ہفتہ وار کالمز

Civic Sense

یہ 1915 کی بات ہے، پہلی جنگ عظیم شروع نہیں ہوئی تھی بس میدان گرم ہو رہا تھامگر ہندوستان میں انگریز بہادر نے کچھ سرکردہ ہندوستانیوں کوحکم دیا کہ ایک سیاسی جماعت بنالیں سو سیاسی جماعت بن گئی،رات کو چوپالوں، چوباروں،بیٹھکوں میں پوچھا جانے لگا کہ آل انڈیا نیشنل کانگریس کیا ہے اسکولوں اور کالجوں میں طلباء کوسمجھا دیا گیا مگر عوام نا آشنا تھی یہ سادہ لوگ تھے جب ہندوستان میں ریل کی پٹری بچھائی جا رہی تھی تو یہ سادہ لوگ بیڑی یا حقےکا ایک کش لگاتے اور کہتے کہ انگریز پٹری بچھا رہے ہیں یہ ہندوستان کو اس پٹری پر ڈال کر انگلستان لے جائیں گےخیر آل انڈیا نیشنل کانگریس بن گئی مگر لکھنے والے تو لکھتے ہیںCharles Hayesنے ایک کتاب لکھی چارلس نے لکھا کہ ہندوستان میں سیاسی پارٹی کی تشکیل سے پہلے عوام کی آگاہی کے لئے مہم چلائی جانی چاہیئے تھی چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگز ہوتیں عوام کو ان کے نئے سیاسی نظام کے بارے میں بتایا جاتاان کے حقوق کے بارے میں بتایا جاتاتاکہ لوگ سمجھتے کہ وہ کس نئے دور میں داخل ہو رہے ہیںاربابِ اختیار کی غلام گردشوں میں جو گفتگو ہوتی ہے وہ بھی کبھی عوام کی زبان اور سماعتوں کا مزا بدلنے کے لئے لکھ دی جاتی ہیں کہا جاتا ہے کہCharles Hayesکی کتاب پڑھ کر ایک ممبر پارلیمنٹ ہنسا اور اس نے کہا کہ ہم یہی تو نہیں چاہتے تھے قصہ مختصر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک سیاسی جماعت وقت سے پہلے مل گئی جب کہ ہندوستانیوں کو سیاسی جماعت،جمہوریت، انتخاب اسمبلی،پارلیمنٹ، آئین،اور دستور ساز اسمبلی کے بارے میں کچھ پتہ نہ تھاتقسیم کے بعد ہندوستانی دانشور نے لکھا کہ سیاسی جماعت بننے سے پہلے اگر آگاہی مہم چلائی جاتی تو شائد عوام کو سمجھانے میں دس سال لگ جاتے،سو جب چیزیں وقت سے پہلے مل جاتی ہیں تو وہ نقصان دہ ہوتی ہیں،کسی تربیت کے بغیر اگر ایک نوجوان کو لیتھ مشین پر کھڑا کر دیا جائے تو وہ اپنا ہاتھ گنوا بیٹھے گا،جب چیزیں وقت سے پہلے مل جائیں تو ایک ان پڑھ قوم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے ،اور یہی ہوا کہ اٹہتر سال کے بعد بھی بھارت اور پاکستان کے عوام کو جمہوریت کا مطلب نہیں معلوم،جو چیزیں کلچر میں آہستہ آہستہ ضم ہوتی ہیںوہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں،اور لوگ ان کا استعمال سیکھ جاتے ہیںلکڑی کے چولھوں پر کھانا بنانے والیاں جب مٹی کے تیل پر کھانا بنانے لگیں تو ہزاروں جل کر مر گئیں،مٹی کے تیل کے چولھوں سےجب گیس کے چولھوں پر کھانا پکایا جانے لگا تو بے احتیاطی ہوئی اور ہزاروں گھر جل گئےاب گیس کے سلنڈر موت کا سامان ہیں،یہ نوبت نہ آتی اگر تعلیم عام ہوتی جب لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند ہوئے تو یہ تو ہونا ہی تھایہ ایک مثال ہے ورنہ زندگی کے ہر شعبے میں بے شعوری عام ہے اور اس جانب کسی کی توجہ ہے ہی نہیں،نائلون کا کپڑا جب زیر استعمال آیا تو ہزاروں خواتین بڑے بڑے دوپٹے پہننے کی وجہ سے آگ کی لپیٹ میں آگئیں،غلطی نائلون بنانےوالوں کی نہیں تھی نائلون سے کپڑا بنانے والوں کی بھی نہیں،غلطی نائلون کا کپڑا استعمال کرنے والوں کی تھی علم کی کمی تھی اور کچھ روایات کی،اگر شلوار پہن کر کوئی سوئمنگ نہیں کر سکتا تو تین گز کا نائلون کا دوپٹہ اوڑھ کر کھانا کیسے پکایا جا سکتا ہے اب تو کوکنگ کے لئے بھی ایک خاص لباس پہننا ہوتا ہے اگر شہروں میں حادثات نہ ہوں تو شائد لوگوں کو پریشانی ہو جائے سو لوگوں کو پریشانی سے بچانے کے لئے حادثات کا ہونا ضروری ہے حادثات ہوں گے اخبار میں سرخی لگے گی،ٹی وی پر breaking news چلے گی اور گفتگو کو ایک موضوع ملے گا،شہر بے ماجرا ہو جائیں تو جینے کا لطف چلا جاتا ہے ایک نوجوان شاعر نے تو ایک کمال شعر کہہ دیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ محبوبہ کھڑکی میں آئے میں گلی میں بچوں کو لڑا دیا،کراچی میں تواتر سے اور دیگر شہروں میں کبھی کبھار نالوں میں بچوں کے گرنے کی خبریں آتی رہی ہیں بچہ گٹر میں گرتا ہے لوگ بھاگ پڑتے ہیں بچے کی تلاش شروع ہوتی ہے شور اٹھتا ہے اس وقت تک بچہ گٹر میں بہتا ہوا کئی میل جا چکا ہوتا ہے لوگ سڑک بلاک کرکے احتجاج کرتےہیں اور میڈیا بھاگ پڑتا ہے بریکنگ نیوز بنتی ہے کہ چار سال کا بچہ گٹر میں گر کر مر گیا، لاش نکالی گئی اس کے بعد ہرچینل پر تبصرے اور تجزئے،حکومت کو لعن طعن،ویسے بھی کسی دن حکومت کو گالی دئے بغیر سونے کی کوشش کریں تونیندنہیں آتی،حکومت کو گالی دیں گے تب ہی نیند آئے گی مگر کوئی بچے کے گھر والوں سے یہ نہیں پوچھے گا کہ جب آپ کو معلوم ہے کہ گلی کا گٹر کھلا ہوا ہے ڈھکن غائب ہے تو بچے کو کھیلنے کے لئے گلی میں کیوں چھوڑا گیا اور آج کے دور میںوہ کون سا کھیل ہے جو گلی میں کھیلا جاتا ہے،شائد یہ سوال پاکستان میں عجیب لگیں مگر امریکہ اور مغرب میں اسے عام زبان میں Negligenceکہا جاتا ہے جس کا والدین کو جواب دہ ٹہرایا جاتا ہے،مگرپاکستان میں یہ سوچ ہی نہیں،کراچی میں گل پلازا کی آگ لگنے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ بچے ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے یعنی ماچس اور لائٹر کھیلنے کی چیز ہے،کراچی میں ایک بچہ ماں کی انگلی چھڑا کر کھلی سڑک پر بھاگااور گٹر میں جا گراکیا آپ بچے کو کھلی سڑک پر چھوڑ سکتے ہیں ،لاہور میں داتا دربار کے پاس ماں اور بچی گٹر میں جا گرے، فیصل آباد میں ایک تین سالہ بچی علاقے کے گندے جوہڑ میں ڈوب کر مر گئی،چند دن بعد ایک اور بچہ پاؤں پھسلنے سے اسی گندے جوہڑ میں جا گرا،کراچی میں گزشتہ ایک ماہ کے اندر بچوں کے گٹر میں گرنے کے گیارہ واقعات ہو چکے ہیں اور مرنے والے بچوں کی عمریں تین سال سے چھ سال تک ہیں،آج چونیہ میں تین سال کا بچہ باپ کے ساتھ گھر سے باہر گیا اور گٹر میں گر گیابچوں کے گٹر اور نالوں میں گرنے کے واقعات ہوتے ہیں شہر میں شور مچ جاتا ہے میڈیا کو تماشہ لگانے کا موقع مل جاتا ہے اور حکومتوں کو گالیاں پڑتی ہیں،حکومتیں گٹر اور نالے بند کرنے کے وعدے کرتی ہیں لواحقین کو کچھ رقم دی جاتی ہے غریب کو ایک کروڑ مل جاتا ہے وہ خوش ہو جاتا ہے اور بات رفع دفع ہو جاتی ہے این جی اوز جو بچوں کے حقوق کی علمبردار بنتی ہیں وہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھی رہتی ہیں اور کبھی آواز نہیں اٹھاتیں اور نہ ہی والدین کو ان مسائل پر ان کی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہیں،ہم نے سنا ہے کہ child protectionکے مسائل پر کام کرنے والی این جی اوزڈر کے مارے والدین سے رابطہ نہیں کر پاتیں ،ایک خبر کے مطابق ایک واقعہ پر ایک این جی او نے والدین سے رابطہ کیا اور حادثے کی تفصیلات جانناچاہیں،خاندان نے نہ صرف این جی او سے بات کرنے سے انکار کردیا بلکہ این جی او کے ممبران کو زود و کوب بھی کیاچند دن بعد معلوم ہوا کہ لواحقین نے دیت لے کر معاملہ دبا دیاایک روائیت بن چکی ہے کہ ہر حادثے پر یا تو دیت کے اسلامی قانون کا سہارا لے کر لواحقین کا منہ بند کر دیا جاتا ہے یا حکومت اپنی انتظامی بد اعمالی کو چھپانے کے لئے ورثاء کا منہ پیسوں سے بھر دیتی ہے لوگوں کو easy moneyکی عادت پڑ چکی ہے وہ اپنے بچوں کی لاشیں بیچنے سے بھی نہیں چوکتے اس سوچ پر ہی کراہیئت آتی ہے،یہ لالچ کی قبیح صورت ہے ہر چند کہ حکومتیں عوامی فلاح اور عوامی حفاظت پر کم توجہ دیتے ہیںمگر ایک چیز Civic Sense بھی ہوتی ہے یہCivic Senseآپ کے اندر کی Gut Feeling ہے جو آپ کو بتا دیتی ہے کہ آپ کو اپنی حفاظت کے لئے کیا کرنا ہے،گرد و غبار میں ماسک پہننا ہے،ایمرجنسی میں پولیس کو کال کرنی ہے بچوں کو ایسی کوئی چیز نہیں دینی جو ان کو نقصان پہنچائے ماچس، چاقو،چھری،قینچی ،پلاسٹک بیگ،کھلونے نہیں یہ چیزیں بچوں کو نہیں دی جا سکتیں،مجھے نہیں معلوم وہ کون لوگ ہیں جو بچوں کی حفاظت سے اتنے بے خبر رہ سکتے ہیں،تین سال کے بچوں کو گلی میں کھیلنے کے لئے اکیلا کیسے چھوڑا جا سکتا ہے جب کہ سب کو معلوم ہے کہ گلی اور سڑکوں کے مین ہول کھلے ہوئے ہیں،ایک اندازے کے مطابق تین سے سات سال کے بچوں کے گٹر یا نالے میں ڈوبنے کی وجہ والدین کی ہوتی ہے اور یہ شرح 70%ہے مگر Mob Angerاور میڈیا کے شور مچانے کہ وجہ سے معاملہ لے دے کر دبا دیا جاتا ہے،مہذب ممالک میں child welfare/child protectionبہت اہم سمجھا جاتا ہے اگر والدین ذمہ دار نہ ہوں توchild protection bureauبچے کو والدین سے چھین کر لے جا سکتا اور پھر child custodyکا فیصلہ عدالت کرتی ہے،پاکستان میں سیاسی جماعتیں لوگوں کو قانون توڑنا سکھاتی ہیں حال ہی میں کم سنی کی شادی کو ممنوع قرار دینے کا قانون پاس ہوااور مولانا فضل الرحمن اور حافظ حمد اللہ نے اس قانون کو توڑنے کا اعلان کر دیا پھر کیا تھا سوشل میڈیاکم سن بچوں کی شادی کی تقریبات کی ویڈیو اپ لوڈ کر دی گئیںاور اسے عین شرعی عمل گردانا گیاٹریفک لائزکی دانستہ خلاف ورزی،بلا جواز ہوائی فائرنگ،ون ویلنگ،خواتین کو ہراساں کرنا،دوسری شادی کو Glamorizeکرنا،معاشرے کے عمو می روئیے ہیںمعاشرے سے اپنی ہی بھلائی کی سوچ ناپید ہو چکی،بس حیوانی اور شیطانی عمل قابلِ توجہ ہےCivic Senseایک طرف آپ کو مہذب بناتا ہے تو دوسری طرف یہ آپ کا اپنا دفاع بھی ہے۔پاکستان میں یہ احساس شائد ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button