ہفتہ وار کالمز

8فروری 2024کے انتخابات اور اب کیا کریں؟

برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ہائوس آف کامنز میں ایک تحقیقی رپورٹ رکھی گئی ہے، جو 28مئی 2024کو شائع ہوئی، جس کے مطابق، پاکستان کے 2024ء کے عام انتخابات8 فروری کو ہوئے۔اس میں عمران خان کی تحریک انصاف سے منسلک آزاد امیدواروں نے براہ راست قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں جیت لیں۔لیکن حکومت کس نے بنائی؟ مخالفوں کی اتحادی پارٹیوں نے جس کی سربراہی شہباز شریف نے کی۔مزید بتایا گیا کہ قومی اسمبلی کی کل 342سیٹیں تھیں، جن میں سے 272پر انتخاب جیتنے والے بیٹھ سکتے تھے۔ ساٹھ سیٹیںخواتین کے لیے اور دس سیٹیں غیر مسلموں کے لیے مخصوص تھیں۔ اور یہ سیٹیں قومی اسمبلی میں جیتنے والی پارٹیوں کے تناسب سے بانٹیں جاتی تھیں۔اس انتخاب میں آزاد امیدواروں نے جو عمران خان کی پارٹی کے ساتھ تھے، 92سیٹیں لیں، یہ سب پارٹیوں میں سب سے زیادہ تھیں، لیکن حکومت بنانے کے لیے کافی نہیں تھیں۔شہباز شریف نے پی پی پی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ملکرحکومت بنا لی۔
پاکستان کے یہ انتخابات صاف ظاہر تھا کہ دھاندلی زدہ تھے۔ اس میں الیکشن کمیشن کے چیرمین راجہ سلطان سکندر اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی عیسیٰ کی ملی بھگت سے پہلے تو تحریک انصاف کا انتخابی نشان چھینا گیا۔ اس کے نتیجہ میں، لوگوں کوتحریک کے امیدواروں کو ووٹ دینے میں مشکلات ہوئیں، اُن کو بطور آزاد امیدوار انتخابات لڑنے پڑے۔لیکن اور بھی کئی مشکلات کے باوجود لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے تحریک کے امید واروں کو ووٹ ڈالے۔ وکی پیڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ٹی وی پر آنے والی خبروں سے پتہ چل رہا تھا کہ تحریک کے امید وار ایک بڑی تعداد میں جیت رہے تھے۔ ان رپورٹس کے مطابق تحریک کو قومی اسمبلی کی 127ملی تھیں۔جب کہ نون لیگ کو 43 اور پی پی پی کو ۴۷۔ الیکشن کمیشن نے نتائج کے اعلانات روک دئیے۔ان نتائج نے حیرت انگیز انکشافات کیئے۔ سیالکوٹ میں ریحانہ امتیاز ڈار نے 615،131ووٹ لیے اور ان کے مقابل خواجہ آصف کو 615،82 ووٹ پڑے۔ لیکن جب کاٹا پیٹی کے بعد نتائج کا اعلان ہوا تو بتایا گیا کہ ریحانہ کے ووٹ 434،31تھے۔خواجہ آصف کے ووٹ اتنے ہی بڑھا دئیے گئے۔ کچھ اسی قسم کا سلوک تحریک کے رکن سلمان اکرم راجہ کے ساتھ کیا گیا۔
انتخابات کے نتائج کا اعلان کرنے میں الیکشن کمیشن نے کھلی بے ضابطگی کی۔ مختلف بہانوں کے بعد غیر حتمی نتائج بھی دو دن سے زیادہ کی دیر کے بعد بتائے گئے۔ برطانوی جریدہ اکانومسٹ نے کہا کہ پاکستانی معیار کے مطابق بھی یہ تاخیر نا قابل قبول تھی۔صاف پتہ چلتا تھا کہ نتائج کو بدلا جا رہا ہے۔بہت سے امیدواروں نے مقدمات کیے، جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔بلوچستان کے ایک امیدوار نے جب کہا کہ فوج نے دخل اندازی کی تو اسے کرنل صاحب نے جان سے مارنے کی دہمکی دی۔ڈاکٹر یاسمین راشد جو نواز شریف کے مقابلے میں اکثریتی ووٹ لیکر جیتی تھیں، ان کو بھی ہروا دیا گیا۔یہ سب فارم 45کے نتائج فارم 47میں بدلنے سے ہوا۔ اس حرکت میں سول سروس کے اعلیٰ افسران شامل تھے۔13فروری کو ایک پریس بریفنگ میں تحریک کے رکن گوہر علی خان نے بتایا کہ انکی پارٹی نے قومی اسمبلی کی 180سیٹیں جیتی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کی کہ سکندر سلطان کو استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔ تمام مقدموں، احتجاجوں اور شکایتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اس طرح شہباز سریف کی سربراہی میں ایک جعلی حکومت بنا دی گئی۔سوائے خیبر پختون خواہ کے ، باقی سب صوبوں میں پی پی پی اور نون لیگ کی حکومتیں بن گئیں۔
ان انتخابات میں کھل کے دھاندلی کی گئی۔17فروری ، ایک ہفتہ سے زیادہ کے بعد راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر،لیاقت علی چٹھا نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ وہ الیکشنز فراڈ میں شامل تھے جیسے ایک ایسے انتخابی حلقہ میں افسران نے ہر ہارنے والے امیدوار کو ستر ہزار ووٹ ڈال دئیے تا کہ وہ جیت جائیں۔ یہ جیتنے والے نون لیگی امیدوار تھے۔انہوں نے کہا کہ ان کے دفتر نے ایسے امیدواروں کو جتوایا جو ہار رہے تھے، اس کے لیے انہوں نے جعلی مہریں استعمال کیں۔انہوں نے کہا کہ اس حرکت میں چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر اور چیف جسٹس قاضی عیسٰی ملوث تھے۔ان کے اس بیان کے بعد ہر شخص اور ادارے نے جن پر الزام لگایا گیا تھا، مقدمات کر دیئے۔ اورپی ٹی آئی نے بھی ان الزامات کی تفتیش کا مطالبہ کر دیا۔یہ لرزہ خیز بیان دینے کے بعد کمشنر صاحب نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ پی ٹی آئی اور نون لیگ کے ایک سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ سکندر سلطان استعفیٰ دے دیں۔
چٹھا کے بیان کے بعد ٹویٹر (X) پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی۔چٹھہ صاحب کو تھوڑی دیر میں ہی ہوش دلا دیئے گئے اور 22فروری کو انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔سوچنے کی بات ہے کہ ایک شخص جس نے شان و شوکت اور عیش کی زندگی گذاری ہو، اسے چند دنوں میں ہی جیل کی صعوبتوں نے ہوش ٹھکانے لگا دئیے اور وہ سیدھے راستے پر آ گیا۔ لیکن اس نے جو سچ بتا دیا تھا، وہ اب مٹِ نہیں سکتا تھا۔سیاسی تبصرہ نگار زاہد حسین نے کہا کہ کمشنر کا اعترافی بیان کھلی دھاندلی کی نشان دہی کرتا ہے، مانیں یا نہ مانیں۔اور یہ کہ اتنی اعلیٰ پوزیشن کے افسر کے بیان نے ملک کے حالات کو بد تر بنا دیا ہے۔FAFEN نے بیان دیا کے اس کے نمائیندوں کو تقریباً پچاس انتخابی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے عمل کو دیکھنے سے روکا گیا۔ اور ان کے علاوہ درجنوں حلقوں سے بھی۔اس ادارے نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے حلقوں کی جہاں شکایات ملی ہیں، ووٹوں کی گنتی کے عمل کی جانچ پڑتال کرے۔ لیکن اس پرکوئی جواب نہیں ملا۔
6مارچ کو ایک معتبر ادارے PILDAT نے اپنی آزادانہ رائے شائع کی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے انتخابات میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے بارے میں شدید تشویش ہے۔اور یہ کہ ان انتخابات میں غیر جانبدارانہ ہونے پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ آزاد اور منصفانہ تفتیش کروائے۔کتنی مضحکہ خیز بات ہے؟6مارچ کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم کاکڑ نے نون لیگ سے اشارتاً کہا اگر میںفارم ۴۷ کی دھاندلیوں پر سے پردہ اٹھا دوں تو حکومت چاروں شانے چت پڑی ہو گی۔یہ اشارہ فارم ۴۷ میں کاٹا پیٹی کی نشاندہی کرتا تھا۔لیکن جب ان پر زور پڑا تو وہ مکر گئے۔
دلچسپی کی بات ہے کہ منگلا کور کے لیفٹیننٹ جنرل ایمان بلال صفدر سے استعفیٰ دہروا لیا گیا جب انہوں نے کور کمانڈرز کی کانفرنس میں الیکشنز میں دھاندلی پر سوال کیا۔یہ عاصم منیر کی رخصتی کے بعد ان کی جگہ تعینات ہو سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ذاتی اختلافات کی بنا پرفوج پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیئے۔
نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ پاکستانی انتخابات کے نتائج نے بہت سوں کو حیران کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ نون لیگ اکثریت کے ساتھ جیتے گی۔اس کی رپورٹ نے کہا کہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد جو فوج سے متنفر تھی، اس نے تحریک کے حق میں ووٹ دیئے۔ یہ ووٹ فوج کا سیاست میں دخل اندازی پر احتجاج تھا۔یہ بھی کہ اس ووٹ نے فوج کو خاصی شرمناک صورت حال سے دو چار کیا۔اسی لیے انہوں نے عمران خان کو ووٹ ڈالے۔اسی اخبار میں ایک اور مضمون میں، کہ پبلک کا فوج کا سیاست میں دخل اندازی سے بڑھتی ہوئی مخالفت کی وجہ سے فوج یا تو عمران خان سے مفاہمت کر لے گی یا عمران مخالف جتھوں سے مل جائے گی لیکن اس کا انجام اچھا نہیں نکلے گا۔
واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ الیکشنز کے نتائج نے بتایاکہ ملٹری کی طاقت کو پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے، کئی دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ،جب لوگوں نے فوجی امیدوار نواز شریف کو رد کر دیا۔اسکی پارٹی اکثر نشستوں پر ہار گئی۔ایک اور جگہ لکھا گیا کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انتخابات میں نوجوانوں میں ملک کی معاشی حالت پر بے چینی بڑھ رہی ہے، جس کے لیے وہ موروثی سیاستدانوں کی کرپشن کو ذمہ وار قرار دیتے ہیں۔ اس بے چینی کا اظہار سوشل میڈیا میں نظر آتا ہے۔(تعجب نہیں کہ عسکری حاکم ووٹ ڈالنے کی عمر میں اضافہ کا سوچ رہے ہیں)۔اس بے چینی کے اظہار سے شہری قیادت اور عسکریت میں تعلقا ت پر اثر پڑ رہا ہے،جو دیر پا ہو گا۔
فرانس 24نے کہا ’’جنرلز کا الیکشن جو اُلٹا اُنہیں کے خلاف پڑ گیا۔اس نے یہ بھی کہا کہ یہ الیکشن تاریخ کا سب سے زیادہ دھاندلی زدہ تھا۔ فوج کی نواز شریف کی پشت پناہی صاف نظر آ رہی تھی۔ TIME نے لکھا کہ پاکستانی فوج نے ہر وہ طریقہ استعمال کیا جس سے عمران خان کو کھڈے لائین لگایا جا سکتا تھا لیکن ہر بار ناکامی ہوئی۔لیکن فوج پھر بھی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح عمران خان کی پارٹی کو واپس حکومت نہ بنا نے دیا جائے۔اور یہ کہ انتخابات نواز شریف کے لیے باعث شرمندگی تھے۔
اکانومسٹ نے لکھا کہ انتخابات دھاندلی زدہ تھے، لیکن فوج نے اس کے نتائج کو قبول کیا، اس لیے کہ اسے ڈرتھا کہاگر اس نے یہ قبول نہ کیا تو اس کو جو مالی فوائد چاہیئے تھے وہ اسے نہ ملتے۔اور یہ بھی بتایا کہ با وجود ان کی پوری کوشش کے، وہ خاطر خواہ انتخا بات کے نتائج نہیں حاصل کر سکے ، اور عمران خان کو نہیںہروا سکے۔ اس مضمون میں، انتخابی عمل کو بوگس سمجھا گیا، جس کے پیچھے پوری عسکری قوت تھی۔
تمام دنیا کے میڈیا کے تاثرات پڑھ کر کچھ باتیں اظہر من الشمس ہو جاتی ہیں۔مثلاً پاکستانی انتخابات فوج نے یہ سوچ کر کروائے کہ نون لیگ اکثریت کے ساتھ جیتے گی۔لیکن جیتی تحریک انصاف۔
فوج نے اپنا رسوخ استعمال کیا ا ورووٹوں کے نتائج تبدیل کروائے جس میں سول سروس نے پورا تعاون کیا۔انتخابات اس لیے بھی اہم تھے،ایک امریکن جریدہ کے مطابق کہ یہ بغیر فوج کے تعاون کے، ایک اورپارٹی جیت گئی۔حسن عسکری رضوی نے کہا یہ عسکریت کی حکمت عملی پر ایک منفی فیصلہ تھا۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر کے عہدکو فوج کے تاریک تر دنوں سے یاد رکھا جائے گا۔ٹائمز آف انڈیا نے بھی عاصم منیر کو انتخابات کا اولین شکست خوردہ بنا دیا۔
ہاری ہوئی جماعتوں نے مل کر حکومت بنائی تو عمران خان نے کہا یہ دن دیہاڑے کی ڈاکہ زنی ہوئی ہے۔اور ان کو خبردار کیا کہ چرائے ہوئے ووٹوں سے حکومت بنانا خطرے سے خالی نہیں۔
سب جانتے تھے اور پوری دنیا جانتی تھی کہ پاکستان کے انتخابات میں فراڈ کیا گیا لیکن توہے توہے سب نے کیا لیکن کہیں سے داد رسی نہیں ملی۔دنیا کے تاثرات دیکھ کر یہی محسوس ہوا کہ سب چاہتے تھے کہ فوج کامیاب ہو جاتی اور انتخابات میں عوام عمران کے بجائے نوز شریف کو ووٹ ڈالتے۔جب ایسا نہیں ہو سکا اور فوج نے کھل کر دھاندلی کی تو سب خاموش ہو گئے۔عمران خان کی نا کامی سے پاکستان کے دشمن خوش تھے کیونکہ وہ مسلمانوں کو متحد کرنے والا تھا۔ اور یہی اس کی نا کامی کا سب سے بڑا سبب بنا۔اسی وجہ سے وہ جیل سے چھٹنے والا بھی نہیں کیونکہ وہ نہ ڈیل کرے گا اور نہ اپنے اعلیٰ مقاصد کو چھوڑے گا۔
اسی دوران میں پاکستان مالی مشکلات کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے۔ یہ حکومت بجائے اپنے اخراجات کم کرنے کے، اللے تللے اڑانے کے، قرضہ پہ قرضہ لیے جا رہی ہے۔ اور جب قرضہ واپس کرنے کا وقت آتا ہے تو پائوں پڑ کر قرض خواہوں سے واپسی کی مدت بڑھوانے کی درخواستیںکرتی ہے۔ یو اے ای نے، تازہ اطلاعات کے مطابق ایک مہینے سے زیادہ مدت نہیں بڑھائی۔ ایک ہفتہ میں یہ مدت بھی ختم ہو جائے گی اور پاکستان کو دو بلین ڈالر دینے پڑیں گے۔دو بلین کا سوال ہے بابا۔
پاکستان دیوالیہ ہو گا یا کوئی طاقت اسے بچا لے گی، یہ جلد ہی پتہ چلا جائے گا۔اگر انہیں ٹرمپ سے امید ہے تو بھول جائیں۔ ٹرمپ ان کو پھوٹی کوڑی نہیں دے گاوہ لینا جانتا ہے دینا نہیں۔حکومت میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ باہر کے سرمایہ دار پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے۔اب کتنے قومی وسائل بیچیں گے؟ سب بیچ کر بھی دو بلین ڈالر نہیں ملیں گے۔البتہ زرداری اور نواز شریف کی فیملیوں کے پاس سے دو بلین ڈالر تو نکل ہی سکتے ہیں، مگروہ کون نکلوائے گا؟
آخر میں، یہ سوال کرنا تو بنتا ہے کہ کیا فوج اپنے آپ کو پاکستان کا مسیحا سمجھتی ہے؟ سمجھتی ہے تو سمجھے لیکن عوام میں اس کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔ جب دوبارہ الیکشنز ہوں گے تو نتائج مختلف نہیں ہو نگے۔کیا یہ بہتر نہیں کہ عمران خان کے ساتھ صلح کر کے انتخابات کروائے جائیں اور اگر اس کی حکومت بنتی ہے تو بننے دی جائے۔ خواہ ٹرمپ اور ان کے حاکم کو کتنا بھی برا لگے۔ورنہ پاکستان ڈوبتا چلا جائے گا اور کوئی طاقت اسے نہیں بچا سکے گی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button