دہشت گردی، زندہ باد!

پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات تشویشناک ہوتے جا رہے ہیں۔یہ دہشت گردی کون کرتا ہے، اور اس کو کیسے ختم کیا جائے اس پر راقم نے مصنوعی ذہانت سے پوچھا۔ اس کے مطابق، دہشت گرد غیر ریاستی عناصر ہوتے ہیں یا ریاست کے پوشیدہ عناصر۔، جو جان بوجھ کر، اپنے سیاسی،عقیدے یا مذہبی مقاصد کے لیے،معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہی گروہ ایک کے لیے دہشتگرد ہو گا اور دوسروں کے لیے حریت پسند جو آزادی کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ان کی مثالیں، جیسے یو کے کے آئی آر اے، الجیریا کے ایف ایل این، افغانستان کے طالبان جنہیںحریت پسند کہتے ہیں اور مذہبی انتہا پسند جیسے داعش ، القائدہ وغیرہ۔ان کی مشترکہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔خوف کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ ان کے سیاسی یا نظریاتی مقاصد ہوتے ہیں، اور یہ جس حکومت کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں اس سے کمزور ہوتے ہیں۔
دہشت گردوںکی پشت پناہی کون کرتا ہے؟ کچھ صورتوں میں ریاست جو تربیت دیتی ہے، یا پناہ دیتی ہے۔اور ان کو اپنی مرضی سے استعمال کرتی ہے۔کچھ صورتوں میں ان کو استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ خود سامنے نہیں آنا چاہتی۔اور اس لیے کہ وہ اپنی ظاہری پشت پناہی چھپانا چاہتی ہے ۔پشت پناہی کی مختلف شکلیں ہیں۔براہ راست جیسے کہ نظریاتی ہمدرد جو سمجھتے ہیں کہ تشدد ضروری ہے۔یا وہ لوگ جو مذہب، یا وطنیت،انتقام یا محض شنا خت کی خاطر شامل ہو جاتے ہیں۔ اور بیرون ملک رہنے والے امداد بھیجتے ہیں لیکن جانتے نہیں کہ وہ گروہ کیسے کام کر رہا ہے۔
کچھ دہشت گرد گروہوں کو ریاستی امداد ملتی ہے۔بظاہر یا پوشیدہ۔ ان کو خاص اثاثوں کے طور پر تربیت ، پناہ اور مالی امداددی جاتی ہے ۔ لیکن بظاہر اقرار نہیں کیا جاتا۔یہ کام کئی خطے اورممالک کرتے ہیں۔ جیسے امریکہ، سویت یونین، سرد جنگ ۔ مشرق وسطیٰ میں ایران، گلف کی ریاستیں، اسرائیل،پاکستان شامل ہیں۔جنوبی ایشیا میں کشمیر اور افغانستان
بلا واسطہ ذرائع میں قبضہ گروپ، استحصال اور نا اصافی کی وجہ سے اشتعال پھیلتا ہے اور ایسے حالات بن جاتے ہیں جو دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں۔ایسی ریاستیں جو ناکام ہو جاتی ہیں وہاں جیسے صومالیہ، لیبیا، اور شام کے علاقے۔ اسلحہ،ہتھیاروں، منشیات، چور بازاری، اورا سمگلنگ ۔ان گروہوں کو سوشل میڈیا اور غیر رسمی مذہبی ذرائع سے بھی مدد ملتی ہے۔
یہ خیال کہ غربت سے دہشت گردی پلتی ہے ، غلط ہے۔ کئی دہشت گرد پڑھے لکھے اور متمول طبقہ سے ہوتے ہیں۔
اہم سوال کہ کیوں نہیں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو سکتا؟اس لیے کہ دہشت گردی صرف لوگ نہیں بلکہ پورا ایک نظام ہے۔دہشت گردوں کو ختم کرنے سے ان کی جد وجہد ختم نہیں ہو جاتی۔فوجی طاقت سے ان کی ظاہری صورت ختم ہوتی ہے لیکن اس کے محرکات نہیں۔جب معصوم شہریوں کا قتل کیا جاتا ہے تو نئے لوگ آ جاتے ہیں۔شہادتوں سے نظریات کو مزید قوت ملتی ہے۔دہشت گرد نئے حالات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔وہ اپنے نئے خود مختار اڈے نئی ضروریات کے مطابق بنا لیتے ہیں۔بغیر قائد کے اور برانچ کے طور پر۔انٹرنیٹ سے نئے لوگ بھرتی کرتے ہیں۔ایسے حملے کرتے ہیں جن میں خرچ کم اور اس کانفسیاتی اثر زیادہ ہو۔
ریاستیں ان کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے، کہ ریاستوں کو دہشت گرد گروہوں کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ ملٹری بجٹ میں اضافوں کو پاس کروایا جا سکے۔آبادی کو کنٹرو ل کیا جا سکے۔دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کروائی جا سکے۔اور اپنے مخالفین کو دہشت گرد قرار دے کر دبایا جا سکے۔ بعض اوقات ایک قابل بھروسہ دشمن ہونا اس سے بہتر ہے کہ د شمن ہو ہی نہ۔ کچھ قانونی اور اخلاقی حدود بھی ہوتی ہیں۔ جمہوریتیں بے وجہ عوام کا قتل نہیں کر سکتیں۔ضابطوں اور آئینی بندشوںکو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔اور دہشت گرد ان بندشوں سے آزاد ہوتے ہیں۔دہشت گردی کو سیاسی طور پر توختم کیا جا سکتا ہے لیکن عسکری طریقوں سے نہیں۔ایسے گروہ تب ختم ہوتے ہیں جب ان کے مطالبوں میں جان نہیں رہتی۔ ان کو سیاست میں کردار مل جاتا ہے۔ان کی امداد کے ذرائع خشک ہو جاتے ہیں۔اور جب نزاع ہی ختم ہو جاتا ہے جیسے کہ آئر لینڈ میں۔اگرچہ دہشت گردی مکملاًختم نہیںہوتی لیکن اس کی اہمیت ضرور ختم کی جا سکتی ہے۔جو اقدام کامیاب ہوئے ہیں، وہ ہیں جب قبضہ ختم ہو جائے، اور سول وار ختم ہو جائے،سیاسی نظام میں سب شامل ہوں، مالی نظام میں راستے نہ ہوں، مخالف نظریہ کامیاب ہو جائے، اور خطہ میں استحکام ہو۔
البتہ جنگوں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ،جب سارے گائوں کو سزا دی جا رہی ہو ، اور پوری برادری کو معتوب کیا جائے۔
اب پاکستان کی طرف آتے ہیں۔پاکستان میں چار قسموں کے گروہ پائے جاتے ہیں۔ایک مذہبی ، جیسے تحریک طالبان پاکستان۔یہ دیوبندی فقہ کے ہیں اورپاکستان کی ریاست، فوج اور شہریوںکونشانہ بناتے ہیں۔ القائدہ کے نمائندے، اور داعش۔ دوسرا گروہ فرقہ بندی کاہے، جیسے لشکرجھنگوی،سپاہ صحابہ جو زیادہ تر شعیہ،ہزارہ اور اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ تیسرا گروہ ہے جنکامقصدِ اعلیٰ کشمیر ہے۔ ان میں جیش محمد اور لشکرطیبہ ہیں۔ لشکر طیبہ شروع میںبھارت کے خلاف تیار کیا گیا تھا۔ چوتھا گروہ ہے جس میں بلوچی اور کچھ سندھی علیحدگی پسند شامل ہیں۔
پاکستان میں ریاست نے 1979-1989میں افغان جہاد کے لیے امریکہ اور سعودی عرب کی مالی امداد سے مجاہدین کو تربیت دی گئی۔جہاد کو ادارے میں شامل کیا گیا، جس میں مدرسوں کو بڑھایا گیا، نظریاتی بیانیہ دیا گیا اور مسلح گروہ بنائے گئے جو ریاست کے پردے میں تھے۔1990 میں عسکری گروہوں کو کشمیر اور افغانستان کی طرف بڑھایا گیا۔یہ اقدامات حکمت عملی کے تحت کیے گئے نہ کہ حادثاتی تھے۔بیرونی دبائو نے بھی مدد دی۔بیرونی عناصر میںامریکہ سب سے آگے تھا جس نے افغان کی جنگ میںمالی اور ہتھیاروں سے مدد کی۔ سعودی عرب اور گلف کی ریاستوں نے مالی اور نظریاتی مدد دی۔ ایران نے بھی شعیہ کی مدد میں اپنا حصہ دالا۔پاکستانی معاشرہ میں فرقہ وارانہ نفرت کے پیغام دیے گئے۔اور جہاد بغیر ریاستی پشت پناہی کے تصور کو ابھارا گیا۔قانون کا نفاذ کمزور رہا۔اور انتہا پسندوں کی سیاسی پشت پناہی بھی کی گئی۔
یہ دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف کیوں ہو گئے؟ نو گیارہ کے بعد 2001-2007 کے دور میں،پاکستان امریکہ کا اتحادی بن گیاجس سے طالبان کو سبکی محسوس ہوئی۔تو ان انتہا پسندوں نے پاکستا ن کو باغی ریاست قرار دے دیا۔اس کے نتیجہ میں خود کش حملے ہوئے ، مساجد،بازاروں سکولوں پر حملے ہوئے۔ 2014ہی میں پشاور کے فوجی سکول پر حملہ ہوا۔جس سانپ کو ہمسایوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس نے مالک کو ڈس لیا۔
پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کئی محاذ بنائے لیکن وہ اچھے طالبان اور بُرے طالبان میں امتیاز نہیں کر سکے۔کچھ گروہوں کو خطہ میں استعمال کے خیال سے چھوڑ دیا گیا۔ کچھ کو بھارت کے لیے۔نظریاتی تضاد بھی تھے۔ ریاست دہشت گردی کی مذمت کرتی تھی لیکن معاشرہ فرقہ وارانہ وعظ بھی سنتا تھا۔جہاد کے قصے بڑے خضوع و خشوع کے ساتھ بیان کیے جاتے تھے۔اورمذہبی وعظ اختلافی بھی ہوتے تھے۔افغانستان کے ساتھ سرحدیں مکملاًبندنہیںتھیں۔ افغان غیر مستحکم تھے۔2021کے بعد سے افغانستان میں طالبان کی حکومت بن گئی تھی۔اور سرحد کے پار محفوظ مقام مل جاتا تھا۔
پاکستان میں حکومت کمزور ہو گئی۔جس سے پولیس کے کام میںکمی آئی۔عدالتوں میں انصاف میں کمزوری آئی۔ گواہوں کو ڈرایا جانے لگا۔ اور سیاسی دخل اندازی بھی ہوئی۔یاد رہے کہ سیاسی نا کامی کو فوجی اکیلے نہیں روک سکتے۔
کیا پاکستان نے کبھی دہشت گردی کو ختم کیا؟ ہاں کافی حد تک۔ 2014-2018 میں ضرب عضب اور رد ُالفساد کی مہمیںچلائی گئیں۔ اور جاسوسی بہتر کی گئی۔ اس سے دہشت گردی میں کافی کمی آئی۔ اور شہروں میں کچھ سکون ہوا۔ لیکن نظریاتی ڈھانچہ ویسا ہی رہا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے انتہا پسندوںکو تقویت دی۔اور تحریک طالبان پاکستان پھر سے زور پکڑ گئی۔لیکن اصل وجوحات اور بھی تھیں۔ انتہا پسندی ایک زمانہ میں ریاستی حکمت عملی تھی۔ اس نظریہ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ خارجہ پالیسی میں تضاد تھے۔مذہبی انتہا پسندی میں کوئی کمی نہیں آئی۔افغان غیر مستحکم تھے۔ اور سویلین ادارے بہت کمزور تھے۔
کیا پاکستان سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے؟ ہاں لیکن عسکریت سے نہیں۔سیاسی اور نظریاتی طریقے سے، لیکن اس کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔جو واقعی فرق ڈال سکتا ہے، وہ ہے:
دہشت گردی کی ایک تعریف (definition)؛ مدارس کو ضابطہ میںلانا؛ فرقہ بندی پر نفرتیں پھیلانے پر مکمل پابندی؛سیکیورٹی حکمت عملی میں میں سویلین کا مکمل اختیار؛
بھارت اور افغانستان کے ساتھ معمول کے تعلقات؛ اور اقتصادی شمولیت جیسے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں۔ آخر میں مختصراً:
پاکستان کو دہشت گردی ورثہ میں نہیںملی تھی، اس نے ایک یہ حکمت عملی کے طور پر اپنائی تھی، اور پھر دہائیوں تک اس کی قیمت چکائی۔
ہم فوج کو مکمل ذمہ وار تو نہیںٹہرا سکتے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ فوج کو اپنا بجٹ پاس کروانے کے لیے دہشت گردی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جب ہلری کلنٹن پاکستان آئی تھی تو اس نے کہا تھا کہ جب سانپوں کو دودھ پلائو گے تو وہ ایک دن تمہیں بھی کاٹیں گے۔ اور یہ سچ ثابت ہوا۔اصل میں فوج کا مسئلہ جب سے پیدا ہو گیا جب سے پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا۔ ایٹم بم کے بعد پاکستان کو روائیتی جنگ کا خطرہ ٹل گیا جو سب سے زیادہ بھارت سے تھا۔ لیکن اب اتنی بڑی فوج بن چکی ہے اور یہ ایک بہت بڑی راجدھانی ہے، اس کو بجائے آہستہ آہستہ کم کرنے کے، فوج کے جنرل مزید مستحکم رکھنا چاہتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ پاکستان کی معیشت یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے پاکستان قرضوں پر قرضے لیے چلا جا رہا ہے، اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں بچتا کہ وہ بچوں کو تعلیم دے سکے، مناسب خوراک دے سکے اور حاملہ عورتوں کو مناسب غذائیت دے سکے۔یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ پاکستان میں 76سال گزرنے کے بعد بھی دو کروڑ سے زائید بچے جنہیں سکول میں ہونا چاہیئے تھا وہ سکولوں سے باہر ہیں۔اس میں کچھ قصور ہمارے روز افزوں فوجی اخراجات کا ہے اور کچھ ہمارے حکمرانوں کا جو اپنی عیش و آرام کی زندگی نہیں چھوڑ سکتے۔اس لیے ان طاقتور لوگوں کی حکمت عملی یہی ہے کہ ملک میں ہمیشہ دہشت گردی ہوتی رہے۔ ایک صوبے میں مستقل علیحدگی کی مہم چلے اگرچہ کمزور سی ہو، اور کم از کم بھارت سے کبھی پاکستان کی صلح نہ ہو۔ کیونکہ اگر صلح ہوگئی اوردہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا تو بجٹ کیسے بڑھوایا جائے گا؟ ۔



