ہفتہ وار کالمز

آفات ِ نا گہانی

افغانستان کا رات کی تاریکی میں اپنے ہمسایہ مسلمان ملک پر غیر مذہب لوگوں کی ایماء پر حملہ آور ہونا کس دین کی تبلیغ ہے ؟ جس کے پیرو کار افغانستان میں بیٹھے دین ِ اسلام کی روح کو تاراج کر رہے ہیں جس بھارت کے سہارے یہ پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کی وارداتیں کر کے مسلمان شہریوں کو شہید کر رہے ہیں اُس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت افغانستان کی مدد سے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کا خواہاں ہے حالانکہ بھارت اور افغانستان کے دفاعی تجزیہ نگار پاکستانی فوج کی جوابی کاروائی جس میں افغان طالبان کی سو سے زائد چیک پوسٹوں کو تباہ کیا گیا اس پر خاموش ہیں اور سچ کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں کہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا کار ِ دارد ہے اصل میں دیکھا جائے تو مسلمان ملکوں کو اسرائیل یا اس سے ذہنی مطابقت رکھنے والے ممالک کسی صورت اُ بھرتا نہیں دیکھنا چاہتے، اسی لئے یہ آگ و خون کا کھیل مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے حدود میں کھیلا جا رہا ہے پہلے دن پاکستان پر حملہ تو دوسرے ہی دن ایران پر اسرائیل امریکہ کی معاونت سے حملہ آور ہوجاتا ہے یہ اتفاق نہیں خصوصی منصوبہ بندی کے تحت ایران پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو مصروف کیا گیا تاکہ وہ ایران کا ساتھ نہ دے سکے اور اس منصوبے کی تکمیل سے قبل نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ ایران و پاکستان کے خلاف واضح دلیل کے طور پر موجود ہے ایران کا مشرق ِ وسطی پر حملہ آور ہونے کی وجہ بحرین میں امریکہ بحریہ کا پانچواں بیڑہ ہے اور یہ محض فوجی چھائونی نہیں بلکہ یہ مشرق وسطی کا وار روم ہے جہاں سے امریکہ پورے خطے کی تقدیر کے فیصلے کرتا ہے امریکہ کے اس اڈے سے پاکستان سمیت دیگر 21ممالک کی سمندری حدود کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی ہے ایران کے ڈاکٹر فواد ایزدی کے مطابق یہ اڈہ مشرق وسطی میں امریکی استعمار کا مرکز ہے یہاں سے ہونے والے فیصلے عرب ملکوں کی خود مختاری کو کچلتے ہیں امریکہ میں فلسطینی نژادعبدالباری کے مطابق بحرین کا یہ اڈہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے ہراول دستے کی مانند ہے اس اڈے کے بغیر بڑی طاقتوں کی مشرق وسطی میں حیثیت محض تماشائی کی ہو جائے گی اگر چین و روس اس ایران اسرائیل جنگ میں ایران کے شانہ بشانہ عملی طور پر کھڑے ہوگئے مذکورہ بیڑہ عرب ممالک و اسرائیل کے مابین سہولیات سے مزین پُل کی طرح ہے جسے توڑنا یا ہٹانا سہل نہیں کیونکہ بڑی طاقتوں کی مرضی سے عرب ممالک کا اسرائیل کی جانب جھکائو بہترین سفارت کاری کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اور مانا بھی جاتا ہے مگر راوی کے نزدیک اُمت ِ مسلمہ کی یہ ریاستیں شاید اُن ڈھکے عزائم سے نابلد ہیں جس میں گریٹر اسرائیل کے خواب پوشیدہ ہیں امریکہ اگر ان خوابوں کی تعمیر میں مصروف ِ عمل رہا ہے اور اُمت مسلمہ کی خود مختاری پر ضربیں لگاتا رہا تو وہ اپنا مقام کھو دے گا جو سابق امریکی صدر روز ویلٹ نے 1933میں اپنی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے دیا تھا دنیا پر راج کرنے والے اس امریکہ کو ممکنہ آفات ِ نا گہانی سے بچنا شکست نہیں بہترین سیاست اور اچھی سفارت کاری ہو گی خواندہ ہو یا نیم خواندہ ،سب جانتے ہیں کہ کسے نیچا دکھانا ہے کسے برتری پر لانا ہے یہ امریکہ کی صوابدید ہوتی ہے جس میں مداخلت کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے مگر شمالی کوریا ،چین ،روس ،ایران وغیرہ اس فرعونی طرز ِ عمل کے شدید مخالف ہیںجس سے ایٹمی جنگ چھڑنے کے شدید خطرات تیزی سے اُبھرتے دکھائی دے رہے ہیں اس جنگ سے میرے غریب ملک میں پٹرول کی قیمتوں نے جن آفات ِ ناگہانی کے ڈرون گرائے ہیں ہیں اُس سے غربت کی لکیر پر کھڑے سفید پوش بھی گہرائی میں جا گرے ہیں جس سے ہماری معاشی پالیسیوں کی چلتی سانسیں بھی رک گئی ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش بھی یوروپی ممالک کے لئے آفات نا گہانی ہیں جہاں ایران نے دشمنوں کی ممکنہ کاروائیوں کے پیش ِ نظر اپنے تحفظ کے لئے بارودی سرنگیں بھی بچھا رکھی ہیں مگر اس جنگ کا طویل ہونا درست نہیں لگتا اقوام متحدہ انا کے خول میں جکڑے ممالک کو خون ریزی کرنے سے روکے اور دنیا کو معاشی بدحالی کی آفات ِ ناگہانی سے بچانے کے اقدامات کرے جو کہ ناگزیر ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button