پاکستان میں عورت کی کیا حیثیت ہے؟

عالمی منظر نامہ یہ ہے کہ ایران صیہونی اور سامراجی طاغوت کے خلاف اپنی بقاء کی مزاحمتی جنگ لڑ رہا ہے جو خیر و شر کا اصل میں معرکہ ہے اور اس معرکہ کا انجام کیا ہوتا ہے، یہ کس نتیجہ کو جنم دیتا ہے اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ وہ جو پرانی کہاوت ہے کہ مقدمہ کی سماعت ہوچکی لیکن جیوری کا فیصلہ ابھی آناہے اور اس کے انتظار میں گویا دنیا کی سانس جیسے رکی ہوئی ہے !لیکن پاکستان میں خیر و شر کے معرکہ کاایک اور ہی روپ ہے۔مارچ کی 8 تاریخ دنیا بھر میں عورتوں کے دن سے عبارت ہے۔ یہ عالمی تحریک ہے جو ہر ملک اور ہر قوم میں عورت کے مساوی حقوق اور حیثیت کیلئے برسوں سے جاری ہے۔آج کی مہذب دنیا کے ضمن میں یہ کہا جاتا ہے کہ مغربی دنیا میں عورت کو جو حقوق حاصل ہیں وہ مشرقی دنیا میں نہیں ہیں اگرچہ اس قول میں صداقت سے زیادہ اس مغربی پروپیگنڈا کا بہت حصہ ہے جو دنیا کی ہر تعمیر و ترقی کو مغرب کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔ لیکن بفرضِ محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مغرب میں عورت کو جو مقام اور حیثیت حاصل ہے وہ مردوں کے حقوق اور مقام کے مساوی ہے، شانہ بشانہ ہے، تواس مقام کو مغربی معاشروں نے برضا ورغبت نہیں دے دیا تھا بلکہ اس مقام تک پہنچنے کیلئے مغرب کی عورت نےایک طویل اور صبر آزما جد و جہد کی تھی، بے شمار قربانیاں دی تھیں تب کہیں جاکر یہ مقام مغرب کی عورت کو نصیب ہوا تھا!ہمارے بہت سے دانشور اور اہلِ حرفہ مغرب نوازی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ کئی مغربی اور یورپی ممالک نے عورت کو ووٹ کے حق سے بیسویں صدی کے آغاز تک محروم رکھا تھا اور برطانیہ، جسے جمہوریت کی ماں گردانا جاتا ہے وہاں بھی عورتوں کو ایک طویل مہم کے نتیجہ میں ہی ووٹ کا حق حاصل ہوا تھا!پاکستان میں عورتوں کو ووٹ کا حق اس کے قیام کے ساتھ ساتھ ہی مل گیا تھا اور اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ پاکستان کے حصول کی جنگ لڑنے والا قائد، بابائے قوم محمد علی جناح، قانون کا وہ رکھوالا تھا جس کی قانون کی پاسداری محض زبانی جمع خرچ نہیں تھا بلکہ وہ دل سے اس حقیقت کا قائل تھا کہ کسی بھی معاشرہ کی تعمیر اور ترقی میں جب تک عورت مرد کے شانہ بشانہ نہ کھڑی ہو وہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا!اور بابائے قوم نے پاکستان کے حصول کی طویل اور صبر آزما مہم کے دوران اپنی ہمشیرہ، مادرِ ملت فاطمہ جناح، کو پورے وقت اپنی شریکِ مہم کا رتبہ دیکر اس کا عملی ثبوت بھی دیا!لیکن اس حقیقت کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے حصول کی مہم کا سنگِ بنیاد یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمان ایک ہندو اکثریت کے ملک میں بطور ایک اقلیت کے وجود کیلئے تیار نہیں تھے بلکہ وہ اپنے اسلامی تشخص اور دینی شعائر کو مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے یہ ضروری سمجھتےتھے کہ ان کا ایک علیحدہ ملک ہو جہاں وہ اپنی اسلامی اقدار کے مطابق اپنی آزاد ریاست کی تشکیل کرسکیں!لیکن بابائےقوم کی آنکھ بند ہوجانے کے بعد جن شر کے پیکروں نے ان کے دستِ راست قائدِ ملت لیاقت علی خان کو اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کیلئے جس طرح شہید کرنے کے بعد پاکستان کی سیاست اور ریاست پر قبضہ کیا انہوں نےنہ صرف بابائے قوم کے فرمودات کے خلاف کام کیا بلکہ پاکستان کا حلیہ ہی بگاڑ کے رکھ دیا !شر کے ابتدائی پیکروں کے جانشین آج کے وہ یزیدی ہیں جو پاکستانی قوم کے سروں پہ سوار ہیں اور ملک کو اپنی جاگیر اور موروثی جائیداد سمجھ کر صرف اس کے تاسیسی اصولوں سے کھلی روگردانی ہی نہیں کر رہے بلکہ اسلام کے بنیادی شعائر اور اقدار کو بھی اپنی نخوت اور تکبر سے پامال کر رہےہیں!عورتوں کے عالمی دن سے پاکستانی خواتین بھی ابتدا سے ہی ہم آہنگ رہی ہیں اور وہ اسلئے کہ ان کا دین انہیں مردوں کے مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور اس کی مکمل ضمانت بھی دیتا ہے !اسلامی معاشرہ میں عورت کے مقام اور حیثیت کے معتبر ہونے کا اس سےبڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا تھا کہ اسلام کے داعی، ہمارے رسولِﷺ برحق کی نسل، ان کی ذریت، ان کی بیٹی، خاتوںِ جنت سیدہ فاطمہ زہرا سے چلی!
لیکن وہ یزیدی جو قوم پر مسلط ہیں عورت کے اس مقام اور رتبہ کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔سو آج کی سب سے اہم خبر اور پیش رفت یہ ہے کہ عورتوں کے عالمی دن کے حوالےسےپاکستانی خواتین سنیچر 7 مارچ کو جو "عورت مارچ” اسلام آباد میں نکالنا چاہ رہی تھیں اور جس کیلئے انہوں نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کو ایک مہینہ پہلے اجازت کیلئے درخواست دی تھی، اس اجتماع پر پولیس کی بھاری نفری نے حملہ کیا، خواتین کو مارا پیٹا اور پھر سرکردہ خواتین کو گرفتار کرکے تھانے پہنچادیا !فسطائیت کی انتہا ہوگئی کہ ان خواتین کی رہائی کیلئے جو خواتین پولیس اسٹیشن گئیں انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا!ظاہر ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین چار برس سے، عمران خان کی حکومت کو سازش کے تحت معزول کرنے کے بعد سے، جو فسطائی ٹولہ ملک و قوم کو اپنی شیطانیت کا شکار کئے ہوئے ہے اس کے ایما سے ہی یہ سب کارروائی کی گئی ہے کیونکہ عاصم منیر کا یزیدی ٹولہ ملک کے ہر ادارہ کو اپنی شقاوت اور جبروت کا شکار کرچکا ہے۔ نہ عدالتیں آزادی سے انصاف فراہم کرسکتی ہیں، نہ نیوز میڈیا حقائق کو بلا کم و کاست بیان کرسکتا ہے اور رہ گئی پولیس تو یہ ادارہ تو ہمیشہ سے پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ رہا ہے اور فسطائی یزیدی ٹولہ نے اس کی کرپشن کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے بیدریغ استعمال کیا ہے !کس بات کا خوف ہے یزید عاصم منیر کو؟
اس بزدل کو، جو خود ساختہ فیلڈ مارشل ہے اور نام نہاد حافظِ قرآن بھی ہے، عمران خان کا خوف مارے دے رہا ہے۔ اس کائر کو ہر پیش رفت میں عمران خان نظر آتا ہے اور چونکہ اس نے عمران کو حبسِ بیجا میں رکھا ہوا ہے لہٰذا اس کو عورت مارچ سے بھی اسی خطرہ کی بو آئی ہوگی کہ خواتین اپنی مارچ میں کہیں عمران خان کے حق میں، اور یزیدی ٹولہ کی مذمت میں نعرے نہ لگانے شروع کردیں!اور اس بزدل کو یہ بھی زعم ہوگیا ہے کہ وہ ایک عالمی مدبر کی حیثیت بھی حاصل کرچکا ہے کیونکہ ہمارے وقت کا جو فرعون ہے ، اور جسے یزید اپنا سرپرست گردانتا ہے اس لئے کہ فرعون اپنی مقصد براری کیلئے اسے استعمال کر رہا ہے، وہ بھی اپنے چیلے کی مانند اپنے آپ کو زمینی خدا سمجھتا ہے!اسی زمینی خدا ہونے کے زعم میں اس نے ایران پر بلا جواز حملہ کیا، اپنے صیہونی شریک کار اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی شراکت سے لیکن یہ اقدامِ دہشت گردی ایک طرف تودنیا کے امن کیلئے خطرہ بن گئی ہے تو دوسری طرف اب فرعون کے گلہ کا پھندا بھی بن رہی ہے۔ تو فرعون کی اب یہی صورتِ حال ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن!ایران فرعون کے حلق میں وہ کانٹا بن گیا ہے جو نہ نگلتے بن رہا ہے نہ اگلتے!اسی طرح فرعون کے چیلے، پاکستان کے یزید کیلئے عمران حلق کا کانٹا بن گیا ہے۔جو سلوک عاصم منیر عمران کے ساتھ گذشتہ ڈھائی برس سے کرتا آیا ہے وہی سلوک فرعونِ وقت نے ایران کے ساتھ کرنا چاہا تھا لیکن زمینی خدا ہونے کا دعویدار یہ بھول گیا تھا کہ ایران کی قیادت اور اس کے باسی سید الشہداء شہیدِ کربلا کے پیروکار اور کلمہ گو ہیں لہٰذا وہ کسی طاغوت کے سامنے جھکنے کیلئے کبھی آمادہ نہیں ہونگے!فرعون یوں مغالطہ میں مارا گیا کہ وہ یہ سمجھنے لگا تھا، عاصم منیر اور بدنامِ زمانہ بوٹ پالشئیے شہباز شریف کے ساتھ اپنے تجربہ سے ، کہ ہر مسلمان دعویدارِ رہنمائی اور قیادت ان دونوں جیسا ہی بے غیرت اور تلوے چاٹنے والا ہوگا۔ایران کے اسلامی انقلاب نے جس قیادت کو جنم دیا ہے وہ پاکستان کو عالمی برادری کی نظروں میں گرانے والے نام نہاد قائدین سے بالکل مختلف فطرت کےلوگ ہیں۔ سو فرعون ایران کے رہبرِ معظم کو شہید کرسکتا ہے، اور اپنے اس دہشت گردی پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر کرسکتا ہے، لیکن وہ اس روحِ انقلاب کو کبھی ختم نہیں کرسکتا جس کی اساس میں کربلا ہے اور جو مولا علی مرتضےٰ کے اس قول پر نہ صرف ایمان رکھتا ہے بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہے کہ ظالم کے ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا ظالم کا ساتھ دینا ہے!عاصم منیر اور شہباز جیسے چھٹ بھئیے فرعونِ وقت کے موالی ہوسکتے ہیں لیکن ایرانی قیادت کبھی ایسے دنیاداروں کو جنم نہیں دیگی نہ انہیں ایسے پروان چڑھانے کیلئے آمادہ ہوگی جیسے پاکستانی قوم ان شیاطین کو برداشت کر رہی ہے !آنےوالے دن اور ہفتے اس حقیقت کو دنیا کے سامنے آئینے کی طرح روشن کردینگے کہ فرعونِ وقت اور صیہونی طاغوت نے شیروں کی کچھار میں ہاتھ ڈال کے اپنے لئے بربادی اور دنیا کیلئے پریشانی کا سودا کیا ہے !
حوصلے طاغوت کے اتنے بڑھے
خیر کے ایوان پر شیطاں گرے
سرفرازی خیر کی تقدیر ہے
بخت پر طاغوت کے تالے پڑے !



