معیار ِ فتح

میاں آصف علی
بخدا یہ میری کھیلوں سے عدم دلچسپی کی وجہ نہیں ہے کہ میں کھیل میں ملکی شکست کو خاطر میں نہیں لاتا میرے نزدیک کھیل کے میدان میں ہار جیت بہتر یا بُری کارکردگی کی وجہ سے ہوتی ہے جیت کی صورت میں کارکردگی میں مزید بہتری کی سوچ اور شکست کی صورت میں ناقص کارکردگیوں پر نظر ڈالتے ہوئے بہتری کے اقدامات بروئے کار لانا ہوتا ہے مگر ہم اس مثبت طریقۂ کار پر منطبق ہونے کی بجائے شکست پر اس انداز سے ماتم کناں ہوتے ہیں کہ گماں لگتا ہے کہ شاید یہ روز ِ قیامت ہے اور اب ہم سب نے دوزخ میں رہنا ہے ہر چینل پر تنقید کرنے والے اشخاص اس طرح سر پیٹتے نظر آتے ہیں جیسے ہمارا ملک قلاش ہو گیا ہے اور ملکی خزانہ میں اگلے دن کی روٹی کے پیسے ہی نہیں ہیں ہمارے ملک میں کبھی بھی مہنگائی پر ،مسلسل نا انصافیوں پر ،طبقاتی بڑھتی خلیج پر ،حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں پر کبھی ایسا واویلا دیکھنے کو نہیں ملتا جیسا شور و غل کرکٹ میچ ہارنے پر سماعتوں سے ٹکراتا ہے پھر بھارت سے ہارنا ان کے نزدیک زندگی ہارنے والی بات لگتی ہے حالانکہ بھارت سے 4ماہ میں چار بار شکست کھانے کے باوجود بھی اچھی کارکردگی والی کرکٹ ٹیم نہ بنانا نااہلی ہے 16 میں سے 13میچوں میں شکست کھانے کے بعد بھی اپنی خامیوں پر نظر ڈالنے سے قاصر ہیں ہمارے قومی مزاج میں جانے کب یہ شعور بیدار ہو گا کہ بھارت سے کرکٹ میچ ہارنا کسی تباہی کی دلیل نہیں ہوتی ہاں بھارت کو نیچا دکھانا ہے تواس سے بہتر معاشی پالیسیاں نافذالعمل کرو ،بھارتی کرنسی کے مقابلے میں اپنی کرنسی اپنی ایکسپورٹ بہتر کرو بین الاقوامی منڈیوں میں بھارتی تجارت کی شرح کی نسبت پاکستانی تجارت کو فروغ دو مگر حیرت ہے جو حکمرانوں سے لے کر ایک عام آدمی تک کسی نے بھی کبھی اس نہج پہ غور و فکر ہی نہیں کیا بھارت کو دفاعی اعتبار سے سبق سکھانے کے لئے الحمداللہ ہماری پاک فوج کافی دسترس رکھتی ہے تو پھر دیگر مذکورہ میدانوں میں ہم کیوں نہیں بھارت سے سبقت لے جا سکتے ؟ ہمارے معاشی ماہرین جب قرض لینے کا آسان سا مشورہ دیتے ہیں تووہ معاشی سطح پر ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتے جس سے ہماری معیشت کی اکھڑی سانسیں سنبھل جائیں بہتری کی اس معاشی ہوا سے غربت کی لکیر سے نیچے گرے ہوئے لوگ بھی سر اٹھا سکیں مگر ایسا معیار ِ ذہانت ڈھونڈے نہیں ملتا ہمارا معیار ِ فتح صرف قرض حاصل کرنے میں ہے جسے کرکٹ کی ہار جیت کے غم میں مبتلا یہ عوام ہی ادا کرتی ہے حکومت جب چاہے کوئی بھی ٹیکس لگادے یا کسی بھی روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمت بڑھا دے یہ سر جھکا کر قبول کرتے ہیں مگر کرکٹ کا میچ یہ ہار جائیں تو پھر ٹی وی ،اخبارات چرچوں سے بھر جاتے ہیں ایک لامتناہی بحث جو غربت کی موجودگی میں لاحاصل ہوتی ہے اُس پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں لگے رہتے ہیںنہ سیاست کی سمجھ نہ معیشت سے واقف لیکن جمہوریت کے لئے ہر وقت نعرہ زن رہنے والی قوم اپنے معیار ِ سے اپنی قدر سے ناواقف ہو کر خود کو خاکستر کر چکی ہے مگر بیشعوری کے مرغولوں میں گھری ابھی بھی اپنی راہ متعین کرنے میں ناکامی سے دوچار ہے بڑی حد تک پاک فوج نے افراتفری و انتشار کی سیاست کرنے والے زعماء کو ایک اخلاقی دائرے میں قید کر دیا ہے اور ملکی استحکام کے لئے خود فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر بڑی جوانمردی سے بڑے بڑے فیصلے کرنے میں حکومتی ایجنڈے کو سہارا دیا پہلی دفعہ ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ فیڈمارشل کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے گویا جنرل عاصم منیر نے وہ معیار فتح کر لئے ہیں جو عالمی برادری میں بہترین سفارتی تعلق کو فروغ دیتے ہیں جس سے پاکستان کی تجارتی سرگرمیاں پھیلنے کی امید کی جا سکتی ہے مگر پہلے عوامی سطح پر حکومت کواُن مسائل سے نمٹنا ہے جس سے ریاست ِ پاکستان کی عوام کئی دھائیوں سے دوچار ہے جب کہ ضروری یہ بھی ہے کہ عوام بھی معیار ِ فتح کے لئے شعور کی دولت کو ذہن میں پنپنے دے ۔



