکی اس شعلہ بیانی پر بات کرنے سے پہلے مسلمانوں سے انکی بے پناہ نفرت کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
عراق جنگ کے ابتدائی ایام میں پیٹ ہیگ سیتھ نیویارک میں وال سٹریٹ کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ عراق جنگ میں اپنی شمولیت کی وجہ بیان کرتے ہوے انہوں نے کہا ہے کہ 2005 کے موسم گرما میں انہوں نے یہ خبر پڑھی کہ عراقی مزاحمت کاروں نے ایک خود کش حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک کر دیئے۔ یہ انکے لیے ناقابل برداشت تھا۔ پیٹ ہیگ سیتھ نے اس واقعے پر اپنا رد عمل دیتے ہوے کہا تھا کہ ” To me, that was the face of evil” یعنی یہ میرے لیے گناہ کا چہرہ تھا اور اسے ختم کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا میری اخلاقی ذمہ داری تھی۔ پیٹ ہیگ سیتھ نے عراق جنگ کے دوران کئی شہروں میں ہونے والے خون خرابے میں پہلے ایک سپاہی اور پھر ایک افسر کی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں امریکہ کی شکست کی وجہ انکی دانست میں یہ ہے کہ امریکہ نے ان دونوں ممالک میں جمہوریت نافذ کرنے اور انکی تعمیر نو کا ٹھیکہ اپنے ذمے لے لیا تھا جسکی وجہ سے جنگ کے اصل مقصد سے اسکی توجہ ہٹ گئی تھی۔ ان سے جب جنگ کے اصل مقصدکے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہر جنگ کا اصل مقصد دشمن کی ہلاکت ہوتا ہے اور اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو پھر شکست سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ چند روز پہلے ایران جنگ کے بارے میں انہوں نے کہا ہے” The goal is to unleash death and destruction from the sky all day long.” دس مارچ کو پینٹا گون میں صحافیوںسے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ’’ یہ2003 نہیںہے جب امریکہ عراق میں نیشن بلڈنگ کے لیے گیا تھا۔ ہماری نسل کے سپاہی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہم سفاکانہ کارکردگی‘ مکمل فضائی برتری اور ناقابل تسخیر عزم پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘
پیٹ ہیگ سیتھ اکثر فخر کیساتھ یہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ صدر ٹرمپ نے ان سے کہا تھا کہ ” You are a warrior Pete.” صدر ٹرمپ کی انتخابی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور فاکس نیوز چینل پر ایک ویک اینڈ اینکر کی حیثیت سے پیٹ ہیگ سیتھ نے جو خدمات سرانجام دیں انکے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے انہیں فروری 2025 میں امریکی افواج کا سربراہ بنا دیا۔
اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب امریکہ نے افغان جنگ کو Operation Enduring Freedom عراق جنگ کو Operation Iraqi Freedom اور لیبیا کی جنگ کو Operation Unified Protector جیسے بلند آہنگ عنوانات دئے تھے۔یہ دنوں جنگیں مسلم ممالک کو آمریتوں کے تسلط سے نجات دلانے کے لیے لڑی جاتی تھیں۔ اس منافقت کے ختم ہو جانے کے بعد اب امریکہ کھلم کھلا اپنے انتقام کی آگ بجھانے اور تیل کی دولت پر قبضے کے لیے جنگیں برپا کر رہا ہے۔ ایک صدی پہلے کی بات ہے کہ تھامس ایڈورڈ لارنس نے کہا تھا کہ اسے ایک عرب اتحادی کو قتل کر کے خوشی ہوئی ہے۔ آج امریکی وزیر دفاع کہہ رہا ہے کہ وہ ہر روز ایران پر موت اور تباہی برسانا چاہتا ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button