ہفتہ وار کالمز

گل پلازا کی آگ!!

حادثے ہوتے ہیں حادثے ہوتے رہتے ہیںحادثے ہوتے رہیں گے کچھ حادثات کی روک تھام کی جا سکتی ہے کچھ حادثات کم کئے جا سکتے ہیں اور کچھ کا مکمل سد باب کیا جا سکتا ہے،حادثات کی روک تھام،حادثات کم کرنے اور حادثوںکا مکمل سد باب کرنے میں انتظامیہ کی Willدرکار ہوتی ہے اگر ارادہ موجود ہے تو حادثات کو کم کیا جا سکتا ہے حادثات کی روک تھام یا حادثات کو کم کرنے کے پیچھے ایک فلسفہ ہے اور وہ یہ کہ انتظامیہ یا حکومت اپنے شہریوں کا کتنا احترام کرتی ہے، شہریوں سے کتنی محبت کرتی ہے مگر اس سے آگے بڑھ کر ایک اور اعلی مقام ہے وہ احترامِ آدمیت ہے انسانیت سے پیار ہے اگر انسان اور انسانیت سے پیار ہے تو حادثات کی شرح بہت کم ہو جائے گی مگر سیاست میں انسان سے پیار کی جگہ مفاد نے لے لی ہے جب شہریوں نے حکومتوں کی توجہ میں کمی دیکھی تو بات مختلف رخ اختیار کر گئی،شہریوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں لہٰذا شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور حکومت کو چاہیئے کہ شہریوں کی حفاظت کے لئے Safety Measurures لینے چاہیے آج سے دو سال قبل انگلستان کی ایک کاؤنٹی کی اسمبلی سے ایک کمپنی نے رابطہ کیا اور اربابِ اختیار سے کہا کہ ہم کاؤنٹی میںآگ بجھانے کا کام کر سکتے ہیں یہ حیران کن پیش کش تھی کاؤنٹی کی انتظامیہ نے پیش کش قبول کر لی کمپنی نے اس علاقے میں آگ بجھانے کے کئی معرکے سر کئے مگر اخراجات زیادہ ہونے کے سبب کمپنی نے کاؤنٹی نے معذرت کرلی کمپنی بند ہوئی تو شہریوں نے donationsدینا شروع کر دیئے اور کمپنی سے کہا کہ وہ اپنا کام جاری رکھے بعد ازاں کاؤنٹی نے شہریوں پر ہلکا سا ٹیکس عائد کر دیا اور آگ بجھانے کہ ذمہ داری خود لے لی اگر اخراجات زیادہ ہوتے تو اس کمی کو عطیات سے پورا کر لیا جاتا یہ تجربہ اتنا کامیاب ہوا کہ انگلستان کی تمام counties نے آگ بجھانے کی ذمہ داری خود سنبھال لی۔ اسکاٹ لینڈ میں یہ کام Insurance companies نےشروع کیا جو کامیاب رہا ،یہ وہ دور تھا جب ادب انسان پرستی اور انسان شناسی کے بارے میں تحریر ہو رہا تھا اور لوگوں کو متاثر کررہا تھا،مغرب نے یہ روش چھوڑی نہیں اور یکے بعد دیگرے آگ بجھانے کی مشینوں کی ایجادات ہوتی رہیں اور شہری اپنے آپ کو بہت محفوظ محسوس کرنے لگے ایسٹ انڈیا کمپنی کچھ ابتدائی مشینیں لے کر ہندوستان پہنچ گئی اور فائر بریگیڈ کا پہلا اسٹیشن کلکتہ میں بنایا گیا صرف تیس سال کے عرصے میں فائر بریگیڈ اسٹیشن ملک کے ہر بڑے شہر میں بنائے جا چکے تھے۔ انڈیا میں زیادہ تر عمارات اینٹوں کی بنی ہوئی ہوتی ہیں ان میں شاذ ہی آگ لگتی تھی مگر چھوٹی دکانیں اور مارکٹس میں آتشزدگی کے واقعات ہوتے رہتے تھے سو آگ بجھانے کا کام میونسپلٹی کے حوالے کر دیا گیاتقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان میں فائر بریگیڈ اسٹیشن تو موجود تھے مگر ان کو جدید بنانے کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے1980 کی دہائی کے بعد نئی عمارتوں میں بجلی کے ناقص میٹیریل اور workmenshipکی وجہ سے آتشزدگی کے واقعات بڑھنے لگے،ٹریفک حادثات میں یہ عذرتراشا جاتا کہ گاڑی کی ٹائی راڈ ٹوٹ گئی جب ہر آتشزدگی میں یہی کہا گیا کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوئی شارٹ سرکٹ سے آگ electritionکی غفلت اور ناقص پیشہ ورانہ مہارت سے لگتی ہے،غیر منقسم ہندوستان میں سو سال کے عرصے میں شارٹ سرکٹ سے کبھی کوئی آگ نہیں لگی جب کہ تقسیم کے بعد بھارت میں ان حادثات کی تعداد تیرہ لاکھ سے تجاوز کر گئی اور پاکستان میں 1980کے بعد آتشزدگی کے واقعات ستائیس لاکھ رپورٹ ہوئے ،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک میں حکومتوں کو اپنے شہریوں کی حفاظت کی کتنی فکر ہے گل پلازا کی آتشزدگی کے بعد میڈیا نے رپورٹ کیا کہ 2025 میں صرف کراچی میں آتشزدگی کے 2600 واقعات ہوئے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سندھ حکومت کو اپنے شہریوں کی حفاظت کی کتنی فکر ہےایک رپورٹ کے مطابق گل پلازا کی زمین ایسٹ انڈیا کمپنی نے نناوے سال کی لیز پر 1883میں حاصل کی یہ لیز 1983میں مکمل ہونے کے بعد اس زمیں کو جنیکا نامی کمپنی نے خرید لیا میئر افغانی کے زمانے میں یہ زمین بیچی گئی جنیکا کمپنی نے اس زمین پر لیز مکمل ہونے سے قبل ہی تعمیرات شروع کرادیں پھر فاروق ستار نے یہ زمین سات روپے فی گز کے حساب سے بیچ دی ناظم نعمت اللہ کے زمانے نے اس عمارت کا ایک فلور regularizeکرنے کے احکامات دئے پی پی پی کے قادر پٹیل کے بیان کے مطابق ایم کیو ایم کے ایک بدنام کردار گوگا نے اس عمارت کی تعمیر میں خاص کردار ادا کیا1983سے تا حال عمارت کی تعمیر میں شدید بے ضابطگیاں تھیں جن میں exist door کا نہ ہونا، فائر equipmentکی عدم موجودگی،ناقص electrification،ناقص مٹیریل شامل ہے،یہ رپورٹ کیا گیا ہے کہ اس عمارت میں ضرورت سے زیادہ دکانیں بنا دی گئی تھیں جس کی وجہ سے بے شمار خریدار اس مارکیٹ میں ہر وقت موجود رہتے تھے اور کھوئے سے کھوا چھلتا تھا،زیادہ دکانیں زیادہ کرایہ حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی تھیںدکانداروں میں منافع کی ہوس حرص تھی لہٰذا انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ کسی ہنگامی صورت میں صورتِ حال سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے آگ بجھانے کے چھوٹے آلات نہ پراپرٹی نے لگائے نہ ہی دکانداروں نے ان کی ضرورت محسوس کی،اور لطف یہ کہ سندھ حکومت کے building departmentنے آنکھیں میچ لیںنہ کسی certficateکی جانچ پڑتا ل کی نہ کوئی licence جاری کیا اور گمان یہی ہے کہ سب کام under the tableچلتا رہااس پورے غیر قانونی عمل نے گل پلازا کی آتش زدگی میں 88 سے زیادہ انسانی جانیں نگل لیں،سیاست دانوں کو معلوم ہے کہ چند دن شور و غوغا ہوگااور پھر سب بھلا دیا جائیگااس قوم کی یاداشت ہی کتنی،اور اس قوم کی بے حسی بیکراں، جس کا کوئی کنارا ہی نہیں،اسی دروان جیکب آباد میں چھ پولیس افسران نے تین لڑکیوں کا سات دن تک ریپ کیا اور وہ پولیس افسران پکڑے گئے مگر گل پلازا کی آتش زدگی کا واقعہ ہاٹ ایشو تھا لہٰذا میڈیا کا سارا فوکس آتشزدگی پر رہا ،اور میڈیا کے اکثر چینلز نے جیکب آباد ریپ کیس رپورٹ ہی نہیں کیا،میڈیا کی اپنی ترجیہات ہیں مگر دکھ اس بات پر ہے کہ آٹھ دن تک گل پلازا کے سامنے کھڑا رہنے کے باوجودمیڈیا کوئی بڑی خبر نہیں نکال سکا مگرٹاک شوز میں آگ اگلی جاتی رہی ۔
گل پلازا کی آگ لگنے کی بہت سی وجوہات ہیں تحقیقات کی جائیں تو دوکانداروں سے لے کر سندھ حکومت ،سندھ حکومت کا بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ ، سیاسی جماعتیں،خریداروں کا رویہ،سب ہی کسی نہ کسی طرح قصور وار ہیں،ہمارا میڈیا نا بالغ میڈیا ہے اس میڈیا نے آج تک کسی مسئلے کا آج تک کوئی حل نہیں نکالا، میڈیا کی مثال اس پھل فروش کی ہے جو سڑے گلے پھل ٹوکری میں لئے بیٹھا ہے اور تازہ پھل لے لو کی آوازیںلگا رہا ہے،گل پلازا کی آگ پر سندھ حکومت،ایم کیو ایم باہم دست و گریباں ہیں،آگ لگی تو بات اٹھارویں ترمیم،نئے صوبے بنانے، اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات سامنے آگئی،وفاق اگر اتنا ہی مستعد ہوتا تو وہ اسلام آباد کو ہی رشکِ جنت بنا دیتا،مگر ایسا نہیں ہے جہاں تک سندھ کا تعلق ہے اس کی حالت سب کے سامنے ہے صرف سہیل وڑائچ کو اندرون سندھ ترقی نظر آتی ہے،جب کہ اصول یہ ہے کہ پہلے شہری علاقوں کو ترقی دی جاتی ہے کیونکہ وہاں ترقی کا potentialزیادہ ہوتا ہے شہری علاقوں کی ترقی کے اثرات دیہی علاقوں پر بھی پڑتے ہیںمگر یہ پی پی پی کا جادو ہے کہ اندرون سندھ ترقی نہ ہونے کے باوجودپی پی پی کو ووٹ ملتا ہے اس کی وجہ سندھ کا مضبوط وڈیرہ شاہی نظام ہے،جہاں پی پی پی کو اپنے سترہ سالوں کا حساب دینا ہے وہاں ایم کیو ایم کو بھی اپنے تیس سالہ اقتدار کا حساب دینا ہے اس وقت ایم کیو ایم کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح سندھ حکومت پرگل پلازا کی آتش زدگی کا الزام اسی طرح لگ جائے جیسا ایم کیو ایم پر بلدیہ فیکٹری کی آتش زدگی کا الزام ہے،جب قومی اسمبلی میں خواجہ آصف یہ کہہ رہے تھے کہ اٹھارویں ترمیم ڈھکوسلہ ہے اس وقت خالد مقبول صدیقی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور فاروق ستار عقب میں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ خواجہ آصف کو ایم کیو ایم کی حمائیت حاصل تھی گل پلازا کی آگ کو سیاسی بنانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے تنویرپاشا جو یونین کے صدر ہیں وہ اس اعلان سے خوش ہیں کہ ہر دکاندار کو ایک ایک کروڑ دیا جائے گامگر ایم کیوایم سندھ حکومت کو ذمہ دار ٹہرانے کی کوشش کر رہی ہے،ہر چند کہ فائر بریگیڈ کے افسران نے ٹیکنیکل وضاحت دے دی ہے مگر فاروق ستاراور نئے دُھلے دُھلائے حیدر عباس رضوی عوام کو ورغلانے کا مناسب سامان کر رہے ہیں بات یہ ہے کہ حکومتوں کو اقتدارسے مطلب ہے شہریوں سے محبت نہیں انسان دوستی اور انسان ترسی تو دور کی بات ہے سیاست درندگی بن ہی گئی ہے عوام کی حفاظت اب یہ درندے تو کرنے سے رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button