ہفتہ وار کالمز

مسئلہ ایٹم بم کا!

سچ تو یہ ہے کہ امریکی صدر جنہیں (POTUS) President of the United Statesبھی کہتے ہیں، جناب ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ امریکی عوام مشرق وسطیٰ بلکہ کہیں بھی جنگ نہیں چاہتے کیونکہ ان جنگوں سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ صرف قرضے بڑھتے ہیں اور نا حق شہریوں کی جانیں تلف ہوتی ہیں۔ ٹرمپ ایران سے مذاکرات کر رہے تھے کہ جنگ نہ ہو۔ لیکن ان کے مربی اسرائیل کو جلدی تھی کہ ایران پر بم مار مار کر اسے ایسا سبق سکھایا جائے کہ وہ آئندہ کبھی ایٹم بم بنانے کا خواب میں بھی نہ سوچے۔بالآخراسرائیل نے سوچا کہ ٹرمپ ایسے نہیں مانے گا، تو ہم ہی کو پہل کرنی ہو گی۔اور یہی کیا گیا۔ اور بادل نخواستہ، امریکہ کو ایران پر چڑھائی کرنی پڑی۔
نیو یارک ٹائمز کی خبر کے مطابق، ایرانی لڑکیوں کے سکول پر حملہ، امریکہ نے کیا کیونکہ انہوں نے وہاں پرانی اطلاع کے مطابق ، ایک فوجی ٹارگٹ سمجھا تھا۔ ٹرمپ صحیح بات نہیں کر رہے کہ ایران نے خود سکول پر حملہ کیا۔ایک تازہ وڈیو میں ٹرمپ کا بیان دیکھایا گیا ہے جس میں وہ الزام اپنے اوپر سے ہٹاتا نظر آتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس کے مشیروں نے ایران پر جنگ کرنے کا مشورہ دیا اور اس نے ان پر بھروسہ کیا۔ اس نے کہا ’’مجھے جو سٹیو وٹکوف، جریڈ کشنر (اس کا یہودی داماد)، اور پیٹ ہیگسیتھ (اس کا یہودی وزیر جنگ) اور دوسروں نے بتایا،میں نے اس پر یقین کر لیا کہ( ایران) ہم پرحملہ کرنے والا ہے ، تو ہم نے اس پر پہل کر دی۔‘‘ یاد رہے کہ سٹیو ونکوف، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا خاص نمائیندہ ہے اور یہودی ہے۔دوسرے لفظوں میں، اس کے یہودی مشیروں نے (جو اس کی وزارت میں اسرائیلی خیرخواہ ہیں) اس کو وہی مشورہ دیا جواسرائیل کی طرف سے آیا تھا۔
اب یہ علیحدہ بات ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی نیتن یاہو سے سن چکا تھا کہ اس کے(ٹرمپ کے )خلاف کچھ ایسے دستاویز افشا کی جا سکتی ہیں کہ وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔اس کا اشارہ جیفری ایپسٹین کی فائلوں کی طرف تھا جو ابھی تک اس کے معاملے میں رکی ہوئی تھیں۔ٹرمپ نے نہ کانگریس سے رجوع کیا اور نہ کسی پارٹی لیڈر سے (اگر کرتا بھی تو وہ سب بکے ہوئے لوگ ہیں) اس نے بحثیت کمانڈر انچیف کے ایران پر حملے کی تیاری شروع کر دی اور پھر حملہ کر واہی دیا۔ امریکی عوام حیران تھے کہ ایران نے ہم پر حملہ کا کوئی اعلان نہیں کیا تو ہم کیوں ایران پر حملہ کر رہے ہیں۔ کچھ روز پہلے ٹرمپ نے کہا کہ اس نے اسرائیل سے پوچھا ہے اور لگتا ہے کہ جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی۔یعنی آخری فیصلہ اسرائیل کا ہے کہ جنگ کب شروع کرنی ہے اور کب بند کرنی ہے، بھولے بادشاہو۔ٹرمپ کی کیا مجال ہے کہ نیتین یاہو کی اجازت کے بغیر جنگ شروع کرے یا بند کرے۔
راقم کاخیال ہے کہ بہت سے لوگوں کو، خصوصاً نو جوان طبقہ کو یہ نہیں معلوم ہو گا کہ آخراسرائیل اور امریکہ کیوں ایران سے دشمنی لیے بیٹھے ہیں۔ ذرا تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے۔ اس کے لیے ہم نے اے آئی سے مدد لی۔ وہاں سے پتہ چلا کہ ایران اور اسرائیل کے تعلقات تین مراحل سے گذرے ہیں۔ پہلاتعاون کا تھا، دوسرا عناد کا اورتیسراکھلی مخالفت کا ۔ان کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایران کے انقلاب کے پیچھے سے شروع کرنا ہو گا۔یہ 1948-1979 کا زمانہ تھا، ایران نے پہلے مخالفت کا رویہ اختیار کیا پھر تعلقات بہتر ہو گئے۔1950 میں ایران دوسرا اسلامی ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا،پہلا ترکی تھا۔یہ محمد رضا شاہ پہلوی کا زمانہ تھا جو پکا امریکی اور مغرب کا دوست تھا اور اسرائیل کے ساتھ خاموشی سے تعلقات استوار کیے تھا۔دونوں میں کچھ مشترک خارجہ حکمت عملی تھی۔ایران اسرائیل کو تیل بیچتا تھا، ساوک اور موساد ایک دوسرے سے تعاون کرتے تھے اور 1970ء میں ایک مشترکہ میزائیل کا پروگرام بھی تھا۔یہ تعلقات غیر اعلانیہ تھے۔
1979 میں روح اللہ خمینی کا اسلامی انقلاب آیا۔اور ایران کو اسلامک ریپبلک آف ایران بنایا گیا۔نئی حکومت اسرائیل سے نظریاتی مخاصمت رکھتی تھی۔ ایران نے اسرائیل سے اقتصادی اور سفارتی تعلقات ختم کر دئیے۔ تہران میں اسرائیلی سفارت خانہ فلسطین لبریشن ادارے کو دے دیا گیا۔اسرائیل کو چھوٹا شیطان اور امریکہ کو بڑا شیطان پکارا گیا۔ یہاں سے ہر دو ممالک میں علاقائی مخاصمت کی بنیاد پڑی۔بظاہر، ایران کی فلسطینیوں کی حمایت نے اسرائیل سے تعلقات میں دراڑ ڈال دی۔
1980s-2010s میںحلیفوں (proxies) کے ذریعے چپقلشیں ہوئیں۔ایرا ن ۔عراق جنگ میں اسرائیل نے چوری چوری ایران کو ہتھیار بھیجے (یہ ایک بہت بڑا سکینڈل تھا جس میں امریکہ نے نکاریگواسے ناکارہ ہتھیار منگوا کر ایران کو بیچے جس میں منافع عزرائیل نے کمایا)۔بظاہر دونوں ملکوں کو صدام حسین نا پسند تھا۔لیکن پھر بھی ان دونوں کے تعلقات میں بہتری نہیں آئی۔
1980s اور اس کے بعد سے، اسرائیل اور ایران حلیفوں کے ساتھ نبرد آزما رہے۔ مثلاً ایران کے حمایتی گروہ تھے، حزب اللہ، حماس ، فلسطینی اسلامک جہاد اور حوثی۔ ان کے ساتھ اسرائیل نے نبرد آزمائی کی۔ ان خفیہ کاروائیوں میں اسرائیل نے ایرانی سائینٹسٹ کو ہلاک کیا اور ان کی نیوکلیر کارخانوں پر سائبر حملے کیے ۔
2000-2020’s میںایٹمی ہتھیاروں کی وجہ بنا کر علاقائی تنائو بڑھ گیا۔جس کی بنیاد ایران کا ایٹمی پروگرام تھا۔اسرائیل نے ایران کے ایٹمی کارخانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ایران نے اپنے میزائیل اور ڈرون کے پروگرام کو وسعت دی۔ اور دونوں نے شام، لبنان اور غزہ میںزور آزمائی کی۔2024 میں ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں ڈرون اور میزائیل داغیں۔اس سے یہ مخالفت براہ راست ہو گئی۔
2025-26 میں یہ اختلاف اور بڑھ گیا۔اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی ایٹمی اور میزائیل کی فیکٹریوں پرحملے کیے۔ایران نے جوابی کاروائی میں علاقائی ممالک میں امریکی تنصیبات پر ڈرون اور میزائیل سے حملے کیے۔ یہ چپقلش ایک وسیع علاقائی جنگ بن گئی۔اسے 2026 کی جنگ بھی کہتے ہیں۔اسرائیل کی ایران سے دشمنی میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا بڑا کلیدی کردار ہے۔ اسرائیل اگرچہ خود ایک درمیانے درجے کی ایٹمی قوت ہے لیکن وہ ہر گز نہیں چاہتا کہ ایران بھی ایک ایٹمی قوت بنے۔یہ تو ایران بھی مانتا ہے کہ وہ ایک عرصہ سے ایٹمی مواد بنا رہا ہے جو ایک دن ایٹمی ہتھیار بنانے میں کام آ سکتا ہے لیکن اس نے بار ہا کہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ اس ایٹمی مواد سے بجلی کے کارخانے بنانا چاہتا ہے۔لیکن اسرائیل یہ بھی نہیں چاہتا۔کیونکہ وہ ایک ایٹمی ایران کو اپنی بقا کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھتا ہے۔اور ایران اسرائیل کو ناجائزاولاد کہتا ہے۔
ایران امریکہ سے کیوں اتنا ناراض ہے، اس کی بھی تاریخ ہے۔ایران اسے شیطان بزرگ کہتا ہے۔ بظاہر اس لیے کہ امریکہ نے ایران کی جائز حکومت کا تختہ الٹا اور شاہ ایران کو لا کر بٹھا دیا۔ شاہ نے بہت سی معاشرتی تبدلیاں کیں۔ عورتیں اب بے برقعہ یوروپین لباس میں پھرنے لگیں۔ شاہ چاہتا تھا کہ تحران پیرس کا نمونہ بن جائے۔ شراب نوشی پر پابندی ختم کر دی گئی۔یہ باتیں امام خمینی اور دوسرے اسلامی اقدار کے حامیوں کو بہت چھبتی تھیں،یہ بھی ایک بڑی وجہ بنی امریکہ سے نفرت کرنے کی۔ شاہ نے ایرانی عوام پر بہت ظلم کیے۔ اس کی خفیہ تنظیم ساوک نے گھر گھر میں اپنے جاسوس بٹھا رکھے تھے۔ یہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے بھی رابطے میں تھی۔ ایرانیوں کو اس وجہ سے بھی امریکہ سے نفرت ہو گئی۔ امام خمینی نے ایران میں عوامی انقلاب برپا کیا جس میں شاہ کو بھاگنا پڑا۔جس نے امریکہ میں جا کر پناہ لی۔اور وہیں انتقال کیا۔اور بھی واقعات ایسے رو نما ہوئے جن سے یہ خلیج بڑھتی چلی گئی۔اسی پس منظر میں ایران اور اسرائیل کے تعلقات کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ایران نے سوچا کہ اگر وہ ایٹمی قوت بن جائے تو اس کو اپنے علاقائی مفادات کے تحفظ میں فائدہ ہو گا۔لیکن بوجوہ اسرائیل نے اس بم کو اپنے لیے ایک بقا کا مسئلہ سمجھا۔اصل میں اگر ایران ایٹم بم بنا بھی لے تو کیا وہ اسےاسرائیل پر داغ سکے گا؟جو روائیتی سوچ ہے اس کے مطابق نہیں، کیونکہ اسرائیل بھی ایک ایٹمی قوت ہے، اور وہ جواباً کاروائی میں ایران پر ایٹم بموں کی برسات کر سکتا ہے۔ اسے کہتے ہیں ۔Mutually Assured Destruction (MAD) یہی وجہ ہے کہ روس اور امریکہ ایک دوسرے پر ایٹمی بم نہیں ماتے۔اور پاکستان اور بھارت بھی کسی بڑی ایٹمی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتے۔ لیکن اسرائیل کو یہ احساس ہے کہ وہ ایک چھوٹا سا ملک ہے اور وہ ایک ایٹم بم بھی نہیں سہار سکتا، اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ اپنے دشمن پر دو سو بم بھی مار دے۔(اسرائیل کے پاس1200-80یٹم بم ہیں۔ اور وہ یہ بم اپنی آبدوزوں اور اور ہوائی وسائل سے بھی پھینک سکتا ہے)۔مصنوعی ذہانت یہ بھی بتاتی ہے کہ ایران اور اسرائیل علاقائی برتری چاہتے ہیں اور اس میں ایک دوسرے کے رقیب ہیں۔جیسے لبنان میں حزب اللہ کا اثر و نفوذ، شام میں اس کی عسکری موجودگی اور عزرائیل کے قرب میں اسکی فوجیں اور غزہ میںمسلح گروہ جن کے راکٹ سیدھے اسرائیل پہنچتے ہیں۔یہ سب خطہ میں طاقت میںتوازن کا باعث ہے۔
ایران اور عزرائیل کا ایٹم بموں سے حملے قومی خودکشی کے مترادف ہیں۔ اور اکثر ماہرین کو یقین ہے کہ ایران کبھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔لیکن اے آئی کا تجزیہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں MAD اتنا سختی سے نہیں سوچا جائے گا جتنا کہ روس اور امریکہ کے درمیان، کیونکہ ان دونوں کے پاس ہزاروں بم ہیں، جوابی کاروائی کے بہت سے مواقع اور ٹیلیفونک رابطہ کے مضبوط ذرائع۔علاوہ ازیں، اگر (MAD )بھی قائم ہو، ایک اور مسئلہ ہو گا جسے Stability-instability paradox کہتے ہیں۔وہ یہ کہ جب فریقین کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں تو چھوٹے پیمانے کے جھگڑے بڑھ جاتے ہیں۔
ان سب باتوں کو چھوڑیں، اسرائیل کسی صورت ایران کے پاس ایٹمی ہتھیا رنہیں دیکھ سکتا۔اس لیے کہ کبھی غلطی یا حادثہ ہو جائے۔ایٹم بم ایران کے حلیفوں کے ہتھے چڑھ جائیں، ایٹمی ہتھیاروں کے زور پر ایران خطہ میں کاروائیوں پر پردہ ڈالے، اور قیادت کی تبدیلی میں غیر یقینی، وغیرہ۔ چونکہ اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے تو اس کی قیادت ایک دشمن کے ہاتھ میں ایسا ہتھیار برداشت نہیں کر سکتی۔اگر ایران کے حلیف گروہ یہ ہتھیار استعمال کریں گے تو اس کا خمیازہ بھی ایران کو ہی بھگتنا پڑے گا جس کا نتیجہ دونوں ملکوں کی تباہی۔اس لیے ایران اپنے حلیفوں کو یہ ہتھیار نہیں دے گا۔لیکن اس کا کیا ثبوت ہو گا اگر ایسا ہتھیار چوری چھپے کسی ٹرک میں ڈال کر بھجوا دیا جائے۔ اس کی چھان بین میں بہت وقت ضائع ہو جائے گا اور جلدی جواب دینا مشکل ہو گا۔ اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ ہتھیار کسی غلط بندے کے ہاتھ لگ جائے یا چوری ہو جائے؟اگرچہ ایران یہ ہتھیار استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن کوئی اور کر کے مصیبت کھڑی کر دے؟اس لیے اکثر ماہرین کو یقین ہے کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنا بھی لے، وہ کسی صورت استعمال نہیں کرے گا کیونکہ اسے جوابی کاروائی برداشت نہیں ہو گی۔قارئین، آپ کا کیا خیال ہے کہ ایران کو کیا کرنا چاہیے؟

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button