ڈنڈے کے سائے تلے پاکستان !

سندھ موجودہ پاکستان کا وہ واحد صوبہ تھا جس کی اسمبلی نے پاکستان کے قیام کے حق میں تحریکِ پاکستان کے زمانے میں ایک باقاعدہ قرارداد منظور کرکے اپنے نظریہء پاکستان سے وابستدگی کا ثبوت دیا تھا !جس دور میں سندھ اسمبلی نے یہ قابلِ فخر کارنامہ سر انجام دیا تھا وہ دور تھا جب برصغیر پاک و ہند کی رہنمائی اس قائد کے ہاتھ میں تھی جس کی تمام تر سیاسی زندگی قانون کی پاسداری سے عبارت تھی اور یہی وہ صفت تھی جس کے بل بوتے پر قائد نے پاکستان حاصل کیا اور دنیا کے نقشہ پر مسلمانانِ ہند کا اپنا جداگانہ آزاد اور خودمختار ملک پاکستان کے نام سے وجود میں آیا!بانیء پاکستان نے پاکستان کو ایک پرچم کے تلے متحد کیا تھا، سبز ہلالی پرچم جس میں اقلیتوں کیلئے بھی گنجائش رکھی گئی تھی اور جس کی روح جمہوری اور قانون کی علمبرداری سے پوری طرح منسلک تھی !قائد نےجس پرچم اور جمہوری نظام کے تحت قوم کو متحد کیا تھا اسے داغدار کرنے والے وہ آمریت کا خمیر رکھنے والے طالع آزما تھے جنہوں نے بانیء پاکستان کی جمہوری روایت کو اپنے بوٹوں تلے روندا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ متحدہ پاکستان ایک ربع صدی سے پہلے ہی دولخت ہوگیا!طالع آزماؤں کی جمہوریت دشمنی نے جمہوریت کے پاسدار مشرقی پاکستان کو پاکستان سے جدا کیا تھا۔ اگر جمہوریت کی روح کو بوٹوں تلے پامال نہ کیا گیا ہوتا تو پاکستان آج بھی جمہوری پرچم کے سائے تلے اپنی اصلی شکل میں موجود ہوتا۔ مشرقی پاکستان کے جمہور نوازوں کا جمہوریت سے پختہ عہد و پیمان زندہ ہونے کا ثبوت تو ابھی بنگلہ دیش کے عوام نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ پہلے ایک جابر و ظالم حکومت سے نجات پاکے اور پھر ڈیڑھ سال کے اندر اندر ایک صاف اور شفاف جمہوری عمل کے ذریعہ ایک نئی اور جمہوریت نواز قیادت کو منتخب کرکے !پاکستان کا نقشہ بنگلہ دیش سے یکسر مختلف نظر آتا ہے۔
پاکستان بقول ہمارے دیرینہ دوست انور مقصود کے پرچم تلے سلامت رہنے کے بجائے ڈنڈے تلے سسک رہا ہے اسلئے کہ طالع آزماؤں کا آج سے نہیں گذشتہ ستر برس سے دین و ایمان ان کا ڈنڈا بنا ہوا ہے اور ان کی موٹی عقل ہر مسئلہ کا حل ڈنڈے کے بل پر تلاش کرتی ہے ۔ بہ الفاظ، دیگران کا دین اور دھرم جنگل کے قانون کی حکمرانی اور بالا دستی بنا ہوا ہے!ڈنڈے کی زور زبردستی اور جنگل کے قانون کو اپنا دین دھرم بنانے والےجمہوریت کے قاتل ہوتے ہیں اور پاکستان کے حوالے سے وہ بانیء پاکستان کی روح کو دن و رات شرمندہ کرنے کا قبیح کام بھی سر انجام دیتے ہیں!پاکستان میں اس جمہوریت کشی کا کام ایک عرصہء دراز سے ان کی سرپرستی اور بالا دستی میں ہوتا آیا ہے، اور آج بھی ہورہا ہے جو وردی پوش ہیں اور بزعمِ خود پاکستان کے محافظ اور رکھوالے ہیں۔ اسی لئے ہم جیسے بانیء پاکستان کے جمہوری مزاج کے قدردان اور قائد کے بقول شخصے بھگت یہ کہنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ:
ملک کے ظالمان ہیں جرنیل
نام کے پاسبان ہیں جرنیل
یہ تو ملت فروش ٹولہ ہے
قوم کے قاتلان ہیں جرنیل
اور ان قاتلانِ جمہوریت کا ڈنڈے کا راج اپنے گرو گھنٹال کے غیر جمہوری رویہ کی پرستش سے اپنے لئے تقویت کا سامان حاصل کر رہا ہے!پاکستان پر مسلط یزیدی ٹولہ کا ملجا اور ماوا، پاکستان میں عمران خان کی جمہوری حکومت کو سازش کے تحت ختم کرنے اور ملک و قوم کے فی زمانہ سب سے مقبول سیاسی رہنما کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرنے والے طالع آزماؤں کیلئے سامراج کا وہ آمریت مزاج رہنما ہے جو نہ صرف اپنے سحر کا شکار ہے بلکہ اس کی انانیت اس حد تک غیر جمہوری ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے اس کے ٹیرف کے ڈنڈے کو غیر قانونی قرار دیا تو وہ عدالتِ عالیہ کے معزز ججوں کےخلاف اول فول بکنے لگا اور انہیں ملک دشمن قرار دینے سے بھی باز نہیں رہا !یہی سوچ پاکستان پر قابض یزیدی ٹولہ کی بھی ہے کہ وہ بزعمِ خود ریاست سمجھتا ہے اور جس کی نظر میں آئین اور قانون کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ بلکہ اس یزیدی ٹولہ نے تو وہ کام کیا ہے جو انا پرست صدر ٹرمپ امریکہ میں کرنے کی ہمت نہیں رکھتا اگرچہ اس کے بس میں ہو تو وہ بھی اعلیٰ عدالتوں کو اسی طرح اپنا مطیع اور فرمانبردار بنالے جیسے پاکستان میں عاصم منیر اور اس کے قانون شکن حواریوں نے عدالتوں کو ربر اسٹیمپ بنا دیا ہے۔اسی آمریت پسندی کا ثمر ہے کہ آج وہی سندھ اسمبلی جس نے جمہوری پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی تھی سندھ پر اپنی چودہراہٹ برقرار رکھنے کیلئے سندھ کی اکائی کے حق میں قرارداد منظور کر رہی ہے!پاکستان کو اپنا مقبوضہ ملک سمجھنے والے یزیدی ٹولہ نے سندھ کو ڈکیت زرداری کو سونپ دیا ہے کہ وہ اپنی ہوسِ زر میں اس کا جو چاہے حشر کرے اور حشر ہورہا ہے خاص طور پہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کراچی کو جس طرح زرداری اور اس کے چوروں کا ٹولہ لوٹ رہا ہے وہ جمہوریت کا قتل ایک طرف ہے اور پاکستان، اور خصوصا” کراچی کا بیدریغ استحصال الگ ہے !
گذشتہ سترہ برس سے سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہ وہ پیپلز پارٹی نہیں ہے جو ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی تھی۔ بھٹو کے مزاج میں بھی آمریت کا خمیر بہت تھا لیکن زرداری تو چوروں اور ڈاکوؤں کا سردار ہے جس کا ایمان اور دھرم صرف لوٹ مار کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی جو پاکستان کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے زرداری کے راج میں لٹ رہا ہے۔
کراچی جسے ہم نے اپنے بچپن میں روشنیوں سے جگمگاتا ہوا دیکھا تھا آج زرداری راج میں اندھیروں کی بستی بن چکا ہے۔وہ شہر جس کی سڑکیںرات کو دھلا کرتی تھیں اور جس کی شہرت مشرق کے پیرس کی تھی آج زرداری ڈکیت کے راج میں کوڑے کا ڈھیر بن چکا ہے لیکن زرداری کے سرپرست جرنیلوں اور یزیدی ٹولہ کو اس پر کوئی یشویش نہیں ہے کیونکہ وہ ایسے ہی ڈکیت راج پر ایمان رکھتے ہیں اور ڈاکی زنی جن کا اپنا بھی ایمان دھرم ہے!کراچی کے ساتھ ناانصافی اور استحصال کی رہح کراچی کو پاکستانی معیشت کا انجن بنانے والے ان مہاجرین کی دشمنی پر مبنی ہے جن کے اجداد نے بانیء پاکستان کی تحریکِ آزادی پر لبیک کہا تھا اور اپنے آبائی گھروں سے پاکستان کیلئے ہجرت کی تھی !مہاجروں کے حقوق کے تحفظ کا نعرہ لگانے والے، صرف نعرہ لگانےکی حد تک جن کی مہاجردوستی ہے، ایم کیو ایم کے رہنما کچھ عرصہ سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ کراچی کو پیپلز پارٹی کی لوٹ مار سے بچانے کیلئے وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ کراچی کو اپنی تحویل میں لے لے تاکہ ایک طرف شہر بچ سکے جس سے پاکستان کی اقتصادی اور معاشی صحت وابستہ ہے اور دوسری طرف جمہوریت کو بچایا جاسکے۔لیکن نہ تو سندھ پر قابض زرداری ٹولہ کو یہ مطالبہ بھاتا ہے نہ پاکستان پر قابض طالع آزما اس کے حق میں ہیں۔سندھ حکومت کا یہ اقدام ، جسے اس قرارداد کی شکل میں پیش کیا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے، پاکستان کے آئین کی روح سے بھی متصادم ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس نے آج تک اُردو کو اپنی زبان نہیں بنایا جبکہ بقیہ تینوں صوبوں نے اُردو کو اپنی زبان قرار دیا ہے، اس سے اندازہ ہوجانا چاہئیے کہ زرداری کے ڈاکوؤں کو پاکستان کی وحدانیت سے کتنی دلچسپی ہے!پاکستان اپنی بنیادی شکل میں قدرت کا عطیہ تھا لیکن ہمارے طالع آزماؤں نے اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کیا اور قدرت کے نصاب میں ناشکری کا جو نتیجہ ہوتا ہے وہ پاکستان کا مآل بنا ہوا ہے لیکن یزیدی طالع آزماؤں کا قبلہ و کعبہ اللہ کا شکر ادا کرنے کا محور نہیں بلکہ ان کا قبلہ و کعبہ واشنگٹن ہے اور عاصم منیر اور پاکستان کی کٹھ پتلی حکومت اپنے رویہ اور ٹرمپ سے غیر مشروط وفاداری کے ایجنڈا کو اپنا کر اس کا بھرپور ثبوت فراہم کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا ایک ثبوت وہ سفارتی کشیدگی اور عسکری جھڑپیں ہیں جو پڑوسی افغانستان کے ساتھ آئے دن ہورہی ہیں۔ ہمارے آمریت پرستوں کا ایمان دھرم جنگل کا قانون اور ڈنڈے کے بیدریغ استعمال میں مضمر ہے۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کی وہ کس طرح ناشکری کر رہے ہیں ۔ اب اگر اللہ اس کے جواب میں پاکستان پر عتاب نازل کرے تو کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئیے۔ قدرت کے قوانین اٹل ہیں اور ا ن میں سیاست کا کوئی دخل نہیں ہوتا، کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ناشکری کی سزا قدرت کا قانون ہے۔
زندگی کا نصاب دیتا ہے
نعمتیں بے حساب دیتا ہے
نعمتوں کا جو شکر کرتے نہیں
پھر انہیں وہ عذاب دیتا ہے !



