ہفتہ وار کالمز

جنرل قمر جاوید باجوہ، کیا مکافات اور حساب کا عمل شروع ہو گیا؟

اس ہفتے پاکستان کے نیشنل میڈیا اور دنیا بھر کے سوشل میڈیا میں یہ خبر سر فہرست رہی کہ پاکستان آرمی کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل ہیں اور کوما میں چلے گئے ہیں، جنرل عاصم منیر کے بیانیے کے ترجمان جیو نیوز نے سب سے پہلے یہ خبر دی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پچھلے ہفتے اپنے گھر کے باتھ روم میں برہنہ حالت میں گر گئے جس کے نتیجے میں ان کے سر پر تین مقامات پر شدید زخم آئے اور سر کے اندرونی حصے میں خون بہہ کر جم گیا جس کے بعد انہیں تولیے میں لپیٹ کر نکالا گیا اور سی ایم ایچ ہسپتال پہنچایا گیا۔ جنرل باجوہ اٹھارہ گھنٹوں تک کومے میں رہے، اسی دوران ان کے اہل خانہ اور بیرون ملک میں مقیم بچوں کو بلا لیا گیا کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق جنرل باجوہ کے زندہ بچ جانے کے کم چانسز بچے تھے۔ چوبیس گھنٹے بعد جنرل باجوہ نے اپنے بیوی بچوں کو ذراذرا پہچاننا شروع کیا اور آخری خبریں آنے تک وہ انتہائی نگہداشت کے کمرے میں داخل ہیں اور حالت ابھی تک خطرے سے باہر نہیں ہے۔ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جنرل باجوہ کا دنیا ہی میں اللہ کی طرف سے مکافات عمل کا حساب شروع ہو چکا ہے۔ جنرل باجوہ نے ظلم اور فسطائیت کی جو روایات قائم کیں اس کی بڑی طویل فہرست ہے۔ سب سے بڑی غداری باجوہ نے پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان کو حکومت سے ہٹانے کی سازش کی اور رجیم چینج کی، دوسری بڑی تکلیف دہ بات شہید ارشد شریف کی کینیا میں ہلاکت کی ہے جس کی ایف آئی آر ارشد شریف کی والدہ نے درج کرائی اور ارشد شریف کی ہلاکت کا ماسٹر مائنڈ جنرل قمر جاوید باجوہ کو نامزد کیا تھا۔ جنرل باجوہ کے دور ہی میں سابق وزیراعظم عمران خان پر گولیاں چلوا کر قاتلانہ حملہ کرایا گیا۔ غرض کوئی ایسی فسطائیت اور مظالم نہیں تھے جس کے پیچھے جنرل باجوہ کا ہاتھ نہیں تھا۔ آج وہ شخص ملٹری ہی کے ہسپتال میں موت اور زیست کی کشمکش سے گزر رہا ہے۔
اس تمام روداد میں اگر کوئی لمحۂ فکریہ ہے تو وہ فیلڈ مارشل حافظ کیلئے پنہاں ہے، جنرل عاصم منیر نے پچھلے چند سالوں میں ظلمت کی انتہا کر دی ہے اور جنرل باجوہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، اب اگلا مرحلہ حافظ جی کا ہے۔ اسی ہفتے میڈیا میں وہ مناظر بھی دکھائے کہ جنرل مشرف کی بیوہ ان کی برسی کے موقع پر تن تنہا قبر پر کھڑے فاتحہ پڑھ رہی ہیں جبکہ پاس ان کی ملازمہ بھی کھڑی ہے، وہ جنرل کل تک پاکستان کے سیاہ و سفید کا مالک تھا اور پچیس کروڑ پاکستانیوں پر بڑے طمطراق سے حکمرانی کرتا تھا، آج اس کی قبر پر ایک بھی پاکستانی فاتحہ خوانی کیلئے نہیں گیا۔ اسی شہر اسلام آباد میں ایک اور جنرل ضیاء کی قبر بھی موجود ہے جس میں صرف اس غدار آئین کا جبڑہ مدفون ہے اور وہاں پر کوئی جا کردیکھتابھی نہیں ہے، ہاں البتہ شہر میں ایک بسوں کا اڈا ضرور موجود ہے جسے روزانہ سینکڑوں مرتبہ کنڈکٹرز آوازلگاتے ہیں، جبڑہ چوک آگیا ہے۔تو جناب فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر شاہ، کل آپ کا بھی کچھ ایسا ہی ان جنرلوں کی طرح حشر ہونا ہے، خدا کے گھر دیر ہے، اندھیر نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button