جرنیلی ٹولہ کی نحوست اور کیا دکھائے گی؟

یہ شعر تو آپ میں سے بیشتر نے سنا ہی ہوگا:
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہء خون نکلا!
یہ شعر ہمیں یوں یاد آیا کہ وہ کرکٹ میچ جس کا ایک دنیا کو انتظار تھا، جس کا دِنوں سے چرچا تھا، شور تھا، وہ ہماری شہرہء آفاق کرکٹ ٹیم بڑی شان سے بھارت سے ہار گئی!کیا دھلائی کی ہے بھارت نے ہماری کرکٹ ٹیم کی جس نے اپنی ناقص اور انتہا درجہ کے بُرے کھیل سےپوری قوم کو نہ صرف مایوس کیا بلکہ اسے منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا!
اور یہ اس لئے ہوا، یہ شرمناک نتیجہ یوں سامنے آیا کہ ہمارے ان زعماء نے، جو ملک و قوم کو اپنی موروثی جاگیر سمجھ کے ایک عرصہ سے قوم کو یرغمال اور ملک کوغلام بنائے ہوئے ہیں، کرکٹ کو بھی باقی اور شعبوں کی طرح اپنی ہوسِ ملک گیری اور اقتدار کی نہ مٹنے والی بھوک کی قربان گاہ پہ رکھا ہوا ہے۔
یہ نحوست ہے اس آسیب کی جو محسن نقوی جیسے گماشتہ کو کرکٹ پر بھی طاری کر رکھا ہے۔ اور سچ پوچھو تو اصل نحوست اس چھٹ بھئیے عاصم منیر کی ہے جو پاکستان پر سانپ بنا بیٹھا ہے اور اپنے زہر کو قوم و ملک کی رگ و پے میں مسلسل سرایت کرتا رہا ہے !
یہی کرکٹ تھی جس میں پاکستان نے 1992ء میں عمران خان کی قیادت میں ورلڈ کپ جیت کر ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا تھا۔ آج اس لعنتی ملت فروش ٹولہ کی سربراہی میں قوم کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں بچی۔ وہ عمران جو کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا آج اسی منحوس ٹولہ کی بدولت جیل کی کال کوٹھڑی میں قیدِ تنہائی بھگت رہا ہے اور ملک کی عزت و ناموس کا سودا کرنے والا عاصم منیر دنیا بھر میں یوں پھر رہا ہے جیسے اپنے سامراجی آقا کے بعد دنیا میں سب سے دراز قامت یہی نیم پڑھا لکھا اور جاہلِ مطلق چھٹ بھئیا ہو !آپ کو یاد ہے ہم نے کسی کالم میں، بلکہ ایک سے زائد کالموں میں سامراج کے سب سے بڑے نقیب اور علمبردار دانشور، ہنری کسنجر کا یہ معروف قول نقل کیا تھا کہ امریکہ یوں مضبوط اور طاقتور (کسنجر نے تو عظیم کی اصطلاح استعمال کی تھی لیکن ان کی مثال اپنے منہ میاں مٹھو کی تھی ) ہے کہ وہ اپنے غداروں کو تو کیفر کردار کو پہنچاتا ہے لیکن اپنے باجگذار اور غلام ملکوں میں ایسے غداروں اور ملت فروشوں کی سرپرستی کرتا ہے اور ان کو استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے !
تو پاکستان کو اپنا مقبوضہ گرداننے والا یہ ٹولہ اپنے سرغنہ عاصم منیر کی سربراہی میں یہی اکیلا کاروبارِ ملت فروشی کر رہا ہے۔ عاصم منیر دراصل پاکستان کو اپنے اور اپنے ڈکیت جرنیلوں کے مفاد میں ایک مافیا کی طرح چلا رہا ہے۔ وہ خود مافیا ڈون بنا ہوا ہے اور ملک کے مفاد کو استعمار اور سامراج کی قربان گاہ پہ نذر کر رہا ہے۔اس لعین کو یہ غرورہوگیا ہے کہ استعمار اور سامراج کے گرو گھنٹال کا یہ پسندیدہ چیلا ہے۔ کم ظرف کو جب سے وہائٹ ہاؤس میں لنچ کیا کھانے کو ملا اس کے تو قدم زمین پر نہیں پڑ رہے جبکہ اس کا سامراجی آقا اس مزاج کا ہے کہ وہ لوگوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے اور پھر کوڑے کے ڈھیر پہ انہیں پھینک دیتا ہے۔ تو اس کم اوقات کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل کہنے والا عین ممکن ہے کہ اب تک اس کا نام بھی بھول گیا ہو!
لیکن چیلا تو آج بھی خود کو آقائے نامدار کی ناک کا بال سمجھتا ہے اور اسی زعم میں یہ جاہل پہلے سوئزرلینڈ دوڑا گیا تھا جب وہاں داووس کی سربراہی کانفرنس ہو رہی تھی تاکہ اپنے آقا کی چرن دھولی لے سکے لیکن آقا تو وہاں چند گھنٹے کیلئے نمودار ہوا تھا اور اس چھٹ بھئیے کو ٹھینگا دکھاکے وہاں سے چلا گیا تھا۔
اب یہ کم ظرف میونخ کی یورپی سربراہی کانفرنس میں بن بلائے مہمان کی طرح پہنچ گیا۔ دنیا کا یہ نوسرباز واحد جرنیل ہے جس نے اپنے سر پر ایک ڈپلومیٹ کا ہیٹ بھی پہن لیا ہے اور ہر جگہ بن بلائے یہ بے شرم پہنچ جاتا ہے!
اس کا سامراجی آقا میونخ کی کانفرنس میں بھاشن دینے نہیں آیا اپنی جگہ اپنے وزیرِ خارجہ، جو ایک غدارِ وطن کیوبن کی اولاد ہے اور اتنا ہی بڑا ملت فروش ہے جتنا یہ پاکستانی غدارِ وطن، کو بھیج دیا۔ تو یہ پاکستان کیلئے باعثِ ہزیمت و رسوائی ملت فروش مارکو روبیو کے ساتھ تصویر کھنچوانے میں ہی اپنی معراج سمجھتے ہوئے میونخ میں اس کے بوٹ پالش کرنے کیلئے پہنچ گیا!اس ملت فروش کے ایماء پر بوٹ پالشئیے شہباز شریف نے پاکستان کو سماراجی گروگھنٹال کے غزہ امن بورڈ کا شراکت دار تو بنوادیا ہے لیکن ٹرمپ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کا فوجی دستہ بھی اس فورس کا حصہ بنے جس کا اصل مشن غزہ کے ناموس کے پاسبان حماس کے حریت پرستوں کو غیر مسلح کرکے بے دست و پا اور صیہونی اسرائیل کا غلام بنانا ہے۔ملت مسلمہ کی تاریخ کا سب سے نمایاں لیکن تکلیف دہ پہلو یہ حقیقت ہے کہ اس کے گھر میں آگ ہمیشہ اسی کے چراغوں سے لگی ہے۔ قوم و ملک سے غداری اور ملت فروشی نے اسلامی ممالک کو اپنے دشمنوں کے آگے بے دست و پا کیا ہے، تاریخ کے ہر دور میں اور یہ دردناک تاریخ آج کے دور میں بھی دہرائی جارہی ہے۔انڈونیشیا آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان آتا ہے اور دونوں کی اقوام کی بدنصیبی سے انڈونیشیا پر بھی ایک ملت فروش صدر حکومت کر رہا ہے جس نے اپنے عوام کے جذبات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سامراجی گروگھنٹال کو اطلاع دے دی ہے کہ بیس ہزار انڈونیشین فوجی اس کی اس فوج میں شریک ہونگے جو غزہ کو صیہونی اسرائیل کا غلام بنانے کیلئے تعینات کی جائے گی!ابتک پاکستانی ملت فروش کو یہ جسارت نہیں ہوئی کہ وہ بھی انڈونیشیا کی پیروی میں اعلان کردے کہ پاکستانی فوجی دستہ بھی غزہ میں مظلوم فلسطینیوں پر ستم توڑنے والی فوج میں فریق ہوگا لیکن چھٹ بھئیا تلا بیٹھا ہے کہ سامراجی آقا کی خدمت میں پاکستان کی غیرت و ناموس کوہدیہ کردے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ یہ کام کرگذرے گا !کون ہے جو اس ملت فروش ظالم کا موجودہ پاکستان میں رستہ روک سکے یا اس کے فرمان سے سرتابی کرسکے؟
اس بدبخت نے عمران کو اپنے ستم کا نمونہ بناکر کوشش کی ہے کہ قوم اس کے خوف میں رہے جبکہ یہ بزدل عمران سے خود اتنا خوفزدہ ہے کہ اپنے بچاؤ کیلئے ہر ممکنہ انتظام کرکے بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن اس کو اور اس کے کٹھ پتلی برائے نام وزیرِ اعظم شہباز کو ان دنوں دورے بہت پڑ رہے ہیں اس عالم میں کہ عمران پر جو مظالم یہ وقت کا چنگیز ڈھا رہا ہے اس سے عمران کی ایک آنکھ کی بینائی تقریبا” چلی گئی ہے۔ لیکن اس ملت فروش کو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ یہ تو عمران کے انتقام کی آگ میں ایسا بھسم ہورہا ہے کہ اس کیلئے تو عمران کی بینائی چلے چانے کی خبر خوشخبری ہے!اور رہا وہ بوٹ پالشئیہ شہباز تو وہ تو اسلام آباد میں ٹکنے کیلئے ہی تیار نہیں ہے۔ کبھی لندن دوڑا ہوا جاتا ہے تو کبھی آسٹریا۔ کوئی پوچھے کہ آسٹریا میں اس کا کیا کام لیکن یہ وہ ڈکیت ہیں جو پاکستان کے وسائل کو اپنے باپ کی دولت سمجھ کے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔غیور بنگلہ دیش نے عام انتخابات کا انعقاد کیا اور صاف و شفاف انتخابی عمل کے نتیجہ میں بی این پی کے رہنما طارق رحمان، جو آمر حسینہ واجد کے ظلم و ستم کا ایسے ہی نشانہ بنے تھے جیسے آج عمران جرنیلی ٹولہ کا شکار ہے، بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کے حکومتی سربراہوں کو اپنی تقریبِ حلف برداری کیلئے مدعو کیا۔ مودی جی نے تو اب تک کوئی عندیہ نہیں دیا ہے کہ وہ ڈھاکہ جائینگے یا نہیں لیکن ہمارا کٹھ پتلی بے غیرت شہباز ڈھاکہ جانے کیلئے پر تول رہا ہے۔بےغیرتی کوئی اس نام نہاد شریف خاندان سے سیکھے۔ شہباز اس شبخون کے نتیجہ میں پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے جو ڈکیت عاصم منیر نے 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات پر مارا تھا۔ بنگلہ دیش میں کسی نے انتخابات پر ڈاکہ نہیں ڈالا لیکن بےغیرت شہباز ایسا شرم و غیرت سے عاری ہے کہ ایک شفاف جمہوری عمل کے صلہ میں منتخب ہونے والے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں بڑی شان سے جارہا ہے۔ بےغیرتی اس چھٹ بھئیے پر ختم ہے۔
ملت فروشوں کا یہ ٹولہ بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے پاکستانی قوم کی بے حسی کا !بنگلہ دیش بیدار ہے، قوم پوری اپنے جمہوری حقوق کا نہ صرف ادراک رکھتی ہے بلکہ ان کی پاسداری کیلئے ہر قربانی کیلئے آمادہ ہے۔ اگست 2024ء میں چھیہفتہ کے نوجوان بنگلہ دیشیوں کے احتجاج میں 1400 نوجوان حسینہ ؤاجد کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے تھے لیکن عوامی جد و جہد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ ظالم کی گولیوں نے عوامی احتجاج کی آتشِ شوق کو اور ہوا دی اور بالاخر تحریک کامران رہی اور سرخرو ہوئی!پاکستان کے عوام کی غفلت ہے کہ کسی طور بیدار ہوکے نہیں دے رہی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ جاگ رہے ہیں اور اپنی حریت پرستی کا بھرپور مظاہرہ بھی کر رہے ہیں لیکن دونوں بڑے صوبے، پنجاب اور سندھ کسی طور بیدار نہیں ہورہے۔ دونوں صوبوں پر جرنیلی ٹولہ کے نمکخوار مسلط ہیں اور وہی کچھ کر رہے ہیں جو یہ یزیدی چاہتے ہیں۔ پنجاب میں بسنت کے تہوار کے نام پر عوام کو افیم دی جارہی ہے اور سندھ پر ڈکیت زرداری کے سانپ مسلط ہیں۔یہ یزیدی ملت فروش اس وقت تک پاکستان کا سودا کرتے رہینگے جب تک پاکستان کے عوام اسی طرح اپنی مزاحمت سے انہیں نابود نہیں کردیتے جیسے دو برس پہلے بنگلہ دیش کے حریت پرستوں نے اپنی ظالم حکومت سے نجات پائی تھی۔یزیدیوں نے شہیدِ اعظم سیدنا حسین کی سنت پر چلنے والے عمران خان کو عقوبت کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ملک کی بے ضمیر عدلیہ ان ملت فروشوں کے جرائم میں برابر کی شریک ہے۔ اعلیٰ عدالتیں بے ضمیر عدل فروشوں کے تسلط میں ہیں۔ یہ اس ملک کا احوال ہے جو نام نہاد اسلامی جمہوریہ ہے لیکن جس میں اسلامی شعائر کی بے حرمتی اس کی نام نہاد اشرافیہ کے ہاتھوں رات و دن ہورہی ہے۔ جس کی افواج کے قائدین سب ڈکیت ہیں اور ملت فروشی جن کا شعار ہے اور عدل کی مسندوں پر براجمان ضمیر فروش یہ سمجھتے ہیں کہ نہ انہیں موت آئے گی نہ وہ منصفِ ازل کی عدالت میں پیش کئے جائینگے!پاکستان اس قول کی ایک عبرتناک مثال ہے کہ اللہ اس قوم کی تقدیر نہیں بدلتا جسے خود اپنی تقدیر بدلنے کا کوئی شعور نہ ہو!
اور اس قولِ صادق کی بھی مثال ہے کہ جیسے قوم کے اعمال ہوتے ہیں ویسے ہی اس پر حکومت کرنے والے ظالم و جابر حکمراں ہوتے ہیں۔ پاکستانی قوم کے سیاہ کرتوت کا نتیجہ یزیدی ملت فروش جرنیل ہیں اور ان کے کٹھ پتلی سیاسی شعبدہ باز اور گماشتے !
جو قاتلوں کا مسلط ہے ملک پر ٹولہ
ناآشنا ہے وہ تہذیب کی روایت سے
یہ بھوت لاتوں کے ہیں باتوں سے نہ مانیں گے
نجات ان سے ملے گی نہ بس شکایت سے !



