ہفتہ وار کالمز

حملے کے جواز کی تلاش!!

صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کانگرس‘ عدالتوں ‘ میڈیا اور مقبولیت کے سرویز کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ یہ اگر درست ہے تو ایران پر اب تک حملہ ہو جانا چاہیئے تھا۔ امریکہ کا تباہ کن بحری بیڑہ ابراہام لنکن اور اسکے جنگی طیارے کئی دنوں سے بحیرہ عرب میں اپنے کمانڈر انچیف کے حکم کے منتظر ہیں۔ یہ فائٹر جیٹ ‘ ٹوما ہاک اور کروز میزائیلوں سے لیس ہیں۔ اسوقت پورا مڈل ایسٹ انکے نشانے کی زد پر ہے۔ پھر ایران پر حملے میں تاخیر کا سبب کیا ہے۔ صدر ٹرمپ آئے روز خامنہ ای حکومت کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف سے ایران کے سپریم لیڈر بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہے ہیں۔ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ایران نے اگر مذاکرات کے ذریعے معاملات طے نہ کئے تو پھر امریکی افواج برق رفتاری اور پوری طاقت کے ساتھ حملہ کریں گی۔ اسکے جواب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اس مرتبہ ہونے والی جنگ صرف ایران تک محدود نہ ہو گی بلکہ وہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہو جائے گی جس کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ خلیجی ممالک میں ہر جگہ امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جاے گا۔ ان حملوں کی زد میں سعودی عرب‘ قطر اور متحدہ عرب امارات بھی آئیں گے۔ عرب ممالک پہلے ہی امریکہ کو ایران پر دوسرا حملہ نہ کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ اس حملے سے اجتناب کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اسرائیل اسوقت ایک بڑی جنگ کے لیے تیار نہیں ہے۔ نتن یاہو جانتا ہے کہ اس مرتبہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں نے اسکے شہروں کو نشانہ بنانا ہے۔ گذشتہ جون میں تہران نے اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا مگر اس بار خامنہ ای حکومت کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ اپنے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
اس منظر نامے کو دیکھتے ہوئے صدر ٹرمپ ترکی اور قطر کی وساطت سے ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ رواں ہفتے میں استنبول میں شروع ہونے والے ان مذاکرات سے پہلے ہی صدر ٹرمپ نے کہہ دیا ہے کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی بند کرنا ہو گی‘ بیلسٹک میزائل بنانے پر بھی پابندی ہو گی اور ملیشیا تنظیموں کو بھی ختم کرنا ہو گا۔ اسکے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراغچی نے کہا ہے کہ انکے ملک کی قومی سلامتی سے جڑے ہوے کسی بھی مسئلے پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران حکومت 28 دسمبر سے 14 جنوری کے درمیان ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے باوجود امریکہ کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہیں۔
دوسری طرف صدر ٹرمپ ملک کے اندر اور باہر ماورائے آئین اقدامات کرنے کے باوجود ایران پر حملے کے معاملے میںلپکنے اور جھپٹنے سے گریز کر رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ وہ وینزویلا اور ایران کے فرق کو سمجھتے ہیں۔ امریکہ اگر چہ کہ خلیجی ممالک سے تیل برآمد نہیں کرتا مگر دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے منفی اثرات امریکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کے انداز حکمرانی کے خلاف ملک کے اندر پائی جانے والی بے چینی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مزید اضافے کا باعث بنیں گی۔ چند روز پہلے تک اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا رہا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران پر بھی وینزویلا کی طرح حملہ کرکے آیت اللہ خامنہ ای کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے لیکن بحیرہ عرب اور خلیج فارس میں مطلوبہ جنگی سازو سامان پہنچا دینے کے باوجود وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اس ہچکچاہٹ کا اندازہ انکے سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔ سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی کے اجلاس میں ان سے پوچھا گیا کہ اگر امریکی حملے کے نتیجے میں ایران کی حکومت ختم ہو جاتی ہے تو پھر کیا ہو گا۔اسکے جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ کوئی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ تہران حکومت ایک طویل عرصے سے قائم ہے۔ ” So that is going to require a lot of careful thinking, if that eventuality ever presents itself.” صدر ٹرمپ کے سیکرٹری آف سٹیٹ حیران کن طور پر محتاط سوچ بچار کی بات کر رہے ہیں۔ تو کیا ٹرمپ انتظامیہ ایران کو شام اور لیبیا کے انجام سے بچانا چاہتی ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ صدر ٹرمپ تو جلد از جلد ایران کے حصے بخرے کر کے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی سپر پاور بنانا چاہتے ہیںمگر ایک بڑے حملے کے لیے انہیں کسی جواز کی ضرورت ہے۔ جنوری میں ایران کے مظاہرین کو انہوں نے پیغام دیا تھا کہ Help is on the way اسوقت انکا خیال تھا کہ جو کام امریکی فوج نے تہران میں کرنا تھا وہ ایران کے عوام کر دکھائیں گے مگر ایسا نہ ہوا مظاہرین واپس چلے گئے۔ انہیں سمجھ آ گئی کہ امریکہ رضا شاہ پہلوی کی واپسی کا بندوبست کر رہا ہے۔ اب صدر ٹرمپ کا "Armada” تو دشمن کی سرحدوں تک پہنچ چکا ہے مگر مظاہرین واپس جاچکے ہیں۔ جنگی جہازوں کے اس بیڑے پر ہر روز جو زر کثیر صرف ہو رہا ہے اسکا کیا جواز پیش کیا جائے۔ جون کے مہینے میںایران کی Natanz اور Fodrow ایٹمی تنصیبات پر بنکر بسٹر بموں کے حملے کے بعد صدر ٹرمپ کہہ چکے تھے کہ انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ اب پوچھا جا رہا ہے کہ ان تباہ شدہ تنصیبات پر دوبارہ حملے کی کیا ضرورت ہے۔ جو بات سمجھائے بغیر بھی امریکی عوام کی سمجھ میں آ جاتی ہے وہ اسرائیل کی حفاظت ہے۔ ظاہر ہے کہ ایران کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے اس لیے صدر ٹرمپ اگر اپنا "Armada” لیکر وہاں پہنچ گئے ہیںتو اسکا یہی جواز کافی ہے۔ امریکی معیشت پر اس ممکنہ حملے کے اثرات البتہ ٹیڑھی کھیر والا معاملہ ہے۔ امریکہ میں اسرائیلی لابی اور اسکے زیر اثر میڈیا اسکا بھی کوئی حل تلاش کر لیں گے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button