ہفتہ وار کالمز

جیفری ایپسٹین کا عالمی نیٹ ورک!

ڈونلڈ ٹرمپ اور سابقہ صدر بل کلنٹن کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا جیفری ایپسٹین سے کوئی خاص تعلق نہ تھا بس دو چار تقریبات میں ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ یہ دونوں نامور شخصیات جیفری ایپسٹین سے جتنا فاصلہ بڑھانا چاہتی ہیںیہ اتنا ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر روز سینکڑوں ایسی ای میلز‘ ویڈیوزاور تصاویر سامنے آ تی ہیںجو ان دونوں کے اس رسوائے زمانہ مجرم سے قریبی تعلقات کا پتہ دیتی ہیں۔ صدر ٹرمپ مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں کہ عالمی اشرافیہ کا یہ سکینڈل ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مغربی ممالک میں ایک بڑے سیاسی اور سماجی بحران کو جنم دینے والے اس سکینڈل کے بارے میں صدر ٹرمپ نے گذشتہ برس کہا تھا ” It’s all been a big hoax. It is perpetrated by the Democrats. And some stupid Republicans and foolish Republicans fell into the net.” ڈیموکریٹس نے جوزف بائیڈن کے دور صدارت میں اس سکینڈل پر کوئی توجہ نہ دی یہ صدر ٹرمپ تھے جنہوں نے 2024 کی صدارتی مہم کے دوران اپنے ووٹروں کیساتھ بار بار یہ وعدہ کیا کہ وہ صدارت سنبھالتے ہی جیفری ایپسٹین کی تمام فائلیں منظر عام پر لے آئیں گے۔ بعد ازاں انہوں نے جب یہ وعدہ ایفاء نہ کیا تو MAGA تحریک نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا کہ صدر ٹرمپ قومی مجرموں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ میگا قوم پرستوں کو یقین تھا کہ جیفری ایپسٹین کے ایلیٹ کلب میں ڈیموکریٹس کی ایک بڑی تعداد شامل تھی اور ان فائلوں کے سامنے آتے ہی یہ پوری جماعت بے توقیر ہو جائیگی۔ لیکن صدر ٹرمپ ان کے اس مطالبے کے جواب میں یہی کہتے رہے کہ اس سکینڈل میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہمیں آگے بڑھنا چاہیئے اور اہم قومی مسائل پر توجہ دینی چایئے لیکن میگا تحریک نے اس تنازع پر اتنا دبائو بڑھایا کہ کانگرس کو نومبر 2025 میں Epstein Files Transparency Act پاس کرنا پڑا جس کے بعدڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے لاکھوں کی تعداد میں ایپسٹین کی فائلیں‘ ویڈیوز اور تصاویر اپنی ویب سائٹ پر لگا دیں۔ ان ویڈیوز اور تصاویر میں امریکی صدور سے لیکر برطانیہ کے شاہی خاندان کے افراد تک سب جیفری ایپسٹین کے ساتھ شیرو شکر ہوتے ہوئے نظر آئے۔ ایک ہزار سے زیادہ نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث اس بھیانک مجرم کے امریکہ اور برطانیہ کی سرکردہ سیاسی اور سماجی شخصیات کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ یہ لوگ تواتر سے دو عشروں تک جیفری ایپسٹین سے ای میل پر پیغامات کا تبادلہ کرتے رہے‘ اس کے جزیروں کی سیر کرتے رہے‘ اس کے جہازوں میں سفر کرتے رہے اور ایک دوسرے کے ساتھ میل جول بڑھا کر اپنے کاروباری مفادات کو فروغ دیتے رہے۔ جیفری ایپسٹین کا اصل مقصد ان طاقتور لوگوں کی کمزوریاں معلوم کر کے انہیں بلیک میل کرنا تھا۔
اس کے حلقۂ احباب میں ایلون مسک اور بل گیٹس جیسے ارب پتی بھی شامل تھے اور برطانیہ کے شہزادہ اینڈریوز مائونٹ بیٹن ونڈسر جیسی نامور شخصیت بھی برسوں تک اس کے پر تعیش کاروبار سے مستفید ہوتی رہی۔ سابقہ امریکی صدر بل کلنٹن نے جیفری ایپسٹین کی گرل فرینڈاور شریک کار گیسلین میکسویل کے ساتھ چار برس تک کاروباری مراسم استوار رکھنے کا اعتراف کیا ہے۔ تیس جنوری کو تین ملین ای میلز اور ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد بل کلنٹن کوتسلیم کرنا پڑا کہ وہ 2002 اور 2003 میں چار مرتبہ جیفری ایپسٹین کے پرائیویٹ جیٹ میں یورپی اور افریقی ممالک کے دوروں پر گئے تھے۔ اب گیسلین میکسویل فلوریڈا کی جیل میں بیس سال کی قید کاٹ رہی ہیں۔ ان پرجون 2022 میں نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہوا تھا۔
جیفری ایپسٹین نے اگست 2019 میں نیویارک کے میٹروپولیٹن کریکشنل سینٹر میں خود کشی کر لی تھی۔ بل کلنٹن نے بعد از خرا بیٔ بسیار House Oversight Committee کے سامنے پیش ہونے کا حکم مان لیا ہے۔نصف درجن سے زیادہ امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز استعفے دے چکے ہیں۔ شہزادہ اینڈریوز مائونٹ بیٹن اپنے تمام شاہی اعزازات اور سہولتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ برطانوی پارلیمنٹ کے کئی ممبروں نے وزیر اعظم کئیر سٹارمر سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دو اعلیٰ عہدوں پر ایسے افراد تعینات کئے تھے جن کے جیفری ایپسٹین سے گہرے تعلقات تھے۔
صدر ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے سب سے بڑے سکینڈل کے پیچھے چھپا ہوا اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایک شخص کیسے اتنا بڑا عالمی نیٹ ورک قائم کر سکتا ہے جس کا دائرہ اثر کئی ممالک کی بااثر شخصیات تک پھیلا ہو ا تھا۔ مغربی میڈیا جس مقدس گائے کا نام لینے سے گریز کر رہا ہے اس کا نام موساد ہے۔ اب تک سامنے آنے والی پانچ ملین سے زیادہ دستاویزات میں سینکڑوں ایسی ہیں جو جیفری ایپسٹین کے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے گہرے تعلقات کا پتہ دیتی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق جیفری ایپسٹین کے سابقہ وزیر اعظم ایہود براک سے دوستانہ مراسم تھے اور وہ طویل عرصے تک اسرائیلی ڈیفنس فورسزاور Jewish National Fund جیسے اداروں کو خطیر رقوم فراہم کرتا رہا تھا۔ ان کاغذات کے مطابق Epstein was an Israeli Intelligence asset. اسکے واشنگٹن میں طاقتور اسرائیلی لابی کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ الجزیرہ ٹیلیء ویژن کی کئی رپورٹوں کے مطابق موساد نے جیفری ایپسٹین کے عالمی نیٹ ورک کے پردے میں امریکہ اور برطانیہ کی حکمران اشرافیہ کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ غزہ میں ہونیوالی نسل کشی بھی اسی گھنائونے سکینڈل کا تسلسل تھی۔ یہ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button