صدرٹرمپ غزہ کے لیے کیاکر رہے ہیں؟

دو سال سے غزہ کے مسلمانوںپر ہر رات غضب کی گذرتی ہے۔ کسی کو نہیں پتہ کہ وہ صبح تک زندہ رہے گا یا اسرائیلیوں کے بموں کا نشانہ بن جائے گا۔ کیا زندگی ہے؟ اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ امت مسلمہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی مثال بنی بیٹھی ہے۔اور جب اسرائیل کی سب سے زیادہ امداد دینے والے امریکی صدر نے امت مسلمہ کے چیدہ چیدہ حکمرانوں کو بلایا کہ آئو اور غزہ کے فلسطینیوں کا صفایا کر دو، جو ظالم ا سرائیل بھی نہیں کر سکا تھا تو تو یہ بے غیرت خوشی خوشی حاضر جناب کہہ کر آ پہنچے۔یا تو یہ اتنے بھولے بھالے تھے کہ انہیں ٹرمپ اور اسکی سازش سمجھ نہیں آئی یا انہوں نے بس اتنا سوچا کہ ہمارے فوجی نو جوانوں کو چند روز اچھی تنخواہ مل جائے گی اور فوج خوش ہو جائے گی۔یہ نہیں کسی نے سوچا، کہ کس طرح اسرائیل اور حماس کی جنگ میں وہ سینڈوچ بن سکتے ہیں اور انہیں دونوں طرف سے گولیاں پڑ سکتی ہیں۔یہ مسلمان ہمیشہ سے نا عاقبت اندیش ہوتے ہیں، یا اتنی سی بات پر پھولے نہیں سماتے کہ امریکی صدر نے ان کی طرف ہنس کر دیکھا ہے، اب وہ اس کی اشارے پر جان قربان کر دیں گے۔
لعنت ہے ایسے مسلمان حکمرانوں پر۔انہیں پتہ نہیں کہ ٹرمپ بجائے ان کو دینے کہ انہی سے بڑی رقم لے لے گا۔ ان کے فوجیوں کو بھی پتہ نہیں کہ کچھ ملے گا یا نہیں؟ یہ اپنی قوم کے خرچے پر جہاز بھر بھر کر ٹرمپ کی میٹنگز میں آتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ غزہ میں دائمی امن کروا لیں گے۔خوش فہمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، آج کے دن یعنی 19فروری کو، واشنگٹن ڈی سی ، میں بورڈ آف پیس کی میٹنگ ہوئی جس میںدرجنوں عالمی رہنما اور قومی وفود نے اس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔جب کہ یورپ کے بڑے اتحادیوں نے اس گروپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ و ہ اسکی غیر شفاف فنڈنگ اور سیاسی مینڈٹ پر مطمئن نہیں ہیں۔ وہائٹ ہائوس نے اشارہ دیا ہے کہ نئے ایڈہاک کونسل کا سر براہی اجلاس ، جسے اب ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کا نام دیا گیا ہے، بڑی حد تک فنڈ ریزنگ کے طور پر کام کرے گا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ مختلف ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے8ارب ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا ہے، جو اسرائیل کے ساتھ جنگ میں تباہ ہو چکا ہے۔ اور اب انسانی بحران کا شکار ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ رکن ممالک نے، ’’بین الاقوامی استحکامی فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں ’’ اہلکارفراہم کرنے کا بھی عہد کیا ہے تا کہ غزہ کے عوام کے لیے سیکیورٹی اور امن برقرار رکھا جا سکے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ رکن ممالک نے بین الاقوامی استحکامی فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں ’’اہلکار فراہم کرنے کا بھی عہد کیا ہے تا کہ غزہ کے عوام کے لیے سیکیورٹی اور امن برقرار رکھا جا سکے۔ ابتدائی طور پر بورڈ کا قیام غزہ کی تعمیر نو کو بنیاد ی ہدف قرار دے کر کیا گیا تھا، تا ہم بعد میںٹرمپ نے اس کے مینڈٹ کو دیگر عالمی تنازعات سے نمٹنے تک کی وسعت دے دی۔
ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں کون شامل ہیں؟ مطلق العنان حکمران، ڈکٹیٹر اور آمر۔ لیکن ٹرمپ کے مخصوص جوشیلے انداز کے با وجود، بورڈ آف پیس کا اجلاس شدید شک و شبہات کے ماحول میں شروع ہو ا۔ توقعات نہ صرف جمعرات کے واشنگٹن اجلاس کے حوالے سے محدود ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی، جہاں ڈیوس میں جارڈ کشنر ٹرمپ کا دامادکی جانب سے اعلان کردہ 100روزہ امن و بحالی منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور غزہ میں امداد کی فراہمی کی رفتار بہت سست ہے ۔
آرون ڈیوڈ ملر جو کارنیگی انڈومنٹ فور انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو اور سابق امریکی سفارت کار ہیں، نے کہا کہ بورڈ آف پیس کو اسرائیل۔غزہ تنازع کے بنیادی سوالات حل کرنے میں دشواری ہو گی۔علاقہ پر کون حکومت کرے گا؟ زمینی سیکیورٹی کون فراہم کرے گا؟ اور فلسطینی آبادی کی فوری ضرویات کیسے پوری کی جائیں گی؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا بھی کوئی واضح اشارہ نہیںکہ بورڈ اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں بنیادی تعطل کیسے توڑ سکے گا؟
انہوں نے کہا ’’یہ بورڈایک ایسے صدر کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے جو فوری کامیابیوں، لین دین اور حقیقی پیش رفت کے بجائے سر گرمی کے تاثر میں دلچسپی رکھتا ہے تا کہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ معاملات مکمل طور پر مردہ نہیں ہوئے۔وعدے تو حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن وعدہ کرنا اور اسے پورا کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔
یوروپین کمیشن کی صدر اورسلا فان ڈر لی این نے دعوت مسترد کر دی ہے۔اسی طرح امریکہ کے اتحادی رہنمائوں جیسے فرانس، جرمنی، یو کے کے رہنمائوں نے بھی شامل نہ ہو نے کا فیصلہ کر لیا۔ ٹرمپ نے کینیڈا کے مارک کارنی کو جو دعوت نامہ دیا تھا وہ واپس لے لیا کیونکہ انہوں نے گذشتہ ماہ، ڈیوس میں، ورلڈ اکنامک فورم میںایک زوردار تنقیدی تقریر کی تھی۔ وائٹ ہائوس کی اس پیش قدمی کو دوسرا دھچکا پھر لگا جب پوپ لیو 14نے بر ملا اعلان کر دیا کہ وہ بھی اس بورڈ میں شامل ہونے سے قاصرہیں، جسے دوسرے بڑے بین الاقوامی اداروں کی، جن میں اقوام متحدہ شامل ہے، کی قوت کو نقصان پہنچانے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے، اور ٹرمپ اپنی صدارت کے ختم ہو جانے کے بعد بھی اس بورڈ کے صدر رہ سکتے ہیں۔کارڈینل پیٹرو پیرولنِ، جو ویٹی کن کے چوٹی کے سفارت کار ہیں، نے کہا کہ ایک تشویش یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سب سے پہلے اقوام متحدہ کو برتری ہونی چاہیئے جو ایسے حالات کو سنبھالے۔یہ ایک نقطہ ہے جس پر ہم نے اصرار کیا۔
اسلئے اس میٹنگ میں مشرق وسطیٰ کے نمائندے شامل ہوں گے، بمعہ اسرائیل کے، یونایئٹڈ عرب امارات، ٹرکی، اردن، اور کچھ دوسرے ممالک جن کا غزہ کے مسئلہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسے ارجنٹینا، پیرا گوا، ہنگری، قزاقستان۔ ان میں سے کئی صرف ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے شامل ہو نگے، جس کے مستقل رکنیت کی شرط، ٹرمپ کی خاص پیش رفت کا صدقہ ایک بلین ڈالر کا چندہ رکھا گیا ہے۔( یاہو کی اس رپورٹ میں ٹرمپ کے چہیتے،پاکستان کا کوئی ذکر نہیں ہے) ۔
اسرائیل۔فلسطین کے پراجیکٹ ڈائریکٹر میکس روڈینبیک،جن کا تعلق انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے ہے، نے کہا کہ پوری دنیا میں اس بورڈکی تشکیل اور اس کے عزائم اور اس پیشرفت کو بہت باریک بینی سے دیکھا جائے گا۔ اگر اس میٹنگ کے نتیجہ میں،زمین پر تیزی سے قابل ذکر ترقی نہ دیکھی گئی، خاص طور پر انسانی حوالے سے، اس کی ساکھ لمحوں میں ڈھیر ہو جائے گی۔نتین ہاہو جس نے واشنگٹن میں اس سارے منصوبے پر دستخط کیے تھے، وہ اس میٹنگ میں اپنی جگہ ا پنے وزیر خارجہ کو بھیجے گا۔ اسرائیلی الیکشن کے زمانے میں، اس امن کے منصوبے پر اسرائیلی تعاون کی توقع کرنا بہت مشکل ہے۔اس لیے کہ نتین یاہو ، اپنے انتہائی دائیں بازو کو خوش کر نے کے لیے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا جس سے وہ نا امید ہوں، اور وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ وہ قطراور ترکی کے ساتھ ہے ، جن کے حماس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ زمینی حقائق سے نشاندہی ہوئی ہے، ٹرمپ منصوبے کے تحت جو تھوڑے سے سیاسی اور سیکیورٹی کے ادارے ہیں انہوں نے غزہ میں انسانی المیہ اور وجہ نزاع کو کم کرنے میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں کی ہے۔ اس بات کو ایک مہینہ گذر چکا ہے ۔ اور متعلقہ لوگ ابھی تک واضح اقدامات سے بے خبر ہیں۔ غزہ کی انتظامیہ نیشنل کمیٹی ،(NCAG) کے پندرہ ارکان قاہرہ میں بیٹھے چاہتے ہیں کہ غزہ کے عوام کی جلد داد رسی ہو لیکن ان کے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں جن سے کچھ کیا جا سکے۔نکولئی ملاڈینوف جو بورڈ آف پیس کا اعلیٰ نمائیندہ ہیں، ان کوکوئی جانتا تک نہیں، اور نہ ان کی ذمہ واریوں کو۔ NCAG))
نے سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر اسے فعال بنانا ہے تو اس کے پاس مکمل انتظامی، شہری، اور پولیس کنٹرول ہونا چاہیئے۔ اس کے بغیر وہ اپنی ذمہ واریاں پوری نہیں کر سکتے۔اسرائیل مبصر نے کہا ہے کہ ہر چیز سست رفتاری سے ہو رہی ہے۔ جب تک حالت سازگار نہیں ہو جاتے، (NCAG) کو غزہ میں منتقل کرنا مناسب نہیں۔ان کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کا بجٹ کتنا ہے؟ ان کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کس اٹھارٹی کے نیچے کام کریں گے؟
انٹرنیشنلٖ فورس، جو فلسطینی پولیس کی مددد کرے گی، اس میں مختلف ممالک سے فوجی آئیں گے،اس میں کچھ حرکت آئی ہے۔انڈونیشیا سے 8000فوجیوں کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ان کے لیے بیریکس بنائی جا رہی ہیں۔ ایک دفتر بھی لیکن ان میں ابھی تک کوئی نہیں ہے۔سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کامیاب تبھی ہو گا جب حالات سازگار ہو نگے۔جن میں حماس سے ہتھیاروں کا لینا اور اسرائیلی فوج کا انخلاء۔ اسرائیل ابھی تک غزہ میں اپنا کنٹرول رکھے ہوا ہے۔لوگ مر رہے ہیں اور عمارتیں ڈھائی جا رہی ہیں، بقول یو این کے۔
19فروری کی میٹنگ میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ بند ہو چکی ہے۔ (تالیاں) یہ بورڈ، جنگ کے بعد کے حالت کو سنبھالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ جیسے کہ جنگ کے بعد وہاں کون حکومت بنائے گا، سیکیورٹی اور بحالی کے کاموں کی نگرانی ا ور اس تباہ شدہ علاقہ کی بحالی کے لیے مالیہ اکٹھا کرنے کا کام۔ ٹرمپ نے غزہ کی صورت حال کو پیچیدہ قرار دیا۔لیکن یہ بھی کہا کہ ترقی کی رفتار بہترین ہے۔اور یہ بورڈ اس معاملہ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ٹرمپ نے بتایا ک امریکہ دس بلین ڈالر دے گا، اور9شامل ممالک 7بلین ڈالر کاوعدہ کر چکے ہیں۔یہ ملک ہیں، قزاقستان،آزربائیجان، یو اے ای، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب ، ازبکستان اور کویت۔ ٹرمپ نے کہا کہ جاپان اور فنڈز لانے کی کوشش کرے گا۔(پاکستان کا نام ان ملکوں میں شامل نہیں)۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس اپنے ہتھیار نہیں پھینکے گا تو اس کو بہت برے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔
ایک اور خبر کے مطابق، اسرائل نے اوسلواکورڈ کو یک طرفہ کاروائی سے منسوخ کر دیا ہے۔ٹرمپ نے غزہ میں بحالی کے لیے(International Stabilization Force. ISF) بنا دی ہے۔ میجر جنرل جیسپر جیفرز ، جو فورس کے کمانڈر ہو نگے، نے بتایا کہ پانچ ملکوں نے اپنے فوجی دینے کا وعدہ کیا ہے، وہ ملک ہیں، انڈونیشیا، مراکش، قزاقستان، کوسوو، اور البانیہ۔انڈونیشیا نے ڈپٹی کمانڈر کی پوزیشن لے لی ہے۔قارئین، نوٹ فرمایئے کہ پاکستان اس لسٹ سے ایسے غائب ہے جیسے۔۔۔
حماس کا ردعمل جیسے متوقع تھا، انہوں نے کہا جب تک ان کے خلاف اسرائیلی حملے مکمل طور پرختم نہیں ہوتے، اور ان کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا، اور ان کے حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ کوئی سیاسی یا انتظامی پیش رفت منظور نہیں کریں گے۔



