ہفتہ وار کالمز

غزہ بورڈ آف پیس کا مستقبل!!!

گذشتہ سال ستمبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے بیس نقاط پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔ اسے نافذ کرنے کے لیے ایک ایسے بورڈ آف پیس کی تجویز دی گئی تھی جس کے چیئر مین کے لیے صدر ٹرمپ کا نام پیش کیا گیا تھا۔ نومبر میں سیکیورٹی کونسل نے بورڈ آف پیس کو قرارداد 2803 کے تحت غزہ میں امن قائم کرنے ‘ امدادای کاروائیوں کوبلا تاخیر جاری رکھنے‘ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا‘ حماس کو غیر مسلح کرنے اور جنگ زدہ علاقے میںنظم ونسق سنبھالنے کا مینڈیٹ دیا۔ اس قرارداد کے حق میں تیرہ اور اسکے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا تھا۔ چین اور روس نے غیر جانبدار رہتے ہوئے اس پر اعتراضات کئے تھے۔ چین کے نمائندے نے اسے مبہم اور غیر واضح قرار دیتے ہوے کہا تھا کہ اس میں فلسطین کہیں نظر نہیں آرہا۔ چین نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ اقوام متحد ہ کو دنیا بھر میں تنازعات پر امن طریقے سے طے کرنے کا وسیع تجربہ ہے لیکن اس ادارے نے اس قرارداد میں کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پاکستان کے نمائندے نے کہا تھاکہ اس قرارداد میں تنازعہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
اسکے بعد بورڈ آف پیس میں ایک اہم پیش رفت گذشتہ ہفتے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران ہوئی۔ اس موقع پر بورڈ کے پہلے اجلاس میںانیس ممالک نے شرکت کی ۔ اس بورڈ میںاب تک59 ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ اس اجلاس میںامریکہ نے ایک ایسی دستاویزپیش کی جس میںغزہ میںقانون کی عملداری قائم کرنے اور ایک شہری حکومت کے قیام کے لیے ایک روڈ میپ دیاگیا تھا۔ اس دستاویز میں کچھ ایسے نقاط بھی تھے جن پر چند یورپی ممالک نے سخت اعتراضات کیے اور انہیں سیکیورٹی کونسل کی اوپر بیان کردہ قرارداد کی رو گردانی قرار دیا۔ امریکی دستاویز میں بورڈ آف پیس کے چئیر مین ڈونلڈ ٹرمپ کو لا محدود اختیارات دیئے گئے ہیںاور انکے کسی بھی حکم کو تبدیل یا منسوخ کرنے کا اختیار بورڈ کے کسی ممبر کو بھی حاصل نہیں۔ اس منصوبے پر سب سے زیادہ اعتراض فرانس کے صدر ایمنو ول میکرون نے کئے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ پلان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس میں اقوام متحدہ کے دئے گئے مینڈیٹ اور اسکے وضح کردہ فریم ورک کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد میں دیا ہوا مینڈیٹ صرف غزہ تک محدود ہے لیکن امریکی دستاویز میں اسکا دائرہ اختیار پورے مشرق وسطیٰ تک پھیلا ہوا ہے۔اسکے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ فرانس سے امریکہ کو برآمد کی جانے والے مشروبات پر 200 فیصد ٹیرف لگا دیں گے۔ امریکی حکام نے اس دستاویز کو غزہ امن بورڈ کا چارٹر قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ یہ جنگ سے تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں پائیدار امن قائم کرنے میں رہنمائی فراہم کرے گا۔ عالمی میڈیا میں اس پر ہونیوالے تبصروں کے مطابق یہ چارٹر امریکہ کو غزہ کے علاوہ دوسرے بین الاقوامی تنازعات کے تصفیے کا حق بھی دیتا ہے۔ فرانس‘ برطانیہ ‘ سپین اور چند دیگر ممالک نے اس پر تنقید کرتے ہوے کہا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے متوازی ایک نیا عالمی ادارہ قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
صدر ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ وہ اس بورڈ آف پیس کے تا حیات چیئر مین ہوں گے۔ لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدت صدارت پوری ہونے کے بعد بھی اس امن بورڈ کے سربراہ رہنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی خواہشات اور ارادوں سے قطع نظر اس امن بورڈ کو کچھ ایسے خطرات لاحق ہیں جو اسکے لیے زہر قاتل ہیں۔ اس بورڈ آف پیس کے سب سے بڑے مخالف اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو ہیں۔ سال رواں کے آخر میں اسرائیل میں انتخابات ہونے ہیں اور اگر اسوقت تک حماس نے ہتھیار نہ پھینکے تو نتن یاہو کے لیے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا نہایت مشکل ہو جائے گا۔ حماس اسوقت غزہ کے 47 فیصد حصے پر قابض ہے اور وہ تیزی سے اپنے قدم جما رہی ہے۔ باقی کے 53 فیصد حصے پر اسرائیلی فوج کا قبضہ ہے اور وہ وہاں سے جانے پرآمادہ نظر نہیں آتی۔ اگلے چند ماہ میں اگر حماس غیر مسلح نہیں ہوتی اور اسرائیلی فوج بھی غزہ میں موجود رہتی ہے تو اسے بورڈ آف پیس کی ناکامی سمجھا جائے گا۔ اسرائیل اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں چھ سو سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ نتن یاہو اگر جنگ بندی کو اہمیت نہیں دے رہا تو وہ بورڈ آف پیس سے کیسے تعاون کرے گا۔
امن بورڈ سے متعلق یہ تنازعات اگر یہاں تک محدود ہوتے تو شاید ان پر قابو پایا جا سکتا لیکن انکا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ صدر ٹرمپ کے داماد جئیرڈ کشنر اسوقت اسرائیل میں نتن یاہو سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے زیر تسلط غزہ کی پٹی میں بہت جلد ہوٹل‘ کسینو‘ کلب‘ ریسٹورنٹ اور فلک بوس عمارتیں بنانا چاہتے ہیں۔ وہ نتن یاہو سے بورڈ آف پیس کے احکامات کی پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے انہیں کہا ہے کہ The next phase is the disarmamament of Hamas and the demilitarization of the Gaza strip. It is not reconstruction. اسکا مطلب یہی ہے کہ مال غنیمت کو تقسیم کرنے میں دونوں اتحادیوں کے مابین تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ دو سال قبل غزہ کو ایک بڑے تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے۔ اب انہیں اس خواب کی تعبیر مل رہی ہے تو انکا دوست نتن یاہو انکے راستے کی دیوار بن رہا ہے۔ اس جھگڑے کا کیا انجام ہوتا ہے اسکے لیے ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ اور نتن یاہو دونوں کے پاس وقت بہت کم ہے اور دونوں جلد از جلد اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے فتح جس کی بھی ہو مظلوم اور بے سہارا فلسطینیوں کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا اور بورڈ آف پیس کے ممبر ممالک بھی ہاتھ ملتے رہ جائیںگے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button